امام محمد بن اسماعیل بخاری - محمد رفیع مفتی

امام محمد بن اسماعیل بخاری

 

امام بخاری کا اصل نام محمد اور کنیت ابو عبداللہ ہے ۔ ان کا سلسلۂ نسب محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بروزبہ ہے۔ ان کے جد اعلیٰ بروزبہ مجوسی تھے اور فارس کے رہنے والے تھے۔ امام صاحب کے جد امجد مغیرہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اپنے خاندان میں سے اسلام قبول کیا۔ امام صاحب کے والد اسماعیل ثقاہت کے اعتبار سے چوتھے درجے کے معتبر محدثین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ امام صاحب۱۹۴ ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصلی وطن بخارا ہے۔ امام صاحب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے، چنانچہ ان کی والدہ ان کو اور ان کے بڑے بھائی احمد کو لے کر مکہ معظمہ چلی گئیں اور انھوں نے وہیں نشوونما پائی اور اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

تحصیل علم

امام صاحب کی تحصیل علم کا زمانہ بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ابتدائی تعلیم میں علم فقہ پر توجہ کی اور امام وکیع اور امام ابن مبارک جیسے اساتذۂ فن کی تصنیفات کا مطالعہ کیا۔ پندرہ برس کی عمر میں فقہ کی تعلیم سے فارغ ہوگئے تو حدیث کے مقدس فن کی طرف متوجہ ہوئے جس کی پریشان اور پراگندہ حالت ان کی آیندہ توجہ اور سر پرستی کا انتظار کر رہی تھی۔ اگرچہ اس تفصیل کا حال معلوم نہیں ہو سکا کہ امام صاحب نے کن مشائخ سے فن حدیث کی تعلیم حاصل کی، لیکن اس قدر مسلم ہے کہ ان کا فضل و کمال زیادہ تر اسحاق بن راہویہ اور علی مدینی کے فیضان تعلیم کا نتیجہ ہے۔

شیوخ و اساتذہ

امام صاحب کے اساتذہ میں سے چند نمایاں نام یہ ہیں : 
ضحاک بن مخلد، عبیداللہ بن موسیٰ عبسی، عبدالقدوس بن حجاج خولانی، محمد عبداللہ انصاری، اسحاق بن راہویہ، علی بن المدینی۔
امام صاحب کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ بغداد، بصرہ، خراسان ، کوفہ ، خوارزم، حجاز اور شام میں اس وقت کا کوئی ایسا محدث نہ تھا جس سے امام صاحب نے کچھ نہ کچھ اخذ نہ کیا ہو۔ ان کے تمام شیوخ کی مجموعی تعداد ایک ہزار اسی ہے۔
امام بخاری نے طلب حدیث میں دو مرتبہ ملک شام اور مصر کا دورہ کیا۔ چار مرتبہ بصرہ گئے۔ کئی مرتبہ کوفہ اور بغداد کا سفر کیا۔ حجاز مقدس میں چھ سال قیام کیا۔ آپ ایام حج میں مکہ معظمہ چلے جایا کرتے تھے۔

مجلس درس

امام صاحب کا حلقۂ درس نہایت وسیع تھا۔ مجلس درس کبھی گھر میں منعقد ہوتی کبھی مسجد میں۔ جب آپ نیشا پور گئے تو وہاں آپ کی تدریسی خدمات کا ذکر قدرے تفصیل سے ملتا ہے۔ نیشا پور میں آپ کا استقبال ایک بڑے معروف عالم اور عظیم محدث کی حیثیت سے کیا گیا۔ امام مسلم آپ کے اس استقبال کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’امام بخاری جب نیشا پور میں تشریف لائے تو اس دھوم دھام سے ان کا استقبال کیا گیا کہ والیان ملک اور سلاطین کو نصیب نہ ہوا ہو گا۔‘‘
امام صاحب نیشا پور پہنچ کر درس و تدریس حدیث میں مصروف ہو گئے۔ علماے شہر اکثر اوقات حاضر ہوا کرتے اور امام صاحب کی معلومات حدیث سے مستفیض ہوتے۔ خود امام مسلم کا یہ حال تھا کہ امام صاحب کی روزانہ کی مجلس کبھی ان سے خالی نہ ہوا کرتی تھی۔ ایک دن امام صاحب کی جامعیت اور تبحر علمی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بے اختیار امام صاحب کی پیشانی کو چوم لیا اور جوش میں آ کر کہا:
’’اے ملک حدیث کے بادشاہ مجھے اپنے قدم چومنے کی اجازت دے۔‘‘
امام محمد بن یحییٰ ذہلی اس پائے کے شخص تھے کہ امام مسلم کے استاد اور نیشا پور کے مانے ہوئے محدث تھے ۔ انھوں نے اپنے تمام شاگردوں کو حکم دے دیا تھا کہ امام صاحب کی مجلس تدریس میں حاضر ہو ا کریں ۔ خود امام صاحب کی شہرت اور فضل و کمال نے اس طرح لوگوں کو گرویدہ کر لیا کہ امام ذہلی جیسے بزرگوں کی مجلسیں بے رونق ہو گئیں۔

