مذہبی واعتقادی اختلافات کے حوالے سے اسلام کا زاویہ نظر - عمار خان ناصر

مذہبی واعتقادی اختلافات کے حوالے سے اسلام کا زاویہ نظر

 

تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی معاشروں میں تنازعات، فساد اور خون ریزی کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب انسانوں کے مابین پایا جانے والا مذہبی اختلاف رہا ہے۔ مذہب کا تعلق چونکہ انسان کے ایمان وعقیدہ سے ہوتا ہے اور مختلف مذہبی گروہ اپنے اختیار کردہ عقیدے کو حق اور دوسرے عقائد کو باطل تصور کرتے ہیں، اس لیے ان میں مذہبی جذبے کے تحت دوسرے عقائد اور مذاہب کو مٹانے یا ان کے پیروکاروں پر جبر اور زبردستی کرنے کا رویہ پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قدیم زمانوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی معاشرے میں عمومی طور پر جس مذہب کی پیروی کی جاتی اور خاص طور پر جس مذہب کو حکمرانوں کی سرپرستی میسر ہوتی، جبر اور تشدد کے ذریعے سے مملکت کے سارے باشندوں کو اس کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جاتی تھی اور اس سے ہٹ کر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے عام طور پر عقیدہ اور مذہب کی آزادی کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے درمیان بھی مختلف قسم کے مذہبی اختلافات پیدا ہو جاتے تھے اور یوں ایک ہی مذہب کے پیروکار ایک دوسرے پر راہ راست سے انحراف کا الزام رکھتے ہوئے باہمی تنازعات اور بسا اوقات جنگ وجدال میں مصروف ہو جاتے تھے۔

اس پس منظر میں جب ہم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید میں دنیا میں موجود مذہبی اختلافات کے حوالے سے دی جانے والی راہ نمائی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بہت مختلف اور حیرت انگیز صورت حال ہمارے سامنے آتی ہے۔ قرآن مجید میں دین وعقیدہ کے حوالے سے جو بنیادی بات فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ مذہب اور اعتقاد کا معاملہ ہر انسان کے اپنے ذاتی فیصلے اور اختیار پر مبنی ہے اور اس معاملے میں زور زبردستی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ دنیا اللہ نے انسانوں کے علم وعقل اور عمل کی آزمائش کے لیے بنائی ہے جس کے لیے انسانوں کو عقیدہ وعمل کی آزادی کا حاصل ہونا لازم ہے۔ اس وجہ سے دنیا میں مذہبی اختلافات رہیں گے اور اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے کسی گروہ کو دوسرے گروہ پر مذہبی جبر کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں۔ ہدایت کی راہ، گمراہی سے بالکل واضح ہو چکی ہے۔ سو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان رکھ، اس نے ایک مضبوط سہارے کو تھام لیا جو کبھی ٹوٹے گا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔’’ (البقرة ۲۵۶)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

”اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی گروہ بنا دیتا، لیکن یہ ہمیشہ باہم اختلاف کرتے رہیں گے۔ ہاں، جس پر تیرا رب رحم کرے۔ اور اللہ نے انھیں اسی لیے پیدا کیا ہے۔ اور تیرے رب کا یہ فیصلہ طے ہو چکا ہے کہ میں جہنم کو جنوں اورا نسانوں، دونوں سے بھر دوں گا۔’’ (سورہ ہود ۱۱۸، ۱۱۹)

واقعہ یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کے حوالے سے قرآن مجید کی یہ تعلیم انسانی معاشروں میں مذہبی جبر کی فکری بنیادوں کو کلی طور پر منہدم کر دیتی ہے، کیونکہ انسان جب مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر دوسرے انسانوں کے ساتھ زور اور زبردستی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو اسے ایک کار ثواب اور منشائے خداوندی سمجھ کر کرتے ہیں، جبکہ قرآن مجید کی تعلیم دو ٹوک الفاظ میں یہ واضح کر دیتی ہے کہ اللہ کی مشیت اس دنیا میں مذہبی اختلاف کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کو برقرار رکھنا ہے اور یہ کہ ان اختلافات کے فیصلے کی جگہ یہ دنیا اور انسانی عدالتیں نہیں بلکہ ان کا فیصلہ روز قیامت کو خود خالق کائنات کرے گا۔

’لا اکراہ فی الدین‘ کے الفاظ میں قرآن مجید میں جو ہدایت نازل ہوئی ہے، اس کی شان نزول عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں نقل کی ہے کہ انصار میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی عورت کے بچے پیدایش کے بعد فوت ہو جاتے تو وہ منت مان لیتی کہ اگر میرا کوئی بچہ زندہ رہا تو میں اسے یہودی مذہب کا پیروکار بناﺅں گی۔ اس طرح انصار کے کئی بچے یہودیوں کی سرپرستی میں رہتے تھے۔ جب بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا تو انصار نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ ہم نے تو ان کو اس وقت یہودی مذہب کا پیروکار بنایا تھا جب ہم سمجھتے تھے کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ اب جب اسلام آ چکا ہے تو ہم انھیں اسلام کی پیروی پر مجبور کریں گے۔ اس پر قرآن مجید میں لا اکراہ فی الدین کا حکم نازل ہوا اور کہا گیا کہ ان میں سے جو یہودیوں کے ساتھ جانا چاہے، چلا جائے اور جو یہودی مذہب چھوڑ کر وہیں رہنا چاہے، رہ جائے۔ (تفسیر الطبری، ۳/۱۰)

