قانون دعوت: چند منتخب احادیث - محمد رفیع مفتی

قانون دعوت: چند منتخب احادیث

نگران کی مسؤلیت
(۱)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ]قَالَ[ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِیْ أَہْلِہِ وَہُوَ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِیْ بَیْتِ زَوْجِہَا وَمَسْءُوْلَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِیْ مَالِ سَیِّدِہِ وَمَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ. قَالَ: وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ: وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِیْ مَالِ أَبِیہِ وَمَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ.(بخاری، رقم ۸۹۳،۲۵۵۴)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگران بنایا گیا ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (قوم کا) رہنما (اس کا) نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ (ابن عمر) کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ (چنانچہ) تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
توضیح:
انسان اس دنیا میں شتر بے مہار نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اسے اپنے سب افعال و اعمال کے بارے میں اپنے رب کو جواب دینا ہو گا۔ اس جواب دہی میں کامیابی ہی اسے جنت کی طرف لے جائے گی اور اس میں ناکامی اسے دوزخ میں دھکیلنے کا باعث ہو گی۔ 
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خدا کے ہاں انسان کو صرف اپنے ذاتی افعال و اعمال ہی کا جواب نہیں دینا ہو گا، بلکہ اسے ان سب لوگوں اور اشیا کے بارے میں جواب دینا ہو گا جن کا وہ نگران بنایا گیا تھا اور اسے ان پر اختیار حاصل تھا۔
آپ نے اس کی تفصیل کرتے ہوئے یہ چھ باتیں فرمائیں:
۱۔ قوم کا رہنما قوم کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
۲۔ آدمی اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
۳۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ 
۴۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ 
۵۔ آدمی اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ 
۶۔ ہر شخص ایک نگران بنایا گیا ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ 
منکر کا استیصال
(۲)
عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ... سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ.(مسلم، رقم۴۹، رقم مسلسل۱۷۷)

حضرت ابو سعید (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سناکہ تم میں سے کوئی شخص (اپنے دائرۂ اختیار میں) کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہیے کہ ہاتھ سے اس کا ازالہ کرے، پھر اگر اس کی ہمت نہ ہو تو زبان سے اسے روکے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے ناگوار سمجھے اور یہ ایمان کا ادنیٰ ترین درجہ ہے۔
توضیح:
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ یہ انسان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں برائی کو گوارا نہ کرے اور اسے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اس معاملے میں اس کا کمزوری دکھانا اس کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہوگی۔ 
چنانچہ ہر شخص کے لیے یہ لازم ہے کہ اگر وہ اپنے دائرۂ اختیار میں کوئی برائی دیکھتا ہے تو اسے قوت سے مٹا دے، (الاّ یہ کہ ایسا کرنا دین ہی کی کسی حکمت کے خلاف ہو)، اگر وہ اسے قوت سے مٹانے کی ہمت نہیں رکھتا تو پھر اپنی زبان سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اس میں اس کی ہمت بھی نہیں ہے تو پھر کم از کم وہ دل سے اسے برا سمجھے، کیونکہ اگر وہ برائی کو دل سے بھی برانہیں سمجھتا تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔
نفاذِ حکم میں تدریج
(۳)
عَنْ عَاءِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا... إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَمِنْہُ سُوْرَۃٌ مِّنَ الْمُفَصَّلِ فِیْہَا ذِکْرُ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ حَتّٰی إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَی الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَیْءٍ لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ لَقَالُوْا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَوْ نَزَلَ لَا تَزْنُوْا لَقَالُوْا: لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا.(بخاری، رقم۴۹۹۳)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سب سے پہلی چیز جو قرآن مجید میں نازل ہوئی، وہ ’’مفصل‘‘کی ایک سورہ تھی جس میں جنت اور دوزخ کاذکر تھا، یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کے دائرے میں آ گئے ، تب حلت و حرمت کے احکام نازل ہوئے، اور (حقیقت یہ ہے کہ) اگر شروع ہی میں یہ حکم آ جاتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم شراب ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو تو وہ کہتے کہ ہم زنا ہرگز نہ چھوڑیں گے۔
توضیح:
رسول خدا کی براہ راست نگرانی اور اس کی رہنمائی میں اپنی قوم کو ایمان و عمل کی دعوت دیتا ہے۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو خدائے واحد پر ایمان لانے اور اس کے احکام بجا لانے کی دعوت دی تو اس وقت اس حکمت کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا کہ جیسے جیسے لوگوں کے دلوں میں ایمان کی دولت جاگزیں ہو، اسی طرح شریعت کے احکام ان پر نافذ کیے جائیں۔
آپ کی دعوت کا ذریعہ قرآن مجید تھا۔ خدا اپنے اس کلام کے ذریعے سے پہلے ذہنوں کو حق کا قائل کرتا، دلوں کو اس کی طرف مائل کرتا، طبائع کو اس پر آمادہ کرتا اور پھر لوگوں پر شریعت کے احکام نازل کرتا تھا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر اس کے برعکس ابتدا ہی میں یہ حکم آ جاتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم شراب ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو تو وہ کہتے کہ ہم زنا ہرگز نہ چھوڑیں گے۔
دین میں آسانی اور خوش خبری
(۴)
عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا.(بخاری، رقم۶۹)

