علم کا مسئلہ ”کون“ یا ”کیا“؟ (1) - سید منظور الحسن

علم کا مسئلہ ”کون“ یا ”کیا“؟ (1)

 

اطلاق کے لیے اصول، شرح کے لیے متن اور فرع کے لیے اصل کو بنیاد بنانا؛ غیر مستند کے لیے مستند کا حوالہ دینا؛ حاضر کے لیے ماضی کی نظیر پیش کرنا اور کسی علم و عمل کی تائید یا تردید کے لیے نصوص سے استدلال کرنا مسلمہ علمی رویہ ہے۔ اہل علم کے لیے اس سے مفر ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ کوئی حاصل تحقیق اگرسائنسی لحاظ سے درست ہے، کوئی نتیجۂ فکر اگر علمی طور پر صحیح ہے، کوئی موقف اگرفنی اعتبار سے بجا ہے، کوئی تحریر اگر کسی مستند دستاویز سے ہم آہنگ ہے یا کوئی تقریر اگر کسی ثابت شدہ تاریخی حقیقت سے مطابقت رکھتی ہے تو علم و عقل کی رو سے اسے قبول کرنا لازم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اس بات کی کسی متحقق اور معتبر حوالے کے ساتھ نسبت یا مطابقت کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر وہ حوالہ ہی ہمارے لیے فیصلہ کن ہوتا ہے۔ گویا اس صورت میں ہم اس بات کو خود اس کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس استناد کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں، جس سے ہمارے نزدیک وہ وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ہم اس کو رد کریں یا درخور اعتنا نہ سمجھیں تو یہ رویہ درحقیقت اس اصل کو رد کرنے یا اس سے بے اعتنائی برتنے کے مترادف ہوتا ہے جس پر یہ حاصل تحقیق، یہ نتیجۂ فکر، یہ موقف یا یہ تحریر وتقریر مبنی ہے۔

یہ خالص علمی رویہ ہے جس میںکوناوجھل اور کیا سامنے رہتا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یہ بات زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کہ کہنے والا اپنی بات کے کسی معتبر حوالے کے ساتھ ریلیشن سے باخبر ہے یا بے خبر ہے یا اس نے بہت غور و تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے یا محض سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی اہم نہیں ہے کہ اس کا مذہب، اس کا فکری پس منظر اور علمی زاویۂ نظر کیا ہے۔

چنانچہ مثال کے طور پر اگر ایک ایسا شخص جو ہمارے نزدیک غیر مسلم، ملحد یا سیکولر ہے، یہ کہتا ہے کہ انسانی شرف کے اعتبار سے سب انسان برابر ہیں یا مسلمہ انسانی حقوق رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ملنے چاہییں یا لوگوں کو اظہار راے کی آزادی ہونی چاہیے، یا غلامی اور انسانوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہونی چاہیے یا خواتین کے حقوق کو پامال نہیں کرنا چاہیے یا دنیا کو امن کا گہوارہ بننا چاہیے یا عدل و انصاف کو ریاست کی اولین ترجیح ہونا چاہیے یا مذاہب کے پیروکاروں کو رواداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے یا قومی معاملات میں معاہدوں کی پاس داری کرنی چاہیے یا حکومتوں کو لوگوں کی راے پر منحصر ہونا چاہیے یا قوموں کے حق خودارادی کا احترام ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ ــــــ   تو ہم بادنیٰ تامل اس کی بات کی تائید کریں گے اور ضرورت محسوس کریں گے تو یہ بھی بتائیں گے کہ یہ بات فلاں اخلاقی اصول پر مبنی ہے، یا فلاں آیت قرآنی سے مطابقت رکھتی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں علم و عمل سے ہم آہنگ ہے۔

ہمارے جلیل القدر علما نے سرسید، علامہ اقبال اور محمد علی جناح جیسے قومی قائدین اوربعض دیگر ایسے مشاہیر کے بارے میں کہ جن کی دینی و علمی حیثیت مسلم نہیں ہے، یہی رویہ اختیار کیا ہے کہ ان کی بات کو پہلے دین و اخلاق کے مسلمات پر پرکھا ہے اور درست پایا ہے تو قبول کیا ہے، وگرنہ رد کر دیا ہے۔

استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے جب اپنے ایک شذرے میں قائد اعظم کے  ۱۱ ؍  اگست ۱۹۴۸ء کے اس اعلان کے حوالے سےکہ ’’ریاست کے شہریوں میں حقوق شہریت کے لحاظ سے مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی کوئی تفریق نہ ہو گی‘‘ یہ لکھا تھا کہ ’’ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا لفظ لفظ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’میثاق مدینہ‘‘ کی پیروی میں صادر ہوا ہے۔‘‘ تو  درحقیقت  اسی علمی رویے کو بنیاد بنایا تھا۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2019
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Jun 27, 2019
303 View