رہے دیکھتے اوروں کے عیب وہنر - ڈاکٹر وسیم مفتی

رہے دیکھتے اوروں کے عیب وہنر

 

ہر وقت لوگوں کے نقص تلاش کرنا اور ان کی غلطیوں کا کھوج لگانا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ دوسرا مضحکہ خیز حرکت کرے، کچھ بھول جائے یا کوئی غلطی کرے یہ فٹ سے اس پر گرفت کریں گے۔ مخاطب کی غلطی کو جتائیں گے اور اس پر  علانیہ تبصرہ کرنا اپنا فرض سمجھیں گے۔ کبھی ان کا انداز بے پروائی کا ہو گا اورکبھی طنز و استہزا کا۔
خامیاں خوبیاں سب میں ہوتی ہیں۔بلا مقصددوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنا کار عبث اور شیطانی کام ہے۔البتہ جیسے ہر انسان پر فرض ہے کہ وہ خود میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے اور خوبیوں کو اجاگر کرے اسی طرح اس پر لازم ہے کہ دوسروں کی اچھائیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی برائیوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرے۔ جہاں یہ خرابیاں دور کی جا سکتی ہوں ،دوسروں کو متنبہ کرنا اور برائیوں کے ازالے کے لیے ان سے تعاون کرنا بھی اس کے لیے لازم ہے۔ اس بات کی رہنمائی ہمیں اسلامی تعلیمات میں ملتی ہے ۔اﷲ تعالیٰ کا ایک نام ’’الستّار‘‘ہے۔اس کا مطلب ہے، وہ اپنی مخلوق کے عیبوں کی ستر پوشی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ’’الہادی‘‘بھی ہے یعنی اپنے بندوں کو گمراہی کے اندھیروں سے ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مان کر نہیں دیتے، نصیحت ان پر الٹا اثر ڈالتی ہے،انہیں اﷲ بھی ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے ۔ہمیں چاہیے ایسے لوگوں کو نصیحت کرنے کے لیے مناسب موقع کا انتظار کریں اور ان کی ہدایت کے لیے اﷲ سے دعا کریں ۔اﷲ ہی ہے جو اپنے فضل و رحمت سے لوگوں کے دلوں کو پھیر سکتا ہے۔
مضحکہ خیز حرکت اور بد حواسی کسی سے بھی سرزد ہو سکتی ہے ،عام طور پر اس کا سبب بھول جانا یا دماغ کا حاضر نہ ہونا ہوتا ہے۔مشاہدہ کرنے والا اس سے صرف نظرکر سکتا ہے اور اس حد تک محظوظ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے کی دل آزاری نہ ہو۔
کسی کو اس کی غلطی پربڑے پیار اور ہم دردی سے متنبہ کرنا چاہیے۔ذرا سا غلط لہجہ اختیار کیا جائے تو مخاطب غلطی کا ازالہ کرنے کے بجائے اس سے چپک جاتا ہے۔ نصیحت کرنے والا یہ بھی دیکھے ،کہیں وہ خود بھی ایسی ہی غلطی کا شکار نہیں؟’’دوسروں کو نصیحت ،خود میاں فضیحت‘‘ بننے سے اپنی یا دوسروں کی اصلاح کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ نصیحت کرنے کے انداز سے اس کی اثر پذیری پر بہت فرق پڑتاہے۔ناصح شفقت اور ہم دردی سے کام لے تو اس کی نصیحت دل پر اثر کرتی ہے ۔اگر وہ بے پروائی سے کام لے تو سننے والا سنی ان سنی کر دیتا ہے اور ٹھٹھا یااستہزا کرنے کی صورت میں تو بالکل الٹا اثر ہوتا ہے اورغلطی انا بن جاتی ہے۔ روک ٹوک کے عمل میں شیطان کی کارفرمائی بھی ہوسکتی ہے۔ایک مسلمان کے لیے شیطان کی پیروی سے بچنا ضروری ہے،وہ اپنی نیت کو درست کرلے اور محض اصلاح کے جذبے ہی سے کسی کو کچھ کہے۔جو شخص اپنی اصلاح نہیں کرتا اور ہر وقت دوسروں کی خرابیوں کی کھوج میں رہتا ہے وہی ان غلطیوں کا زیادہ شکار ہوتا ہے اس لیے اپنی برائیوں کے ازالے کو دوسروں کی اصلاح پر مقدم رکھنا چاہیے ۔دیکھا گیا ہے کہ اصلاح کے شوقین حضرات دوسروں کی کھوج میں رہتے ہیں تبھی تو ان کو دوسروں کی برائیوں کا زیادہ علم رہتا ہے۔یہاں نقص بینی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے ،’’ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو۔‘‘ ( حجرات:۱۲)بسا اوقات دوسرے کی برائی سے درگزر کرنا ہی قرین مصلحت ہوتا ہے یا اس کا چرچا کرنے سے مزید فساد پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔یہاں خاموش رہنا بہتر ہوتا ہے۔ ہمارے پیارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ’’ جس نے کسی مسلمان کی ستر پوشی کی ،اﷲ روز قیامت اس کی ستر پوشی کرے گا۔‘‘ (بخاری: ۲۴۴۲)اگر کسی کو ٹوکنے کی ضرورت پیش آئے تو بڑی نرمی اور ملائمت سے ٹوکا جائے کہ اس کی دل آزاری نہ ہو۔ آپ کا ارشاد ہے: ’’اچھی بات کرنا بھی صدقے کا ثواب رکھتا ہے۔‘‘(بخاری:۲۹۸۹)

 

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت اگست 2011
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Aug 23, 2016
2356 View