حضرت انس (رضی اللہ عنہ )نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: لوگوں میں آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو، ان کو خوش خبری دو اور ان میں نفرت نہ پھیلاؤ۔
توضیح:
ایک ہی بات کہنے کے مختلف اسالیب ممکن ہیں۔ ان میں سے بعض وحشت ناک ہوتے ہیں اور بعض مانوس۔ اگر مخاطب بات سننے کو تیار نہ ہو تو مانوس اسلوب بھی وحشت ناک ہو جاتا ہے۔ 
اس حدیث میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دین کی جو بات بھی لوگوں کے سامنے پیش کی جائے، اس کو ہمیشہ اس پہلو سے پیش کرنا چاہیے جس سے مخاطب نفرت اور اجنبیت کے بجاے انس اور سہولت محسوس کرے۔

(۵)
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ أَعْرَابِیًّا بَالَ فِی الْمَسْجِدِ فَثَارَ إِلَیْہِ النَّاسُ لِیَقَعُوْا بِہِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: دَعُوْہُ وَأَہْرِیْقُوْا عَلٰی بَوْلِہِ ذَنُوْبًا مِّنْ مَاءٍ أَوْ سَجْلًا مِّنْ مَاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ.
(بخاری، رقم ۶۱۲۸)

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو لوگ بھڑک کر اس کی طرف اٹھے تاکہ اسے ماریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشا ب کیا ہے، وہاں پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تنگی کرنے والے نہیں۔
توضیح:
جہالت اور لا علمی کی بنا پر آدمی غلط سے غلط کام بھی بہت اعتماد کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص محض اپنی سادگی کی وجہ سے کوئی غلطی کر رہا ہے، تو پھر یہ ضروری ہے کہ وہ ہمارے کسی رد عمل کا شکار نہ ہو اور ہم صرف اس کی کم علمی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
اس حدیث میں جو واقعہ بیان ہوا ہے، وہ ایک لاعلم آدمی کے انتہائی غلط رویے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صبرو تحمل اور بردباری کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے اس موقع پر ان لوگوں کو جن میں یہ واقعہ دیکھ کر شدید رد عمل پیدا ہوا تھا، یہ تعلیم دی کہ تم مسجد کی اس جگہ پر جہاں اس بدو نے پیشاب کر دیا ہے، پانی بہا کر صاف کر دو اور خود آپ نے اس بدو کو یہ سمجھایا ۔۔۔۔جیسا کہ دوسری احادیث سے پتا چلتا ہے ۔۔۔۔یہ مسجد ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا، یہ اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہوتی ہے اور صحابۂ کرام سے یہ فرمایا کہ تم لوگوں کے لیے آسانی کرنے والے ہو، سختی کرنے والے نہیں ہو۔
وعظ و نصیحت میں اعتدال
(۶)
عَنْ أَبِیْ وَاءِلٍ، خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ کُنْتَ تَنَفَّسْتَ، فَقَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: إِنَّ طُوْلَ صَلٰوۃِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِہِ مَءِنَّۃٌ مِّنْ فِقْہِہِ فَأَطِیْلُوا الصَّلٰوۃَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَۃَ وَإِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا.
(مسلم، رقم۸۶۹، رقم مسلسل ۲۰۰۹)

حضرت ابو وائل (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضرت عمار نے ہمیں خطبہ دیا۔ وہ بہت مختصر اور بلیغ تھا۔ جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا کہ اے ابو یقظان، آپ نے خطبے میں بہت اختصار اور بلاغت سے کام لیا۔ اگر آپ اسے کچھ طویل کرتے تو بہتر ہوتا۔ تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا مختصر ہونا اس کی دانش مندی کی علامت ہے ،اس لیے نماز لمبی کرو اور خطبہ کومختصر کر دو اورجان لو کہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔

(۷)
عَنْ أَبِیْ وَاءِلٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یُذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِیْسٍ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُّ أَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا کُلَّ یَوْمٍ قَالَ: أَمَا إِنَّہُ یَمْنَعُنِیْ مِنْ ذٰلِکَ أَنِّیْ أَکْرَہُ أَنْ أُمِلَّکُمْ وَإِنِّیْ أَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یََتَخَوَّلُنَا بِہَا مَخَافَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا.(بخاری، رقم ۷۰)