دین اور عقیدہ کے معاملے میں قرآن مجید کی اس بنیادی تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ اسلام تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے جان ومال، عزت وآبرو، عقیدہ ومذہب اور عبادت گاہوں کے تحفظ کا نہ صرف حق دیتا ہے بلکہ ان حقوق کی حفاظت کو مسلمانوں کے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

حدیث وسیرت کی کتب میں ہمیں اس موضوع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے ارشادات ملتے ہیں۔ نمونے کے طو رپر چند احادیث ملاحظہ فرمائیے:

ایک موقع پر ایک شخص ایک درانتی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو اس نے اہل ذمہ میں سے ایک شخص سے بلا قیمت لے لی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ تو ایک معمولی سی چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے میرے دیے ہوئے ذمہ کو پامال کر دیا۔ تم نے میرے دیے ہوئے ذمہ کو پامال کر دیا۔ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے ذمہ کو پامال کر دیا۔ ’’ (سنن سعید بن منصور، ۲۳۱۲۔ مصنف عبد الرزاق ۳۳۲۱۰)

ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ معاہد کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توڑنے والے کے خلاف اللہ کی عدالت میں استغاثہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائر کریں گے۔ آپ نے فرمایا:

”جو میرے دیے ہوئے ذمہ کو توڑے گا، اس کے خلاف مدعی میں خود بنوں گا اور جس کے خلاف میں استغاثہ کروں گا، اس کو سزا دلوا کر رہوں گا۔’’ (مجمع الزوائد ۴۵۹۶)

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، و ہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لے گئے تو یہودیوں کا سردار ان کے پاس آیا اور تلخ لہجے میں کہا کہ اے محمد، کیا تم لوگوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کرو، ہمارے پھل کھا جاو اور ہماری عورتوں کو مارو؟ یہ شکایت سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے میں آ گیا اور اعلان کروا کر مسلمانوں کو نماز کے لیے جمع کیا۔ نماز کے بعد آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ

”جب اہل کتاب وہ چیز تمھیں دے دیں جو ان کے ذمے تھی تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہونے کو اور ان کی عورتوں کو مارنے کو اور ان کے پھل کھانے کو حلال نہیں ٹھہرایا۔’’ (ابوداود، کتاب الخراج والامارة ۳۰۵۰)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بات کی بھی تلقین فرمائی کہ جہاں مسلمان اور غیر مسلم مل جل کر رہتے ہوں، وہاں مسلمان دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے سامنے اپنے عقائد کا اظہار ایسے انداز سے نہ کریں کہ مخاطب اپنے مذہب یا مذہبی شخصیات کی تحقیر محسوس کریں۔ چنانچہ ایک موقع پر ایک انصاری صحابی نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: ”اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے“ اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الخصومات، حدیث ۲۲۸۰)

ایک دوسری روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”جس نے کسی یہودی یا نصرانی کو کوئی ناگوار بات کہی، وہ جہنم میں جائے گا۔’’ (صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب الذمی والجزیة، ۴۹۸۹)

امام ابن حبان نے یہ روایت اپنی صحیح میں نقل کی ہے اور اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے:

”باب اس بات کے ذکر میں میں جو شخص اہل کتاب کو کوئی ایسی بات سنائے جو انھیں ناپسند ہو تو وہ لازماً جہنم میں جائے گا۔“

قرآن مجید اور سیرت نبوی سے ملنے والی راہ نمائی کی روشنی میں صحابہ کرام نے بھی مسلمان معاشرے کی مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے ایک ذمہ دارانہ اور قابل رشک طرز عمل اختیار کیا۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ:

”جن لوگوں کو اللہ کا ذمہ حاصل ہے، ان میں سے کسی کو ہرگز قتل نہ کرنا کہ اللہ تم سے اپنے ذمے کے متعلق بازپرس کرے اور تمھیں منہ کے بل آگ میں گرا دے۔’’ (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ،۳ /۱۳۷)

طبری نے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر مملکت کے مختلف اطراف میں اہل ذمہ کے حالات کی خبر گیری کرتے رہتے تھے۔ ایک موقع پر انھوں نے بصرہ سے آئے ہوئے ایک وفد سے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمان، اہل کتاب کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں؟ اہل وفد نے کہا کہ ہمارے علم میں تو یہی ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاس داری کی جاتی ہے۔ (تاریخ الامم والملوک، ۲/۵۰۳)

