قربانی سے پہلے بال اور ناخن کاٹنے کی ممانعت (1) - ڈاکٹر محمد عامر گزدر

قربانی سے پہلے بال اور ناخن کاٹنے کی ممانعت (1)

(ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ)
ترمیم واضافے کے بعد دوسرا ورژن
 
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

تمہید
عید الاضحی ۱۰؍ ذوالحجہ کے دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار کے طور پر منائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ تہوار محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق مقرر فرمایا ہے۔ ذکر،شکر اور تفریحات کے لیے خاص یہ عید، اِس کی خصوصی نماز اور غیر حاجیوں کے لیے اِس موقع پرقربانی کا حکم منجملہ اُن سنن ثابتہ کے ہے جن کی حیثیت دین ابراہیمی کی سنن پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق رسالت مآب ﷺ کی طرف سے اضافے کی ہے۔ یعنی اِن کا ماخذ کوئی پچھلی شریعت یا ملت ابراہیمی نہیں ہے، بلکہ یہ عید منانا اور اِس موقع پر اِن اعمال کو بجالانا، عبادات اور رسوم وآداب کے باب میں دی جانے والی اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت کے احکام میں سے ہیں۔ چنانچہ واضح رہے کہ نبی ﷺ نے دینی رسوم میں عید الاضحیٰ کے تہوار کو مقرر فرمایا تو اِس موقع پر ادا کی جانے والی اجتماعی نماز اور قربانی کو بھی آخری شریعت میں ایک سنت کے طور پر اپنے ماننے والوں میں جاری فرمایا ہے۔ طبقۂ صحابہ سے آج تک یہ عبادات مسلمانوں کے ہاں اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ثابت ہیں۔تاہم اِس موقع کی قربانی سے متعلق بعض مسائل علما وفقہا کے مابین قرنِ اول سے مختلف فیہ رہے ہیں۔اُنھی میں سے ایک مسئلہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لیے ذی الحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے جسم کے کسی بھی حصے کے بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کی ممانعت کا ہے۔ بعض فقہا اِن دونوں افعال کو قربانی کرنے والے کے لیے اِن ایام میں حرام قرار دیتے ہیں۔ دوسری راے کے مطابق یہ حرام نہیں، بلکہ مکروہ ہیں،جب کہ تیسرے نقطۂ نظر کے مطابق قربانی کرنے والے کے لیے یہ حکم دین میں اصلاً ثابت ہی نہیں ہے، لہذا یہ افعال قربانی کرنے والے کے لیے اِن ایام میں بھی مباح ہیں۔
حکم کا ماخذ ـــــــــ حدیث ام سلمہ
موضوع بحث حکم کے باب میں ایک بنیادی حقیقت جس سے ہر صاحب علم واقف ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی علمی روایت میں اِس حکم کا تنہا ماخذ ومصدر ایک خبر واحد ہے جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور حدیث کے بعض مصادر میں نقل ہوئی ہے۔ یہ نبی ﷺ سے منسوب ایک قولی روایت ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اِس کے سوا کوئی چیز دین میں اِس حکم کے اثبات کے لیے بطور دلیل کبھی پیش نہیں کی گئی ہے۔ چنانچہ علم کی دنیا میں قربانی سے متعلق اِس حکم کا مدار اِسی روایت کے ثبوت اور عدم ثبوت پر ہے۔ اِس روایت کے بارے میں سلف وخلف کے علما، فقہا، محدثین ومحققین کیا کہتے ہیں؟ اِس کے بارے میں اُن کے نقطہ ہاے نظر کیا ہیں؟ یہ سند ومتن کی تحقیق کے معیارات پر پورا اترتی ہے یا نہیں؟ اِس مسئلے میں راجح ومحقق راے کیا ہے؟ اِس مقالے میں آگے ہم اِنھی سوالات پر گفتگو کریں گے۔
حدیث ام سلمہ کے متون پر ایک نظر
حدیث ام سلمہ کے تمام طرق کو جمع کر کے اِس کے متون کا جائزہ لیا جائے تو مراجع حدیث میں ہمیں درج ذیل تین طرح کے الفاظ واسالیب ملتے ہیں:
۱۔ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَرْفَعُهُ، قَالَ ﷺ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا، وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا».
’’سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عشرۂ ذی الحجہ شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو،جس کی قربانی کرنے کا وہ ارادہ رکھتاہے تو وہ (قربانی کرنے تک) ہرگز اپنے جسم کے کوئی بال اتارے، نہ کوئی ناخن تراشے‘‘ (صحیح مسلم، رقم ۱۹۷۷)۔
۲۔ عَنْ سَعِيدِ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ».
’’سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس قربانی کے لئے کوئی ذبیحہ موجود ہوتو ذی الحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد جب تک وہ قربانی نہ کرلے، اپنے بال اور ناخن ہرگز نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم، رقم ۱۹۷۷)۔