حضرت ابو وائل (رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ عبداللہ (رضی اللہ عنہ) لوگوں کو ہر جمعرات کے دن نصیحت کیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن، میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں روزانہ نصیحت کیا کریں۔ انھوں نے فرمایا: میں یہ اس لیے نہیں کرتا کہ کہیں تم لوگوں کے لیے یہ بھاری نہ ہو جائے ۔میں بھی اسی طرح ناغہ کر کے تمھیں نصیحت کرتا ہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ناغہ کر کے نصیحت کیا کرتے تھے تا کہ ہم بے زار نہ ہو جائیں ۔
(۸)
عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدِّثِ النَّاسَ کُلَّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً فَإِنْ أَبَیْتَ فَمَرَّتَیْنِ فَإِنْ أَکْثَرْتَ فَثَلَاثَ مِرَارٍ وَلَا تُمِلَّ النَّاسَ ہَذَا الْقُرْآنَ وَلَا أُلْفِیَنَّکَ تَأْتِی الْقَوْمَ وَہُمْ فِیْ حَدِیثٍ مِّنْ حَدِیثِہِمْ فَتَقُصُّ عَلَیْہِمْ فَتَقْطَعُ عَلَیْہِمْ حَدِیثَہُمْ فَتُمِلُّہُمْ وَلٰکِنْ أَنْصِتْ فَإِذَا أَمَرُوْکَ فَحَدِّثْہُمْ وَہُمْ یَشْتَہُوْنَہُ.(بخاری، رقم۶۳۳۷)

حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ ) کا ارشاد ہے کہ لوگوں کو ہر جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کیا کرو۔ پھر اگر اس سے زیادہ کرنا چاہو تو ہفتہ میں دو مرتبہ اور اگر اس سے بھی زیادہ کرنا چاہو تو تین مرتبہ ۔لوگوں کو اس قرآن سے بے زار نہ کرو اور میں تمھیں اس طرح نہ دیکھوں کہ تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ اپنی باتوں میں لگے ہوں اور تم ان کی بات میں مداخلت کرکے انھیں وعظ سنانا شروع کر دو اور اس طرح انھیں بے زار کرو۔ یہ نہیں، بلکہ خاموش رہو، پھر جب لوگ فرمایش کریں تو انھیں سناؤ، اس طرح کہ وہ خواہش سے سنیں۔
توضیح:
درج بالا احادیث سے یہ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں:
۱۔ وعظ و نصیحت کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنا خطاب مختصر رکھے تاکہ وہ سننے والوں کے لیے بھاری نہ ہو۔ وہ اپنی نماز تو بے شک لمبی کرے، کیونکہ اس میں طوالت کا بوجھ صرف اسی پر پڑے گا، لیکن خطبے کو بہرحال طویل نہ ہونے دے۔
۲۔ وعظ و نصیحت کا عمل مناسب وقفوں کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ لوگ بے زار نہ ہوں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہی تھا کہ وہ لوگوں کو وقفے وقفے سے وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔
۳۔ وعظ و نصیحت تب کرنی چاہیے جب لوگوں کی طرف سے کسی نہ کسی درجے میں اس کی طلب سامنے آئے۔ 
انسانوں کا ذوق، ان کی ایمانی حالت اور ان کے طبائع ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں میں جوش عمل بہت زیادہ ہوتا ہے اور بعض میں کم۔ چنانچہ علماے دین کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے میں بہت اعتدال سے کام لیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے ہاں وعظ و نصیحت کی دینی بات سننے کا جذبہ دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے والے بھی ہوں، لیکن ہر کسی کا یہ معاملہ نہیں ہوتا۔ عام طور پر لوگ وعظ و نصیحت کی بات ایک حد سے زیادہ نہیں سن سکتے اور اگر انھیں زیادہ سنانے کی کوشش کی جائے تو یہ چیز ان کے اندر دین سے اکتاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پھر یہ اکتاہٹ ان کے لیے بہت بڑے نقصان کا باعث ہو گی۔ 
رسول کا انذار
(۹)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَیْنَاہُ وَعَلَا صَوْتُہُ وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ حَتّٰی کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ یَقُوْلُ: صَبَّحَکُمْ وَمَسَّاکُمْ.(مسلم، رقم۸۶۷، رقم مسلسل۲۰۰۵)

حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ )سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی ، جذبات میں تیزی آ جاتی ، یہاں تک کہ معلوم ہوتا کہ آپ کسی فوج کے آ پڑنے سے آگاہ کرنے والے ہیں جو لوگوں سے کہتا ہے کہ وہ تم پر صبح کو آ پڑے یا شام کوآ پڑے۔
توضیح:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی بات پر جو یقین تھا اور آپ کو حقائق کا جو فہم و شعور حاصل تھا، وہ آپ پر خطاب کے وقت یہ کیفیت طاری کر دیتا تھا کہ آپ اس طرح بات کرتے گویا کہ آپ قیامت اور احوال آخرت کو خدا کے وعدوں اور وعیدوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ 
یہ حدیث آپ کے انذار کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔

 

 

تاریخ: اپریل 2012
بشکریہ: محمد رفیع مفتی
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : May 28, 2016
3074 View