شیطان کے کارندے - طالب محسن

شیطان کے کارندے

 

عن جابر رضی اﷲ عنہ قال : قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إن إبلیس یضع عرشہ علی الماء ۔ ثم یبعث سرایاہ یفتنون الناس فأدناھم منہ منزلۃ أعظمھم فتنۃ ۔ یجئ أحدھم فیقول : فعلت کذا و کذا ۔ فیقول : ما صنعت شیئا ۔ قال : ثم یجئ أحدھم فیقول : ما ترکتہ حتی فرقت بینہ و بین إمرأتہ ۔ قال : فیدنیہ منہ ۔ فیقول : نعم أنت ۔ قال الأعمش : أراہ ۔ قال : فیلتزمہ ۔
’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے ۔ پھر وہ مہمات بھیجتا ہے جو لوگوں کو فتنوں میں ڈالتی ہیں۔ جو ان میں سب سے بڑا فتنہ پرداز ہوتا ہے وہ مرتبے میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔ ان میں سے ایک آتا ہے ، پھر وہ بیان کرتا ہے : میں نے یوں اور یوں کیا ۔ پھر وہ کہتا ہے : تم تو کچھ بھی نہیں کر سکے ،پھر ایک اور آتا ہے ، آکر کہتا ہے : میں نے اسے نہیں چھوڑا ،یہاں تک کہ اس کے اور اس کی گھر والی کے مابین تفریق کرا دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے تم کیا خوب ہو ۔ اعمش کہتے کہ میرے خیال میں آپ نے فرمایا تھا : پھر وہ اسے لپٹا لیتا ہے ۔ ‘‘

لغوی مباحث

عرش: صاحبِ اقتدار کی نشست۔
یفتنون : آزمایش میں ڈالتے ہیں۔
فرقت : تفریق کرا دیتے ہیں ۔
نعم أنت : تم کیا خوب ہو ۔
یلتزم : لپٹنا ۔ چمٹ جانا۔

متون

اس روایت کا تفصیلی متن یہی ہے ۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے ۔ باقی کتابوں میں فتنوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ۔ صرف یہ خبر دی گئی ہے کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اس کے ہاں بڑے مراتب اسے حاصل ہوتے ہیں جو انسانوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ سامان ہوتا ہے ۔

معنی

یہ روایت بھی ان اخبار میں سے ہے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا گیا اور آپ نے اپنی امت کو باخبر کیا ۔ اس روایت میں پہلی بات یہ واضح کی گئی ہے کہ شیطان اپنی فتنہ سامانیوں میں اکیلا نہیں ہے ۔ اس کا کارخانہ خود اس پر اور اس کے بہت سے کارندوں پر مشتمل ہے ۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شیطان کے یہ کارندے ہر ہر طرح کی برائیوں کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے بار بار وسوسہ اندازی کرتے ہیں ۔تیسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ مرغوب زوجین میں مناقشہ پیدا کرنا ہے ۔ انسانی سماج کی خیر و فلاح کا انحصار گھر کے سکون پر ہے ۔ اگر یہ سکون غارت ہو تو اس کے نتیجے میں صرف دو مرد وعورت ہی متاثر نہیں ہوتے ، بلکہ ان کے بچے اور ان کے خاندان بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل کی صحیح خطوط پر تربیت شدید طور پر متاثر ہوتی ہے ۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ میاں بیوی کی مثال ایک نمایاں مثال کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے ۔ شیطان کا ہدف تمام انسانی تعلقات ہیں ۔ وہ ہر ہر رشتے کو توڑنا چاہتا ہے ۔ چنانچہ وہ بہنوں اور بھائیوں ، والدین اور اولاد اور دوست اور دوست کے مابین بھی منافرت کے بیج بوتا رہتا ہے ۔
اس سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہوتا ہے ۔ ان روابط کی درستی انسانی اخلاق کی درستی کی مرہون ہے ۔ چنانچہ حقیقت میں اس کا اصل ہدف اخلاق کی بربادی ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس لیے بیان کر دی ہے کہ ہر انسان اخلاق کے معاملے میں شیطان کی دراندازیوں پر متنبہ رہے ۔

کتابیات

مسلم ، کتاب صفۃ القیامہ و الجنہ والنار ، باب ۱۷۔مسند احمد، مسند جابر بن عبداللہ ۔

 

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت فروری 2001
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Nov 02, 2016
2085 View