ایک اور موقع پر جب سیدنا عمر کے پاس جزیہ کی مد میں وصول کیا گیا بہت سا مال لایا گیا تو انھوں نے کہا کہ مجھے شبہ ہے کہ تم نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ محصلوں نے کہا کہ بخدا نہیں، ہم نے بڑی نرمی سے اور درست طریقے سے اسے وصول کیا ہے۔ سیدنا عمر نے پوچھا کہ مارے اور کوئی شرط عائد کیے بغیر؟ محصلوں نے کہا کہ ہاں۔ (ابن قدامہ، المغنی ۹/۲۹۰۔ ابن القیم، احکام اہل الذمہ ۱/۱۳۹)

مصر کے گورنر عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے کی طرف سے ایک غیر مسلم قبطی کی حق تلفی سرزد ہوئی تو سیدنا عمر نے مظلوم کو بدلہ دلواتے ہوئے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ

”اے عمرو، تم نے کب ان لوگوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے جبکہ ان کی ماوں نے تو انھیں آزاد جنا تھا؟“ (ابن الحکم، فتوح مصر، ص ۱۹۵۔ ابن الجوزی، تاریخ عمر، ص ۱۲۹)

بیت المقدس کے سفر کے موقع پر سیدنا عمر شہر کا دورہ کرتے ہوئے مختلف تاریخی اور مذہبی مقامات کو دیکھ رہے تھے۔ جب وہ مسیحیوں کے مشہور کنیسہ قمامہ میں پہنچے تو یہاں نماز کا وقت ہو گیا۔ مسیحی بطریق نے سیدنا عمر سے کہا کہ آپ یہیں نماز ادا کر لیں، لیکن حضرت عمر نے یہ پیش کش قبول نہیں کی اور گرجے سے باہر نکل کر نماز ادا کی۔ بطریق نے ا س کا سبب پوچھا تو حضرت عمر نے کہا کہ اگر میں یہاں نماز پڑھ لیتا تو میرے بعد (کسی دور میں) مسلمان اس بنیاد پر تم سے یہ گرجا چھین لیتے کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز ادا کی تھی۔ پھر سیدنا عمر نے ان الفاظ میں مسیحیوں کو ایک تحریر لکھ کر دی کہ:

”گرجے کی سیڑھیوں پر بھی باجماعت نماز ادا نہ کی جائے اور نہ اذان دی جائے۔“ (تاریخ ملت ۲/۱۷۷)

سیدنا عمر نے اپنی وفات سے پہلے جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں خاص طور پر مسلمانوں کو اس کی تلقین کی کہ وہ اہل ذمہ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔ آپ نے فرمایا:

”اور میں تمھیں اہل ذمہ کے متعلق وصیت کرتا ہوں، کیونکہ انھیں تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حفاظت کا) ذمہ دیا ہے اور یہ تمھارے عیال کے رزق کا ذریعہ ہیں۔’’ (بیہقی، السنن الکبریٰ، کتاب السیر، حدیث ۱۸۱۶۸)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا عمر نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتے ہوئے کہا:

”اور میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ جن لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ حاصل ہے، ان کے ساتھ کیے گئے عہد کو پورا کرے اور ان کے دفاع میں دشمن سے لڑے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔’’ (بخاری، کتاب الجنائز، )

ابو الجنوب اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مسلمان کو لایا گیا جس نے کسی ذمی کو قتل کر دیا تھا۔ مقدمہ ثابت ہو جانے پر سیدنا علی نے قاتل کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ اتنے میں مقتول کا بھائی آیا اور کہا کہ میں قاتل کو معاف کرتا ہوں۔ سیدنا علی نے کہا کہ لگتا ہے ان لوگوں نے تمھیں دھمکایا یا خوف زدہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ اس کو قتل کرنے سے میرا بھائی تو واپس نہیں آئے گا۔ سو انھوں نے مجھے دیت کی پیش کش کی ہے جس پر میں راضی ہوں۔ سیدنا علی نے کہا کہ تم جانو۔ جو شخص ہمارے ذمہ میں ہے، اس کی جان ہماری ہی جان کی طرح ہے اور اس کی دیت بھی ہماری دیت کی طرح۔ (مسند الشافعی، ۱/۳۴۴)

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ شام کے علاقے میں اہل ذمہ میں سے کچھ لوگ دھوپ میں کھڑے ہیں۔ انھوں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتایا گیا کہ یہ اہل جزیہ میں سے ہیں۔ اس پر ہشام بن حکیم مقامی حاکم عمیر بن سعد کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں لوگوں کو عذاب دے گا، (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ اسے عذاب دیں گے۔ یہ سن کر عمیر بن سعد نے ان لوگوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ (صحیح مسلم، ۲۶۱۳)

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 7 دسمبر 2016
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Dec 23, 2016
1961 View