کیا فلسطین کو بچایا جا سکتا ہے؟ خورشید احمد ندیم

کیا فلسطین کو بچایا جا سکتا ہے؟

 

اعلان بیروت مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ اسے آپ پیش گوئی کہہ سکتے ہیں ، لیکن یہ کچھ مقدمات کے ساتھ مشروط ہے ۔
پہلا مقدمہ یہ ہے کہ آج امن اسرائیل کی ضرورت ہو نہ ہو ، ہماری ضرورت ہے ۔ اہل فلسطین اپنے مسئلے کو مذہبی نہیں سمجھتے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے ، کیونکہ اہل فلسطین میں عیسائی بھی شامل ہیں جو اسرائیل سے آزادی چاہتے ہیں ۔ لیکن مسئلۂ فلسطین سے ہماری وابستگی کی بنیاد مذہب ہے ۔ ہم اسے مسلمانوں کا قبلۂ اول کہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں کا اقتدار مسلمانوں کا حق ہے ۔ اسی بنا پر ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اسی تناظر میں دیکھیے تو آج وہاں جو تحریک مزاحمت جاری ہے ، اس کے نتیجے میں زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے ۔ اگر ایک اسرائیلی مرتا ہے تو ایڈورڈ سعید کے مطابق پانچ مسلمانوں کو اپنی جان دے کر اس کا تاوان ادا کرنا پڑتا ہے ۔ کہتے ہیں کچھ عرصہ پہلے یہ نسبت ایک اور پچاس کی تھی ۔ اس مزاحمت سے اسرائیل کی معیشت کو ضرور نقصان پہنچا ہو گا ۔ لیکن اہل فلسطین تو معیشت نام کی کسی چیز ہی سے واقف نہیں رہے ۔ ساری دنیا کے مسلمان فلسطین میں اٹھنے والے نقصان پر دل گرفتہ رہتے ہیں اور یہ ان کے لیے ایک نفسیاتی روگ بن چکا ہے ۔ عرب ملکوں کے لیے یہ بالخصوص ایک سیاسی ، معاشی اور اخلاقی مسئلہ ہے ۔ اس لیے اگر موجودہ حالات کا تسلسل باقی رہتا ہے تو خسارے میں مسلمان ہی رہیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں امن کو اہل فلسطین کی نہیں ’’ہماری‘‘ ضرورت کہتا ہوں ۔
دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی حکمت عملی نئے سرے سے متعین کرنا ہو گی ۔ ہم نے مزاحمت کی تو اس کا انجام بھی دیکھ لیجیے! افغانستان آج ایک بنجر زمین ہے ۔ زندگی جس کے لیے ایک اجنبی شے بن گئی ہے ۔
آج افغانستان کا معاملہ تو ہمارے ہاتھ میں نہیں رہا ۔ پیارو محبت کا سلسلہ باقی ہے نہ سفارت کا ، افغان اپنے پاکستان بھائیوں کو لاکھ اور دو لاکھ میں بیچ رہے ہیں اور ہم کسی سے شکایت بھی نہیں کر سکتے ، لڑنے والے کیوبا میں بند ہیں یا پھر ہماری اپنی جیلوں میں ۔ یہ ہے انجام ہماری ایک مزاحمت کا ، رہی بات کشمیر کی تو آج اس کے سلگتے چناروں پر ہم پانی بھی نہیں ڈال سکتے ۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ان چناروں سے کب تک یونہی دھواں اٹھتا رہے گا ۔ یہ دوسری مزاحمت کا نتیجہ ہے ۔ فلسطین میں اگر ہم نے اسی حکمت عملی پر اصرار جاری رکھا تو ہماری منزل خاکم بدہن ، افغانستان اور کشمیر سے مختلف نہیں ہو گی ۔
فلسطین میں ، البتہ مسلح مزاحمت کے علاوہ ایک دوسری رائے بھی موجود ہے جس کا اظہار ’’اعلان بیروت‘‘ کی صورت میں ہوا ہے اور اسے میں امید کی کرن قرار دیتا ہوں ۔ عرب لیگ کا جو اجلاس جمعرات کو بیروت میں ختم ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برف پگھلنے لگی ہے ۔ حقیقت پسندی رومانویت پر غالب آ رہی ہے اور عرب قیادت نے درست سمت میں ایک قدم اٹھایا ہے ۔ عراق اور کویت میں صلح ، کوئی معمولی پیش رفت نہیں ۔ میں اسے بھی ایک غیر منعمولی واقعہ قرار دیتا ہوں ۔ آج کئی ممالک بش کو عراق پر حملے سے روک رہے ہیں اور بائیس عرب ممالک متفقہ طور پر اقوام متحدہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ عراق کے خلاف عائد پابندیاں اٹھا دے ۔
