ممنوع نذریں - محمد رفیع مفتی

ممنوع نذریں

 

رو۱ی أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:۱ لا نذر ولا یمین۲ فی معصیۃ اللّٰہ عز وجل ولا فیما لا یملک بن آدم ولا فی قطیعۃ رحم۳ وکفارتہ کفارۃ یمین.۴

روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی نذر اور قسم جائز نہیں اللہ بزرگ و برتر کی معصیت (کے کسی کام)میں، نہ اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو اور نہ قطع رحمی کے کسی کام میں،۱؂ (اگر انسان نے اس طرح کے کسی کام میں نذر مانی یا قسم کھائی ہو تو وہ اسے توڑے) اور اس کا کفارہ دے۲؂ اور اس (نذر)کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔۳؂

ترجمے کے حواشی

۱۔نذر میں انسان خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کوئی عمل کرتا ہے اور قسم میں انسان خدا کو اپنی بات کا گواہ بناتا ہے۔ معصیت کے کسی کام کے ذریعے سے نہ خدا کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے کسی ایسے کام پر گواہ بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا معصیت کی قسم اور نذر، دونوں ہی ناجائز ہیں۔
اسی طرح یہ بات بھی ضروری ہے کہ انسان جس چیز پر کوئی قسم کھائے یا جس کے بارے میں کوئی نذر مانے، وہ چیز اس کی اپنی ملکیت ہو اور اسے اس پر حق تصرف حاصل ہو، ورنہ وہ اپنی قسم یا نذر پر عمل ہی نہ کر سکے گا۔چنانچہ دوسرے کی ملکیت کے بارے میں نہ کوئی قسم کھانا جائز ہے اور نہ نذر ماننا۔
قطع رحمی اختیار کرنا، رشتوں کی جڑ پر کلہاڑا چلانا ہے، خدا کے نزدیک یہ سخت گناہ کی بات ہے۔چنانچہ اس پر قسم کھا لینا یا اس حوالے سے کوئی نذر ماننا، دونوں ہی ممنوع ہیں۔
۲۔نذر چونکہ آدمی کے ذمے قرض کی طرح واجب الادا ہوتی ہے، اس لیے اگر ناجائز ہونے کی بنا پر وہ نہیں بھی پوری کی جا رہی، تب بھی اس کا کفارہ دینا ہو گا۔
۳۔قسم کا کفارہ یہ ہے کہ آدمی دس مسکینوں کو اس معیار کا کھانا کھلائے، جو وہ عام طور پر اپنے اہل و عیال کو کھلاتا ہے یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دے یا ایک غلام آزاد کرے، اگر ان میں سے کچھ بھی میسر نہ ہو تو پھر وہ تین دن کے روزے رکھے۔

