نئی مذہبی تقسیم - خورشید احمد ندیم

نئی مذہبی تقسیم

 

5جنوری کواسلام آباد میں شیعہ اور بریلوی تنظیموں کا اجتماع ہوا۔ یہ بظاہر طالبان اور ان کی حکمت عملی کے خلاف ہے لیکن طالبان کا تعلق چونکہ مسلکِ دیوبند سے ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ پاکستان کے دیوبندی علما نے کبھی دوٹوک لہجے میں ان کی مخالفت نہیں کی ،اس لیے اسلام آباد کے اجتماع کا پیغام واضح ہے۔ گویا مسلکی وفرقہ وارانہ تقسیم ایک ناپسندیدہ جہت اختیار کر رہی ہے۔ میرا خیال ہے اس معاملے کو یہاں روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خوش بختی سے اس کی ایک اساس مو جود ہے۔

دسمبر2013ء کے وسط میں،جمعیت علمائے ہند نے ''شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا۔اس میں دنیا بھر سے دیوبند مسلک کے وابستگان نے شرکت کی۔پاکستان سے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ایک تیس رکنی وفد بھی شریک ہوا۔اس کا نفرنس کا اعلامیہ ہم سب کی توجہ کا مستحق ہے۔اس اعلامیے کی تیاری میں پاکستانی علما بھی شریک تھے۔یوں اسے کم ازکم مولانا فضل الرحمن اورکانفرنس کے پاکستانی دیوبندی علما کا موقف ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ان علما میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی، وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل مو لانا محمد حنیف جالندھری اور جمعیت علما ئے اسلام کے راہنما مولانا عبدالغفور حیدری بھی شامل تھے۔پاکستان میں دیوبندی مسلک کی سیاسی نمائندگی جمعیت علمائے اسلام کرتی ہے اور وفاق المدارس دیوبندی مدارس کی نمائندہ تنظیم ہے۔یوں اس اعلامیہ کو بالواسطہ پاکستان کے دیوبندی علما کا موقف قرار دیا جا سکتا ہے۔میں اس اعلامیے کے دو اہم نکات ، اس کالم میں نقل کر رہا ہوں۔

٭ اسلام کی نظر میں ہر طرح کا فتنہ و فساد،بدامنی و خوں ریزی اوربے قصوروںکو نشانہ بنانابد ترین انسانیت سوز جرم ہے،اس لیے ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس بارے میں دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی بھر پور تائید کرتے ہیں اور تمام انصاف پسندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف دہشت گردوں سے برأت کریں، بلکہ ان اسباب و محرکات کو ختم کر نے کی بھی فکر کریں جن کی وجہ سے دنیا میں دہشت گردی پنپتی ہے۔

٭ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلکی تنازعات میں تشدد اور خوں ریزی اسلامی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہے۔ہم اس معاملے میں تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ مسلکی تشدد ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔‘‘

اعلامیے میں دارالعلوم دیوبند کے جس فتوے کا حوالہ دیا گیا، یہ پانچ سال پہلے جاری ہوا۔اس میں بھی وہی بات فتوے کے لہجے میں کہی گئی ہے جو اعلامیے کا حصہ ہے۔کانفرنس میں شریک مولانا زاہد الراشدی نے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولاناسید محمد عثمان منصورپوری کے خطاب کو سب سے زیادہ فکر انگیز قرار دیا ہے۔ان کا کہناتھا: ''... اہلِ علم کو باربار بتانا ہوگا کہ اسلامی شریعت میں ایک بے قصور انسان کا قتل تمام انسانوں کے قتل کے ہم معنٰی ہے۔اللہ رب العزت زمین پر فساد کو پسند نہیں کرتا۔فسادی کبھی جہادی نہیں ہوسکتے...‘‘ 

میرا خیال ہے اس وقت یہی موقف ان لوگوں کا بھی ہے جو نیا اتحاد بنانے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ہم آہنگی کے باوصف یہ اختلاف کیوں ہے؟ایسا کیوں ہے کہ ایک مذہبی گروہ کا معاملہ دوسروں سے الگ سمجھا جارہا ہے۔میرے نزدیک اس کے دواسباب ہیں۔پاکستان کے دیوبندی علما نے فی الجملہ دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کے قتلِ عام کی مذمت کی ہے لیکن اس کا مصداق متعین کرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔اگر کبھی ایسا کر نا ناگزیر ہوا تو انہوں نے ریاست اور غیر ریاستی تشدد پسند گروہوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا بلکہ دونوں کو ایک جیسا فریق قرار دیا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کا تعلق دیوبندی مکتبِ فکر سے ہے۔اس کے ساتھ فرقہ وارانہ تشدد میں جو لوگ ملوث سمجھے جاتے ہیں ،ان کا انتساب بھی ان ہی کی طرف ہے۔ مولانا سمیع الحق نے دو دن پہلے اپنے ایک انٹرویومیں طالبان کو اپنی روحانی اولاد کہا ہے۔ان دو اسباب کی بنا پر پاکستان کے دیوبندی علماکے موقف کے سامنے موجود سوالیہ نشان بدستور قائم رہتاہے۔

