علم کا مسئلہ ”کون“ یا ”کیا“؟ (2) - سید منظور الحسن

علم کا مسئلہ ”کون“ یا ”کیا“؟ (2)

 

معلوم انسانی تاریخ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت   واحد استثنا ہے کہ جس کی بات کو  ہم ’’کیا‘‘ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ’’کون‘‘  کی بنیاد پر تسلیم کرتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ زمین پر خدا کا فرستادہ اور اُس کا پیغمبر ہے ۔ اُس کی زبان سے کلام الہٰی صادر ہوتا ہے۔ وہ اپنی جانب سے کچھ نہیں کہتا ، بلکہ وہی کہتا ہے جو عالم کا پروردگار اُسے الہام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی بات ہر خطا سے پاک  اور ہر غلطی سے مبرا ہوتی ہے۔ جس میں نہ فکر کا تضاد  پایا جاتا ہے، نہ خیال کا  تناقض و انتشار؛  نہ کلام کا ابہام ہوتا ہے ،نہ بیان کا تنزل و ارتقا۔اُس کا علم تغیرات زمانہ سے متغیر نہیں ہوتا اور حالات کے بدلنے سے  بھی اُس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔  یہی ایک ’کون‘ ہے جس کا علم کون و مکان کو محیط ہے اور جو لوح بھی ہے اور قلم بھی اور جس کا وجود سراپا ’الکتاب‘ ہے۔یہ سب  اگر حق ہے،  اور یقیناً حق ہے تو پھر علم و عقل کا تقاضا ہے کہ اُس کی ہر بات کو مبنی برحق مانا جائے اور اُس کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔

اس ایک ’کون‘ کے علاوہ تمام بنی نوع انسان بھی کسی ایک بات یا کسی ایک موقف پر جمع ہو جائیں تو اُس کے ردوقبول کا فیصلہ ’کیا‘ ہی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہ تمام ’کون‘ مل کر بھی یہ مرتبہ  حاصل نہیں کر سکتے کہ اُن کی بات کو پرکھے بغیرقبول کیا جائے۔ اُس میں غلطی اور صحت، دونوں امکانات کو تسلیم کیا جائے گا۔وہ الگ الگ ہیں یا من حیث المجموع ہیں، اُن سے صادر ہونے والے ہر علم و فکر کو  ’کیا‘ ہی کی میزان میں تولا اور اُسی کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔

صحیح علمی رویہ یہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ  کیا انسانوں کا عام طریقہ یہی ہے کہ وہ کسی قول، کسی علم ، کسی فکر کے  رد و قبول اور تائید و تردید کا فیصلہ ’’کیا‘‘  ہی کی بنیاد پر  کیاکرتے ہیں؟ اِس  سوال کا جواب نفی میں ہے۔ لوگوں کی اکثریت اپنے علم و عمل کی بنیاد ’کیا‘ کے بجاے ’کون‘ ہی پر رکھتی ہے۔  کبھی یہ کون بخاری و مسلم اور ابوحنیفہ و شافعی ہوتے ہیں اورکبھی  غزالی  و ابن عربی ،شاہ ولی اللہ  و  اقبال اور مودودی  و غامدی ہوتے ہیں۔ اِن کی باتیں صحیح بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی۔  ہم آہنگ بھی  ہوتی  ہیں  اور اُن میں تناقض  اور  تضاد بھی پایا جاتا ہے ۔ اِن کا علم  زمانے سے مغلوب  اور  حالات سے متاثر  بھی ہوتا ہے۔ تغیر و تبدل اور ترقی و تنزل اِن کے افکار کا جزو لازم ہے۔ ہم اِن سب کم زوریوں سے واقف ہوتے ہیں ،  مگر اِس کے باوجود  اِن سے متاثر ہوتے اور اپنے علم و فکر کی محدویت کی وجہ سے  اِن کی بات کو قبول کرنے اور اُس کی پیروی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ اگر کوئی غلطی کرتے ہیں تو اِن سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہم بھی اُس غلطی کا شکار ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات اِس کا خمیازہ  قوموں اور نسلوں تک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ ایک حقیقت واقعہ ہے اور اِس سے مفر ممکن نہیں ہے۔مسئلہ  اِس حقیقت واقعہ کو چیلنج کرنے کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ  اِن علما اور قائدین  کی غلطیوں سے ہونے والے نقصان کو کیسے کم سے کم کیا جائے؟  اِس کا واحد طریقہ  یہ ہے کہ ہماری ساری نظر ’کیا‘ پر رہنی چاہیے۔ لوگوں کو یہ تعلیم وتربیت دینی چاہیے کہ وہ  اِن کی ذات کو پیش نظر رکھنے کے بجاے اِن کی بات کو پیش نظر رکھیں  اور اُس میں غلطی اور صحت کا جائزہ لیتے رہیں۔

