صلۂ رحمی کے خلاف قسم کو توڑنے کا حکم - محمد رفیع مفتی

صلۂ رحمی کے خلاف قسم کو توڑنے کا حکم

 

عَنْ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَرَأَیْتَ ابْنَ عَمٍّ لِیْ أَتَیْتُہُ أَسْأَلُہُ فَلَا یُعْطِیْنِیْ وَلَا یَصِلُنِیْ ثُمَّ یَحْتَاجُ إِلَیَّ فَیَأْتِیْنِیْ فَیَسْأَلُنِیْ وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَّا أُعْطِیَہُ وَلَا أَصِلَہُ فَأَمَرَنِیْ أَنْ آتِیَ الَّذِیْ ہُوَ خَیْرٌ وَأُکَفِّرَ عَنْ یَمِیْنِیْ.
مالک بن نضلہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول، آپ نے میرے اس چچا کے بیٹے کی بات دیکھی، جس کے پاس میں جاتا ہوں اور اس سے کچھ مانگتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور نہ میرے ساتھ صلۂ رحمی ہی کرتا ہے، پھر (ایک وقت آتا ہے کہ) وہ میرا محتاج ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ میرے پاس آتا اور مجھ سے مانگتا ہے، جبکہ میں اب یہ قسم کھا چکا ہوں کہ اسے کچھ نہ دوں گا اور نہ اس کے ساتھ صلۂ رحمی ہی کروں گا۔ چنانچہ آپ نے (میری یہ بات سن کر) مجھے حکم دیا کہ میں بہتر بات کو اختیار کروں ۱؂ اور اپنی قسم کا کفارہ دوں۔

ترجمے کے حواشی

۱۔ بہتر بات کو اختیار کروں، یعنی صلۂ رحمی اختیار کرتے ہوئے اپنے بھائی کی مدد کروں اور اپنی قطع رحمی کی اس قسم کو توڑ دوں اور اس کا کفارہ دوں۔

متن کے حواشی

۱۔ یہ روایت نسائی، رقم ۳۷۸۸ ہے۔
اسی مضمون کی دوسری روایت ابن ماجہ، رقم ۲۱۰۹ درج ذیل ہے:

عَنْ مَالِکٍ الْجُشَمِیِّ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ یَأْتِیْنِی بْنُ عَمِّیْ فَأَحْلِفُ أَنْ لَّا أُعْطِیَہُ وَلَا أَصِلَہُ قَالَ کَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِکِ.
’’مالک جشمی سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول، (آپ مجھے بتائیے کہ میں اب کیا کروں) میرے پاس میرے چچا کا ایک بیٹا (کچھ رقم مانگنے کے لیے) آیا تھا، میں نے (اس کے ساتھ اپنی ناراضی کی وجہ سے) یہ قسم کھا رکھی ہے کہ میں نہ اسے کچھ دوں گا اور نہ اس کے ساتھ صلۂ رحمی کا رویہ اختیار کروں گا۔ آپ نے فرمایا: (اس کے ساتھ صلۂ رحمی کرو اور) اپنی قسم کا کفارہ دو۔‘‘

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اگست 2008
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Jan 05, 2017
1143 View