تلامذہ

امام بخاری سے کسب فیض حاصل کرنے والے چند قابل ذکر نام یہ ہیں : 
امام ترمذی، امام مسلم، ابراہیم بن اسحاق الحری، محمد بن احمد دولابی۔ 
امام بخاری کے درس کا حلقہ نہایت وسیع تھا۔ امام بخاری سے براہ راست نوے ہزار آدمیوں نے جامع صحیح کو سنا ۔

تصنیفات

کتاب الجامع الصحیح (صحیح بخاری)، التاریخ الکبیر، التاریخ الصغیر، الجامع الکبیر، التفسیر الکبیر، کتاب العلل ۔ 
ان تصنیفات کے علاوہ مزید سولہ کتب کے نام بھی ملتے ہیں۔

علما کی شہادت

جن علما نے آپ کی تحسین و توصیف کی ہے، ان میں آپ کے اقران (ساتھی ) اور شیوخ و اساتذہ سب شامل ہیں:
امام بخاری کی تحسین و توصیف کرنے والوں میں ان کے ہم عصر علما کے علاوہ ان کے شیوخ و اساتذہ بھی شامل ہیں: 
امام احمد فرماتے ہیں کہ سر زمین خراسان نے امام بخاری جیسا شخص پیدا نہیں کیا۔ ابن المدینی فرماتے ہیں : امام بخاری نے خود بھی اپنے جیسا شخص نہیں دیکھا تھا ۔ محمود بن نظر بن سہیل شافعی فرماتے ہیں کہ میں بصرہ ، شام اور حجاز جا کر وہاں کے علما سے مل چکا ہوں، سب امام بخاری کو اپنے سے افضل قرار دیتے ہیں۔ امام مسلم نے ان کے سامنے انھیں امیر المومنین فی الحدیث قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان سے دشمنی وہی شخص رکھ سکتا ہے جو حاسد ہو۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ دنیا میں ان کا ثانی موجود نہیں ہے۔امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے عراق اور خراسان میں کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو احادیث کی تاریخ و عمل اور اسانید کی جان پہچان میں امام بخاری سے بڑھ کر ہو۔ ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے نیچے محمد بن اسماعیل بخاری سے بڑھ کر حدیث کا حافظ و عالم نہیں دیکھا۔

وفات

امام صاحب نے بخارا میں ایک مدت تک راحت اور آرام سے زندگی بسر کی۔ لیکن آخر ی زمانے میں شاہ بخارا آپ پر ناراض ہو گیا اور بخارا سے آپ کو نکلنے کا حکم دے دیا۔امام صاحب بخارا سے نکل کر خرتنگ چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔ جلا وطنی کا انھیں بہت افسوس تھا۔ وفور غم سے بے اختیار ان کی زبان سے نکل جاتا کہ الٰہی باوجود وسعت کے میرے لیے زمین تنگ ہو گئی ہے، لہٰذا اب تو مجھے اٹھا لے۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ تھوڑے ہی دنوں میں خدا نے آپ کو دنیا سے اٹھا لیا ۔ ۲۵۶ ہجری شوال کی چاند رات میں انتقال ہوا اور عید کے دن نماز کے بعد آپ کی تجہیز و تکفین ہوئی۔
آپ کی وفات کی خبر جب سمرقندمیں مشہور ہوئی تو ایک کہرام مچ گیا۔ اس شان سے جنازہ اٹھا کہ سارا سمرقند مشایعت میں ساتھ ساتھ تھا۔ بڑے بڑے علما اور امرا با چشم پرنم نماز جنازہ میں شریک تھے۔ نماز ظہر کے بعد دفن کر دیا گیا اور آسمان حدیث کا یہ منور آفتاب سرزمین سمرقند میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

مناقب

امام صاحب کی مقدس زندگی میں ایسی اعلیٰ خصوصیات پائی جاتی تھیں، جن سے عام طور پر بڑے بڑے نامور لوگوں کا دامن خالی ہوا کرتا ہے۔ وہ خود داری ، سادگی، قناعت، انکساری، رواداری اور بے تعصبی جیسی خوبیوں سے پوری طرح متصف تھے۔
امیر بخارا کی یہ خواہش تھی کہ امام صاحب اس کے دربار میں آکر صحیح بخاری اور تاریخ کبیر سنائیں۔ امام صاحب کی خودداری نے اسے رد کر دیا اور کہا کہ میں علم کو رسوا کرنا نہیں چاہتا، اگر امیر کو سچا شوق ہے تو میری مجلس میں آ کر شریک ہو۔ امام صاحب نے عمر بھر کبھی اس کی کوشش نہیں کی کہ عام علما کی طرح کسی امیر یا بادشاہ کی فیاضی سے فائدہ اٹھائیں۔ امام صاحب کی اس خود داری کے ساتھ ساتھ ان کی انکساری کا یہ عالم ہے کہ ان کے شیوخ میں ان کے ہم عمر اور ہم سبق لوگوں کے نام نظر آتے ہیں۔

------------------------------

 

بشکریہ محمد رفیع مفتی

تحریر/اشاعت اپریل 2004

مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : May 28, 2016
1909 View