’کون‘ اور ’کیا‘ کی بحث میں یہ سوال  بھی  اٹھایا جا سکتا  ہے کہ  اگرکسی معاملے میں  ’کون ‘کے افراد  اکثریت میں ہوں تو پھر بھی’ کیا‘ ہی کو بنیاد بنانا چاہیے؟ یعنی مثال کے طور سائنس  ، ادب، تاریخ، مذہب کے ماہرین فن کی اکثریت اگرکسی سائنسی، ادبی، تاریخی یا مذہبی نظریے کی درستی پر یقین رکھتی ہے تو کیا اُس کے  درست ہونے پر یقین نہیں کر لینا چاہیے؟ میرے نزدیک ’کون‘ اور ’کیا ‘ کا  یہ  تقابل درست نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو مختلف اپروچز اور مختلف زاویہ ہاے نظر ہیں۔ ’ کون‘ کو بنیاد بنائیں تو افراد پیش نظر ہوتے ہیں اور ’کیا‘ کو بنیاد بنائیں تو بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ نکتہ اپنی جگہ درست ہے کہ جب معیار ’کون‘ ہو گا تو تعداد کو لازماً اہمیت دی جائے گی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کے بغیر فصل نزاع نہیں ہو سکتی۔ نزاعات کا فیصلہ کرنے اور معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے اکثریت کی راے کو فیصلہ کن ماننا ناگزیر ہے۔مگر اکثریت کی تائید کسی بات کی صحت کی دلیل نہیں ہے۔چنانچہ مثال کے طور پر ڈاکٹروں کے بورڈ کی اکثریت اگر آپریشن کا فیصلہ کرتی ہے، ججوں کے بنچ کی اکثریت سزا کا حکم لگاتی ہے، سائنس دانوں کی اکثریت کسی نظریے مثلاً نظریۂ ارتقا   پر یقین رکھتی ہے تو بلا شبہ اکثریت ہی کے فیصلوں کو قبول کیا جائے گا،  لیکن یہ اکثریت اور  یہ قبولیت اُن کی صحت کو لازم نہیں کرے گی۔

یہی معاملہ مہارت فن کا بھی ہے ۔ کسی شخص کی فنی مہارت اُسےہمارے لیے لائق  اعتماد  اور قابل قبول بناتی ہے، مگر صحت کو لازم نہیں کرتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی ماہر فن کی بات خلاف حقیقت اور کسی غیر ماہر فن کی بات قرین حقیقت ہو۔ گویا کسی بات کے صحیح ہونے کا معیار یہ  نہیں ہے کہ  اُسے کسی ماہر فن نے پیش کیا ہے، بلکہ دلیل اور استدلال ہے۔  

اب آخری سوال یہ ہے کہ جب ہم ’کون‘ کے بجاے ’کیا‘ کو بنیاد بنائیں، یعنی شخصیت کے بجاے اُس کی بات پر غور کرنے کا طریقہ اختیار کریں تو اُس بات کی صحت یا عدم صحت کا  فیصلہ کس معیار  پر کیا جانا چاہیے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اِس معاملے میں ہمیں لا محالہ  اُن فطری      اساسات، اُن عقلی مسلمات، اُن اخلاقی اصولوں، اُن دینی مقدمات اور  اُن تاریخی شواہد کو بنیاد بنانا  ہو گا جن پر ہم پہلے سے یقین رکھتے اور جنھیں ہر لحاظ سے درست سمجھتے ہیں۔ کسی بات کو پرکھنے کا اِس کے سوا کوئی اور راستہ ہمارے پاس نہیں ہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2019
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Jul 06, 2019
272 View