متن کے حواشی

۱۔اپنی اصل کے اعتبار سے یہ نسائی کی روایت، رقم۳۸۱۲ہے۔بعض اختلافات کے ساتھ یہ مضمون یا اس کے کچھ حصے حسب ذیل(۶۴)مقامات پر نقل ہوئے ہیں:
احمد بن حنبل، رقم۶۹۹۰، ۱۹۸۶۹، ۶۷۳۲، ۱۶۴۳۲، ۱۶۴۳۴، ۱۶۴۳۶، ۲۶۱۴۰، ۲۶۱۴۱، ۱۴۲۰۰؛ ابوداؤد، رقم۳۲۷۴،۳۲۷۲، ۳۲۷۳،۳۲۵۷،۳۲۹۰،۳۲۹۲؛نسائی، رقم۳۷۹۲، ۳۸۴۹، ۳۸۵۰، ۳۸۵۱، ۳۸۱۳، ۳۸۳۳، ۳۸۳۴،۳۸۳۵، ۳۸۳۶، ۳۸۳۷، ۳۸۳۸، ۳۸۳۹، ۳۸۴۰، ۳۸۴۱، ۳۸۴۸؛ ابن ماجہ،رقم ۲۱۲۴، ۲۱۲۵؛ دارمی، رقم۲۳۳۷؛ صحیح ابن حبان،رقم۴۳۹۱، ۴۳۹۲، ۴۳۵۵؛ بیہقی، رقم ۱۹۸۴۴، ۱۹۸۷۷، ۱۹۶۴۳، ۱۹۶۴۴، ۱۹۶۴۲، ۱۹۸۲۴، ۱۹۶۱۹، ۱۹۸۳۵، ۱۹۷۶۸، ۱۹۸۴۶، ۱۹۸۴۷، ۱۹۸۴۸، ۱۹۸۴۹، ۱۹۸۵۴، ۱۹۸۵۷، ۱۹۸۵۹، ۱۹۸۶۴؛ ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۱۴۵، ۱۲۱۵۷، ۱۲۱۵۸، ۱۲۱۵۴؛ بخاری، رقم ۵۷۰۰؛ مسلم، رقم ۱۱۰، ۱۶۴۱؛ابو یعلیٰ، رقم ۱۵۳۵، ۴۷۸۳؛ ترمذی، رقم ۱۵۲۴،۱۵۲۵۔
بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم۶۹۹۰میں ’فیما لا یملک بن آدم‘(اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو)کے الفاظ پہلے آئے اور’فی معصیۃ اللّٰہ عز وجل‘(اللہ بزرگ و برتر کی معصیت میں)کے الفاظ بعد میں آئے ہیں، ’ولا فی قطیعۃ رحم‘(اور نہ قطع رحمی میں)کی جگہ ’ولا قطیعۃ رحم‘(اور نہ قطع رحمی میں)کے الفاظ آئے ہیں اور اس میں ’وکفارتہ کفارۃ یمین‘(نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے)کی جگہ ’فمن حلف علی یمین فرأی غیرہا خیرا منہا فلیدعہا ولیأت الذی ہو خیر فإن ترکہا کفارتہا‘(چنانچہ جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس سے مختلف بات کو اس سے زیادہ بہتر پایا تو اسے چاہیے کہ وہ قسم کو ترک کر دے اور اس بہتر بات کو اختیار کرے، کیونکہ اس کو ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے)کے الفاظ موجود ہیں، البتہ اس کی سند میں ضعف ہے، لہٰذا اس میں موجود مختلف بات’فإن ترکہا کفارتہا‘(کیونکہ اس کو ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے)کو ہم زیر بحث ہی نہیں لا رہے۔
بعض روایات مثلاً ابوداؤد، رقم ۳۲۷۴ میں ’وکفارتہ کفارۃ یمین‘(نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے)کی جگہ’ومن حلف علی یمین فرأی غیرہا خیرا منہا فلیدعہا ولیأت الذی ہو خیر فإن ترکہا کفارتہا‘(اور جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس سے مختلف بات کو اس سے زیادہ بہتر پایا تو اسے چاہیے کہ وہ قسم کو ترک کر دے اور اس بہتر بات کو اختیار کرے کیونکہ اس کو ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے۔)کے الفاظ موجود ہیں، البتہ اس کی سند میں ضعف ہے، لہٰذا اس میں موجود مختلف بات ’فإن ترکہا کفارتہا‘(کیونکہ اس کو ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے)کو ہم زیر بحث ہی نہیں لا رہے۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم۳۷۹۲میں’فیما لا یملک بن آدم‘(اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو)کی جگہ ’فیما لا تملک‘(اس میں جس کے تم مالک ہی نہیں)کے الفاظ آئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم ۳۸۱۲میں ’لا نذر ولا یمین‘(کوئی نذر اور قسم جائز نہیں)کے بجائے ’لا نذر‘ (کوئی نذر جائز نہیں)کے الفاظ ہیں اور ’اللّٰہ عز وجل‘(خداے بزرگ و برتر)کے الفاظ کے بجائے ’اللّٰہ‘کا لفظ روایت ہوا ہے۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم۳۸۵۰میں ’معصیۃ اللّٰہ‘(اللہ کی نافرمانی)کے بجائے ’معصیۃ‘ (نافرمانی) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً دارمی، رقم۲۳۳۷میں ’لا نذر ولا یمین‘(کوئی نذر اور قسم جائز نہیں)کے بجائے’لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللّٰہ‘(اللہ کی معصیت کے کسی کام میں نذر کا پورا کرنا درست