۳۔عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ».
’’ سعید بن مسیب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم جب ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کاا رادہ رکھتا ہو تو اُسے چاہیے کہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو کاٹنے سے باز رہے‘‘ (صحیح مسلم، رقم ۱۹۷۷)۔
حدیث ام سلمہ — زبان کے اعتبار سے ظاہرِ الفاظ کی دلالت
حدیث کے مندرجہ بالا متون پر غور کیجیے تو واضح ہوتا ہے کہ نہی وممانعت میں تاکید کا جو اسلوب اِن میں روایت ہوا ہے، وہ اپنے ظاہرِ الفاظ کے اعتبار سے حرمت پر دلالت کے لیے بالکل صریح ہے، یعنی قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص کے لیے یہ دونوں کام عشرۂ ذی الحجہ میں ممنوع ہیں، جب تک کہ وہ قربانی نہ کرلے۔ اِسی طرح بعض طرق میں امر کا جو اسلوب نقل ہوا ہے، وہ اِس حکم کے وجوب کا تقاضا کرتا ہے، یعنی اِس عرصے میں اِن دونوں پابندیوں کا خیال رکھنا قربانی کرنے والے پر لازم ہے۔
عربیت کی رو سےامر ونہی کے یہ اسالیب اپنی دلالت کےا عتبار سے اگرچہ صریح ہیں، تاہم تفہیم مدعا کے لیے ہم یہاں قرآن مجید کے بعض احکام کو بطور مثال پیش کریں گے، جن میں امر ونہی کے کم وبیش اِسی طرح کے اسالیب قرآنی نصوص میں بھی آئے ہیں اورجن سے اصحابِ علم حرمت یا لازم ہونے ہی کا حکم اخذ کرتے ہیں۔ اِس حوالے سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
۱۔ حالت حیض میں زن وشو کے تعلق کا حکم بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ﴿وَلَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰي يَطْهُرْنَ﴾، ’’اور جب تک وہ خون سے پاک نہ ہو جائیں، اُن کے قریب نہ جاؤ‘‘(البقرہ ۲: ۲۲۲)۔ نہی کے اِس حکم میں حرمت کی دلالت بالبداہت واضح ہے۔
۲۔حالتِ احرام میں بعض امور سے روکتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ﴿فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾، ’’سو اِن (مہینوں) میں جو شخص بھی (احرام باندھ کر) حج کا رادہ کرلے، اُسے پھر حج کے اِس زمانے میں نہ کوئی شہوت کی بات کرنی ہے، نہ خدا کی نافرمانی کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی کوئی بات اُس سے سرزد ہونی چاہیے‘‘(البقرہ ۲: ۱۹۷)۔ نہی کے اِس اسلوب سے بھی حالتِ احرام میں اِن کاموں کی حرمت کا حکم بالکل صریح اور واضح ہے۔
۳۔ ماہ رمضان کے روزوں سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾، ’’سو تم میں سے جو شخص اِس مہینے میں موجود ہو، اُسے چاہیے کہ اِس کے روزے رکھے‘‘ (البقرہ ۲: ۱۸۵)۔ زبان کے لحاظ سے امر کا یہ اسلوب غور کیجیے تو اوپر بیان کیے گئے حدیث ام سلمہ کے تیسرے طریق کے اسلوب سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔
۴۔ حج کے کسی سفر میں آدمی عمرہ بھی کرلے تو اُس پر اللہ تعالیٰ نے ایک فدیہ عائد کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَي الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾، ’’تو جو کوئی حج (کے سفر) سے یہ فائدہ اُٹھائے کہ اُس کا زمانہ آنے تک عمرہ بھی کر لے تو اُسے قربانی کرنا ہوگی‘‘(البقرہ ۲: ۱۹۶)۔ امر کے اِس اسلوب سے بجا طور پر ہدیِ تمتع کےوجوب کا حکم اخذ کیا گیا ہے۔
زبان کے لحاظ سے امر ونہی کے مذکورہ بالا اسالیب میں وجوبِ حکم یا اُس کی حرمت کی دلالتیں، ظاہر ہے کہ اصحاب علم سے مخفی نہیں ہیں، چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ عربیت کی رو سے دیکھا جائے تو زیر بحث روایت کا اسلوب اور ظاہرِ الفاظ حرمت پر یا وجوب پر دلالت کر تا ہے۔ مراجعِ حدیث میں منقول اِس روایت کے تمام طرق کو پیش نظر رکھ کر بھی یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ اِس کے کسی طریق میں ایسا کوئی اسلوبِ بیان نقل نہیں ہوا ہے، جو زبان کے لحاظ سے محض کراہت یا استحباب کا متقاضی ہو، جیسا کہ مثال کے طور پر عقیقے کی قربانی سے متعلق بعض روایتوں میں یہ اسلوب ِکلام نقل ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : «مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ...»، ’’تم میں سے جو شخص بھی اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا پسند کرتا ہے تو کرلے‘‘(مسند احمد، رقم ۶۷۱۳)۔ (جاری)
مصنف : ڈاکٹر محمد عامر گزدر
Uploaded on : Jun 12, 2020
358 View