اسرائیل کا تازہ ردعمل اگرچہ مثبت نہیں ، لیکن جب پہلی مرتبہ شہزادہ عبداللہ نے اپنا امن فارمولہ پیش کیا تو اسرائیل نے اس کا خیر مقدم کیا تھا اور اس کے صدر نے سعودی عرب جانے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ شہزادہ عبد اللہ اگر بیت المقدس آنا چاہیں تو وہ انھیں خوش آمدید کہیں گے ۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ جیسے جیسے بات آگے بڑھے گی ، اسرائیل کا رویہ تبدیل ہو گا ۔ امریکا ’’ اعلان بیروت‘‘ کا خیر مقدم کر چکا ہے ۔ یورپی یونین پہلے ہی امریکا کی اس پالیسی پر خوش نہیں جو اس نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں اختیار کر رکھی ہے اور وہ مسئلۂ فلسطین کے فوری حل پر زور دے رہی ہے ۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمان پوری طرح اس عمل کی تائید کریں اور اپنا وزن اس پلڑے میں ڈال دیں جس سے فلسطین میں مسلمانوں کے جان و مال محفوظ ہونے کا امکان پیدا ہو اور انسانی جان کی ارزانی کا یہ سلسلہ ختم ہو ۔ حماس کا ابتدائی رد عمل کچھ ایسا حکیمانہ نہیں ہے ۔ اہل حماس کا اخلاص اپنی جگہ ، لیکن انھیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ محض ایسے حل کے لیے اہل فلسطین کی قربانی کب تک جاری رہے گی جس کے ظہور پزیر ہونے کا سر دست کوئی امکان نہیں ۔ اس لیے آج ضروری ہے کہ ہم اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور مسلح مزاحمت کے بجائے سیاسی جدوجہد سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یک سو ہو جائیں ۔ بصورت دیگر مجھے ڈر ہے کہ ہم کشمیر اور افغانستان کی طرح شاید اس قابل بھی نہ رہیں کہ کوئی سیاسی حل ہی تجویز کر سکیں ۔
تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ ہم اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہ کریں کہ ہر مسئلے کی آخری منزل مذاکرات کی میز ہے ۔ یہ ہمارا انتخاب ہے کہ سب کچھ لٹا کر مذاکرات پر آمادہ ہوں یا اس سے پہلے ہی اس پر تیار ہو جائیں ۔ مذاکرات میرے نزدیک اس عمل کا نام ہے کہ زمین پر موجود ان امکانات کو محفوظ کر لیا جائے جو مستقبل کے لیے امید بن سکتے ہیں ۔ مذاکرات میں ہمیشہ کمزور فریق کا فائدہ ہوتا ہے ۔ ہم نے آج کمزور حیثیت میں ہوتے ہوئے جو معاہدے کیے ، میرا خیال ہے کہ ہمیں ان سے فائدہ ہوا ۔ معاہدۂ تاشقند ہمارے حق میں تھا ، کیونکہ ہم مزید جنگ نہیں کر سکتے تھے ۔ شملہ معاہدہ بھی ہماری ساکھ اور باقی ماندہ ملک کے تحفظ کا ضامن بنا۔ اس موقع پر ہماری کمزوری ایک واضح بات تھی ۔ آج فلسطین میں ہم کمزور ہیں ۔ اگر وہاں کوئی ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے جس سے ہم مزید زیاں سے بچ سکتے ہوں تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے ۔ صدر کلنٹن نے اپنی صدارت کے آخری دنوں میں مسئلۂ فلسطین کا ایک حل پیش کیا تھا جس میں اسرائیل اور فلسطین کی صورت میں آزاد ریاستوں کے قیام کی بات کی گئی تھی اور اس کے ساتھ یروشلم کو ایک کھلا شہر قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی ۔ میرے نزدیک موجودہ حالات میں یہ ایک بہترین حل تھا۔ افسوس کہ ہم نے اس وقت اسے بغیر سوچے سمجھے رد کر دیا۔
چوتھا مقدمہ یہ ہے کہ کشمیر اور افغانستان سے سبق سیکھتے ہوئے ہمارا آیندہ کا لائحۂ عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہم موجودہ طاقت کو ضائع ہونے سے بچائیں ، اپنی صلاحیتوں کو مجتمع کرتے ہوئے تعمیر نو کے لیے سر گرم ہوں اور اس وقت تک تصادم سے گریز کریں ، جب تک وسائل کے اعتبار سے ہم اپنے مخالف کے ہم پلہ نہیں ہو جاتے ۔ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔
یہ مقدمات قائم کرتے ہوئے اگر ہم اعلان بیروت کے عمل کو آگے بڑھائیں تو مجھے امید ہے کہ یہ ایک نئے دور کی خشت اول بن سکتا ہے ۔ یہ ایک ایسا دور ہو گا جس میں یہ لازم نہیں ہو گا کہ ہر مقتل مسلمانوں ہی سے آباد ہو ۔ شہزاد عبد اللہ مجھے گمان ہوتا ہے کہ اس نئے دور کے معمار اول ہیں ۔ عراق کے بارے میں عرب قیادت کا رویہ بتاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی گرفت کمزور پڑ رہی ہے ۔ آج ہمیں پھر صلح حدیبیہ کا مرحلہ پیش ہے ۔ آج پھر کسی مومنانہ فراست کی ضرورت ہے ۔ اعلان بیروت کی روشنی کی ایک کرن ہے ، لیکن میں مکرر عرض کرتا ہوں کہ اس روشنی کا پھیلنا چند مقدمات کے ساتھ مشروط ہے ۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مئی 2002
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Dec 13, 2018
668 View