نہیں)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم۱۹۸۶۹میں ’اللّٰہ عز وجل‘(اللہ بزرگ و برتر)کے بجائے ’اللّٰہ تبارک وتعالٰی‘(اللہ بلند و بابرکت)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن حبان، رقم ۴۳۹۱میں ’لا نذر ولا یمین فی معصیۃ اللّٰہ عز وجل ولا فیما لا یملک بن آدم‘(کوئی نذر اور قسم جائز نہیں اللہ بزرگ و برتر کی معصیت میں، نہ اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو)کے بجائے ’لا وفاء لنذر فی معصیۃ ولا وفاء لنذر فیما لا یملک العبد أو بن آدم‘(کسی معصیت میں نذر کو پورا کرنا درست نہیں اور نہ اس چیز میں جس کا بندہ یا انسان مالک ہی نہ ہو)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۱۴۵میں ’لا یملک بن آدم‘(انسان مالک نہ ہو)کے بجائے’لا یملک العبد‘(بندہ مالک نہ ہو)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم۶۷۳۲میں’لا نذر ولا یمین فی معصیۃ اللّٰہ‘(کوئی نذر اور قسم جائز نہیں اللہ کی معصیت میں)کے بجائے ’لا نذر الا فیما ابتغی بہ وجہ اللّٰہ‘ (صرف انھی کاموں کی نذر درست ہے جن سے اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں اور ’ولا فی قطیعۃ رحم‘(اور نہ قطع رحمی میں)کے بجائے ’ولا یمین فی قطیعۃ رحم‘(اور نہ کوئی قسم جائز ہے قطع رحمی میں)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں اور بعض روایات مثلاً ابوداؤد، رقم۳۲۷۳میں یہی الفاظ ہیں، لیکن ’ابتغی‘(چاہنا)کے بجائے ’یبتغی‘ (چاہتا ہے)کے الفاظ ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن حبان، رقم۴۳۹۲میں ’لا نذر ولا یمین فی معصیۃ اللّٰہ‘(کوئی نذر اور قسم جائز نہیں اللہ کی معصیت میں)کے بجائے ’لا وفاء لنذر لابن آدم فی معصیۃ‘(ابن آدم کے لیے کسی معصیت میں کوئی نذر پورا کرنا جائز نہیں)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم۱۹۸۳۵میں ’کفارتہ کفارۃ یمین‘(اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے)کے بجائے ’کفارۃ النذر کفارۃ الیمین‘(نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم۳۸۴۸میں ’معصیۃ‘(گناہ)کے بجائے ’المعصیۃ‘(گناہ)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۱۵۴میں ’ولا فیما لا یملک بن آدم‘(اور نہ اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو)کے بجائے ’لیس علی رجل نذر فیما لا یملک‘(آدمی پر اس چیز میں نذر نہیں جس کا وہ مالک ہی نہ ہو)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم۱۹۶۴۴میں زیر بحث روایت سے متعلق الفاظ کے بعد’ومن حلف علی یمین فرأی غیرہا خیرا منہا فلیدعہا ولیأت الذی ہو خیر فإن ترکہا کفارتہا‘(اور جس نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس سے بہتر کوئی کام اس کے سامنے آیا تو اسے چاہیے کہ قسم کو چھوڑ دے اور اس بہتر کام کو اختیار کرے، کیونکہ اسے ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
درج بالا روایت کا مضمون بیہقی، رقم ۱۹۶۴۳میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من طلق ما لا یملک فلا طلاق لہ ومن أعتق ما لا یملک فلا عتاقۃ لہ ومن نذر فیما لا یملک فلا نذر لہ ومن حلف علی معصیۃ اللّٰہ فلا یمین لہ ومن حلف علی قطیعۃ رحم فلا یمین لہ.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اس (عورت)کو طلاق دی جو اس کے نکاح ہی میں نہیں تو اس کی کوئی طلاق نہیں، جس نے اس غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا جس کا وہ مالک ہی نہیں تو اس کا آزاد کرنا کوئی چیز نہیں، جس نے اس چیز میں نذر مانی جس کا وہ مالک ہی نہیں تو اس کی کوئی نذر نہیں، جس نے اللہ کی معصیت کا کوئی کام کرنے کی قسم کھائی تو اس کی کوئی قسم نہیں اور جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی تو اس کی بھی کوئی قسم نہیں۔‘‘