میرے نزدیک پاکستانی علما ئے دیوبند کے پاس دو راستے ہیں۔اگر وہ تحریکِ طالبان پاکستان کے موقف کو درست سمجھتے ہیں تو انہیں ان کے ساتھ کھڑا ہو جا نا چاہیے۔اس صورت میںیہ ان کی شرعی اوراخلاقی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان کی تائید کریں اور اس راہ میں ہر مشکل کو عزیمت کے ساتھ برداشت کریں۔اگر وہ اس موقف کو غلط کہتے ہیں تو ان کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ ان سے بات کریں اور انہیں متوجہ کریں کہ ان کی فکر اور طرزِ عمل دونوں اصلاح طلب ہیں۔اگر وہ مان کر نہ دیں تو ان سے اظہارِ برأت کریں۔طالبان کے بارے میں یہ ایک عمومی غلط فہمی ہے کہ یہ ڈرون حملوں کے خلاف کسی جذباتی رد عمل کا نام ہے۔یہ ایک مستقل بالذات نقطہ نظر ہے۔دین کی ایک تعبیر ہے۔ طالبان اپنا موقف قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کئی بارعلما کو براہ راست مخاطب کیا ہے۔ طالبان اگر کسی طبقے کا احترام کرتے ہیں تو وہ دیوبندی علما ہیں۔ یہ ان علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ طالبان کے ان دلائل کا ابطال کریں اگر ان کے نزدیک یہ غلط ہیں۔اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ اگر یہ علما طالبان کی شوریٰ سے مذاکرات کریں جس کے بارے میںیہ کہا جاتا ہے کہ علما پر مشتمل ہے تو بہتر نتائج کی توقع ہو سکتی ہے۔ دیوبندی علما کے پاس یہی دو راستے ہیں۔

بایں ہمہ شیعہ بریلوی اتحاد بھی صرف مسلکی وفرقہ وارانہ عصبیت کا اظہارہے۔ اس سے دین اور مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں ہوگی۔اس اتحاد کا اصراربھی مذہبی جلوسوں جیسی سرگرمیوں پر ہے ۔کیا ہی اچھا ہو تا کہ ہم گروہی اور مسلکی عصبیت کے بارے میں جتنے سنجیدہ ہیں، اس کے عشرِ عشیر کا مظاہرہ دینی عصبیت کے باب میں بھی کرتے۔ اس قوم کو اب وحدت کی ضرورت ہے۔تقسیم کی کوئی کوشش محمود نہیں ہوسکتی۔ہمارے ہاں سیاسی عصبیتیں پاکستانی عصبیت سے زیادہ توانا ہو رہی ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے جناب الطاف حسین کی غزل اور اس پر بلاول کا جواب آں غزل سن لیں۔اسی طرح مذہبی جماعتوں کا رویہ بتا رہا ہے کہ انہیں اپنی شناخت دینی شناخت سے زیادہ پیاری ہے۔مجھے اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں اگر سیکولرازم کو کسی دور میں پذیرائی ملی تو اس کا واحد سبب اہلِ مذہب کا رویہ ہوگا۔مغرب میں اگر مذہب سماج سے لاتعلق بنا دیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری اہلِ کلیسا پر ہے۔ہمارا معاشرہ بھی تیزی کے ساتھ اسی سمت میں بڑھ رہا ہے۔ مذہب انسان کواخروی زندگی کے لیے تیا ر کرتا ہے۔اس کا راستہ تزکیہ نفس ہے۔جب تک مذہب کا یہ کردار بحال نہیں ہو گا ،وہ ایک سماجی مسئلہ بنتا چلا جائے گا۔مذہبی گروہ اس وقت اسی کے لیے راہ ہموارکر رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ 'شیخ الہند کانفرنس‘ کا اعلامیہ اس وقت مسلکی ہم آہنگی اور تشدد کے خلاف وحدت کی بنیاد بن سکتاہے۔یہ اعلامیہ اور نیا مذہبی اتحاد تمام مسالک کے علما کو دعوتِ فکر دے رہاہے۔کوئی ہے جو غور کرے؟ 

بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 08 جنوری 2014
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : May 23, 2016
1863 View