بعض روایات مثلاً ابن حبان، رقم۴۳۵۵میں ’لا نذر ولا یمین فی معصیۃ اللّٰہ عز وجل ولا فیما لا یملک بن آدم ولا فی قطیعۃ رحم‘(کوئی نذر اور قسم جائز نہیں اللہ بزرگ و برتر کی معصیت میں، نہ اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو اور نہ قطع رحمی میں)کے بجائے’لا یمین علیک ولا نذر فی معصیۃ ولا فی قطیعۃ رحم ولا فیما لا تملک‘(تمھارے اوپر معصیت کے کسی کام میں، قطع رحمی میں اور اس چیز میں جس کے تم مالک ہی نہ ہو، نہ کوئی قسم لازم ہے نہ کوئی نذر)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم۱۹۶۴۲میں’لا نذر ولا یمین‘(نہ کوئی نذر اور نہ کوئی قسم)کے الفاظ کے بجائے ’لا یمین ولا نذر‘(نہ کوئی قسم اور نہ کوئی نذر)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں اور ’فی معصیۃ اللّٰہ‘(اللہ کی معصیت میں)کے بجائے ’فیما یسخط الرب‘(جس میں رب ناراض ہوتا ہے)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم۱۹۸۲۴میں’معصیۃ اللّٰہ‘(اللہ کی معصیت)کے بجائے ’معصیۃ الرب‘(رب کی معصیت)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بخاری، رقم۵۷۰۰میں کچھ الفاظ اسی روایت سے متعلق آئے ہیں:

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من حلف علی ملۃ غیر الإسلام فہو کما قال ولیس علی بن آدم نذر فیما لا یملک ومن قتل نفسہ بشیء فی الدنیا عذب بہ یوم القیامۃ ومن لعن مؤمنا فہو کقتلہ ومن قذف مؤمنا بکفر فہو کقتلہ.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اسلام کے علاوہ کسی ملت پر ہونے کی (جھوٹی)قسم کھائی تو وہ اسی ملت میں شمار ہو گا، انسان پر اس چیز میں کوئی نذر نہیں جس کا وہ مالک ہی نہ ہو، جس نے دنیا میں اپنے آپ کو کسی چیز سے مار ڈالا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مومن پر لعنت کی تو یہ چیز اسے قتل کر ڈالنے کی مثل ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا بہتان لگایا تو یہ چیز بھی اس کے قتل ہی کی مثل ہے۔‘‘

بعض روایات مثلاً مسلم، رقم۱۱۰میں اس درج بالا حدیث کے الفاظ’علی ملۃ غیر الإسلام‘(اسلام کے علاوہ کسی ملت پر)کے بجائے ’علی یمین بملۃ غیر الاسلام کاذبا‘(اسلام کے علاوہ کسی ملت پر جھوٹی قسم) کے الفاظ،’بشیء فی الدنیا‘(کسی چیز سے دنیا میں)کے بجائے ’بشیء‘(کسی چیز کے ساتھ) کے الفاظ، ’علی بن آدم‘(انسان پر) کے بجائے ’علی رجل‘(آدمی پر)کے الفاظ ہیں اور’فیما لا یملک‘(اس چیز میں جس کا وہ مالک نہیں)کے بجائے ’فی شیء لا یملکہ‘(اس چیز میں جس کا وہ مالک نہ ہو)کے الفاظ اور ’ومن لعن مؤمنا فہو‘(جس نے مومن پر لعنت کی تو یہ)کے بجائے ’لعن المؤمن‘(مومن پر لعنت کرنا)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔اس روایت میں مزید’ومن ادعی دعوی کاذبۃ لیتکثر بہا لم یزدہ اللّٰہ إلا قلۃ ومن حلف علی یمین صبر فاجرۃ‘(جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے جھوٹا دعویٰ کرے گا تو اللہ اس کے مال کو کم ہی کرے گا اور جس نے حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائی (تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصے ہو گا)) کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ بعض روایات مثلاً ابوداؤد، رقم۳۲۵۷میں’علی ملۃ غیر الإسلام‘(اسلام کے علاوہ کسی ملت پر)کے بجائے ’بملۃ غیر ملۃ الاسلام کاذبا‘(ملت اسلام کے علاوہ کسی ملت پر جھوٹی)کے الفاظ اور ’فیما لا یملک‘(اس چیز میں جس کا وہ مالک نہیں)کے بجائے ’فیما لا یملکہ‘(اس چیز میں جس کا وہ مالک نہیں)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔بعض روایات مثلاً نسائی، رقم۳۸۱۳میں ’علی ملۃ غیر الإسلام‘(اسلام کے علاوہ کسی ملت پر)کے بجائے ’بملۃ سوی ملۃ الاسلام کاذبا‘(ملت اسلام کے علاوہ کسی ملت پر جھوٹی)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل،رقم ۱۶۴۳۲میں’یوم القیامۃ‘(قیامت کے دن)کی جگہ ’فی الآخرۃ‘(آخرت میں)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں اور ’ومن قذف مؤمنا بکفر‘(جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی)کے بجائے ’من رمی مؤمنا بکفر‘(جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم۱۶۴۳۴میں ’من حلف علی ملۃ غیر الإسلام‘ (جس نے اسلام کے علاوہ کسی ملت پر ہونے کی قسم کھائی)کے بجائے ’من حلف علی یمین بملۃ سوی الإسلام‘ (جس نے اسلام کے علاوہ کسی ملت پر ہونے کی قسم کھائی)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم۱۶۴۳۶ میں ’غیر الإسلام‘(اسلام کے علاوہ)کے بجائے ’سوی الإسلام‘(اسلام کے سوا)کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم۱۹۶۱۹میں’علی بن آدم‘(انسان پر)کے بجائے ’علی المؤمن‘ (مومن پر) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بیہقی، رقم۱۹۸۶۴میں زیر بحث روایت کے مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من نذر نذرا لم یسمہ فکفارتہ کفارۃ یمین ومن نذر نذرا فی معصیۃ اللّٰہ عز وجل فکفارتہ کفارۃ یمین ومن نذر نذرا لم یطقہ فکفارتہ کفارۃ یمین ومن نذر نذرا فأطاقہ فلیف بہ.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے غیرمتعین نذر مانی، اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، جس نے اللہ بزرگ وبرتر کی معصیت میں نذر مانی، اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، جس نے ایسی نذر مانی جو اس کے بس ہی میں نہیں، اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جسے وہ پورا کر سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا کرے۔‘‘

مسلم، رقم۱۶۴۱میں اسی روایت سے متعلق حصہ درج ذیل واقعے کے سیاق میں لایا گیا ہے:

روی أن أسرت امرأۃ من الأنصار وأصیبت العضباء فکانت المرأۃ فی الوثاق وکان القوم یریحون نعمہم بین یدی بیوتہم فانفلتت ذات لیلۃ من الوثاق فأتت الإبل فجعلت إذا دنت من البعیر رغا فتترکہ حتی تنتہی إلی العضباء فلم ترغ قال وناقۃ منوقۃ فقعدت فی عجزہا ثم زجرتہا فانطلقت ونذروا بہا فطلبوہا فأعجزتہم قال ونذرت للّٰہ إن نجاہا اللّٰہ علیہا لتنحرنہا فلما قدمت المدینۃ رآہا الناس فقالوا العضباء ناقۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالت إنہا نذرت إن نجاہا اللّٰہ علیہا لتنحرنہا فأتوا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فذکروا ذلک لہ فقال سبحان اللّٰہ بئسما جزتہا نذرت للّٰہ إن نجاہا اللّٰہ علیہا لتنحرنہا لا وفاء لنذر فی معصیۃ ولا فیما لا یملک العبد،...(وفی روایۃ أخرٰی) لا نذر فی معصیۃ اللّٰہ.
’’یہ روایت کیا گیا ہے کہ انصار کی ایک عورت گرفتار ہو گئی اور (اس کے ساتھ) عضبا اونٹنی بھی پکڑی گئی۔ (گرفتار کرنے والوں نے)عورت کو باندھا ہوا تھا۔ ایک رات جبکہ وہ لوگ اپنے گھروں کے سامنے جانوروں کو آرام پہنچا رہے تھے، وہ عورت اپنے بندھن سے آزاد ہو گئی اور اونٹوں کے پاس آئی۔ وہ جونہی کسی اونٹ کے قریب جاتی، وہ آواز کرنے لگتا، یہاں تک کہ جب وہ عضبا اونٹنی کے پاس آئی تو اس نے کوئی آواز نہیں نکالی، راوی کہتا ہے کہ وہ بڑی سدھائی ہوئی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس پر سوار ہوئی اور (چلانے کے لیے) اسے ڈانٹا، تو وہ چل پڑی۔لوگوں کو اس (عورت کے بھاگنے) کی خبر ہو گئی، چنانچہ انھوں نے اسے پکڑنے کے لیے اس کا پیچھا کیا، لیکن عضبا نے ان کو تھکا دیا۔ راوی کہتا ہے کہ اس عورت نے اللہ کے لیے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس اونٹنی کے ذریعے سے نجات دے دی تو وہ ضرور اس کی قربانی کرے گی۔ پھر جب وہ مدینہ پہنچی تو لوگوں نے اسے (اور اس کی اونٹنی کو)دیکھا تو کہنے لگے یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضبا ہے، (لاؤ، اسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائیں) تو اس عورت نے کہا:میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے مجھے اس اونٹنی کے ذریعے سے نجات دے دی تو میں ضرور اس کی قربانی کروں گی۔چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے یہ بیان کیا تو آپ نے اس عورت سے فرمایا: سبحان اللہ، تو نے اسے کیسا برابدلہ دیا، تو نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ نے تجھے اس اونٹنی کے ذریعے سے نجات دے دی تو تو اس کو ذبح کر دے گی، (یاد رکھو)کسی معصیت میں نذر کو پورا کرنا درست نہیں، نہ اس چیز میں جس کا بندہ مالک ہی نہ ہو...(اور ایک دوسری روایت میں ہے)اللہ کی معصیت میں کوئی نذر نہیں ہوتی۔‘‘

یہی واقعہ کم و بیش انھی الفاظ میں بیہقی، رقم۱۹۸۷۷میں بھی بیان ہوا ہے۔
۲۔’ولا یمین‘کے الفاظ احمد بن حنبل، رقم ۶۹۹۰سے لیے گئے ہیں۔
۳۔’ولا فی قطیعۃ رحم‘کے الفاظ سنن البیہقی، رقم ۱۹۶۴۴سے لیے گئے ہیں۔
۴۔’وکفارتہ کفارۃ یمین‘کے الفاظ سنن ابی داؤد، رقم۳۲۹۰سے لیے گئے ہیں۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت مئی 2007
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Oct 21, 2016
2115 View