حدیث و سنت اور فکر فراہی - ابو یحییٰ

حدیث و سنت اور فکر فراہی

ہمارے ہاں سنت کو حدیث کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور اسے قرآن کریم کے بعد دین کا دوسرا بنیادی ماخذ سمجھا جاتا ہے۔احادیث کی اہمیت کو اس طرح باور کرایا جاتا ہے کہ قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم ہے، لیکن اس کا طریقہ صرف حدیث سے معلوم ہوتا ہے، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ احادیث کی تمام تر قدر و قیمت اور اہمیت کے باوجود اسلاف کے زمانے ہی سے حدیث کے حوالے سے زبردست علمی بحثیں اورختم نہ ہونے والے اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ مثلاً زمانۂ قدیم سے امت میں ایک اہم اختلاف یہ رہا ہے کہ نماز میں رفع یدین (یعنی رکوع سے قبل، بعد اور بعض دیگر مواقع پر ہاتھ کانوں تک اٹھانے کا عمل) ہونا چاہیے یا نہیں؟ آج کے دن تک مسلمان اس مسئلے پر اختلاف کا شکار ہیں۔ 

لوگ یہ کہہ کر اس مسئلے سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ایک فروعی مسئلہ ہے، لیکن یہ جواب اطمینان بخش نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخبارآحاد (احادیث) کو دین کا دوسرا بنیادی ماخذ سمجھا جاتا ہے ۔یہ بات اگر ٹھیک ہے اورنماز پڑھنے کا طریقہ حدیث ہی سے معلوم ہوتا ہے تو پھر اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ مستند ترین احادیث میں رفع یدین کا ذکر آنے کے بعد امت کا ایک بڑا گروہ اپنی نمازوں میں یہ عمل نہ کرے۔ یہ ایک فقہی مسئلے کی مثال ہے، وگرنہ مسلکی، اعتقادی ، علمی ، عملی اور تمدنی مسائل کی ایک دنیا ہے جس کا دروازہ اس بنا پر کھل جاتا ہے کہ لوگوں پر حدیث و سنت کا فرق واضح نہیں اور وہ فہم دین کے عمل میں حدیث کا درست مقام متعین نہیں کر پاتے۔ ان مسائل کو دیکھ کراب ایک گروہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو احادیث کو ہر مسئلے کی جڑ سمجھتا ہے اورانھیں بالکل رد کردینے ہی میں عافیت کا راستہ دیکھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ عملی طور پر اسے قرآن سے بھی زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں رویے افراط و تفریط پر مبنی ہیں۔

امام فراہی اور ان کے تلامذہ کا ایک عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انھو ں نے احادیث کے معاملے میں افراط و تفریط سے ہٹ کر ایک متوازن علمی نقطۂ نظر کو واضح کیا ہے اور ساتھ ہی ان اصولوں کو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے جنھیں پیش نظر رکھ کر احادیث کے ذخیرے سے بہترین طریقے پر استفادہ کیا جاسکتا ہے۔نیز حدیث اور سنت کا فرق،سنت کی متعین تعریف، اسے پرکھنے کے اصول اور اس سے منتقل ہونے والا دین، ان سب کی تفصیلات ہمارے سامنے پیش کردی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے علمی اختلافات کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔

 

سنت اور حدیث کا فرق

حدیث و سنت کے باب میں ان ائمہ کی بنیادی علمی خدمت اس فرق کو پوری طرح واضح کرنا ہے جوسنت اور حدیث کے درمیان میں پایا جاتا ہے۔ان کی تحقیق کے مطابق سنت اور حدیث دو جداجدا حقیقتیں ہیں۔سنت دین کے اس حصے کا نام ہے جو علمی اجماع (Consensus) اور عملی تواتر (Continuity)سے ہم تک منتقل ہوا ہے۔ تواتر کا مطلب یہ ہے کہ حضور کے زمانے ہی سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نسل در نسل اس دین پر عمل کرتی رہی ہے اور اجماع سے مراد یہ ہے کہ امت کا اجتماعی علم متفقہ طور پر اس کو دین قرار دیتاہے۔اس طرح سنت کی حیثیت سے منتقل ہونے والے اعمال ،قرآن کے احکام کی طرح مسلمۂ دین کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ احادیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی وہ روایات ہیں جن میں آپ کا اسوۂ حسنہ، سیرت و سوانح اور آپ کے فہم دین کا علم ہم تک منتقل ہوتا ہے۔ سنت کے برخلاف حدیث اجماع سے ہم تک منتقل نہیں ہوئی، بلکہ حضور کے صحابہ میں جس نے چاہا اور جتنا چاہا، اس علم کو آگے منتقل کیا ۔بعد میں بھی یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھا، یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری میں اس علم کو باقاعدہ مدون کردیا گیا۔ دور جدید میں حدیث اور سنت کا یہ فرق بعض اسباب سے نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تھا جو استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کے تحقیقی کام کے نتیجے میں واضح ہوکر سامنے آگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی کتاب میں متعین طور پر یہ بتایا ہے کہ وہ کون سے اعمال ہیں جو حضور نے اپنی سنت کے طور پر اور دین کی حیثیت میں امت کو دیے ہیں۔۲؂

حدیث اور سنت کے فرق کوہم نماز کی ایک آسان اور عملی مثال سے سمجھانا چاہیں گے۔نماز مسلمانوں نے اس وقت پڑھنا شروع نہیں کی جب حدیث کی کتابوں میں نماز سے متعلق روایات جمع کی گئیں۔ نہ کسی ایک ، دس یا سو افراد کی اطلاع پر لوگوں نے نما ز پڑھنا شروع کی۔ نما ز حضور کے زمانے سے تمام کے تمام مسلمانوں نے پڑھی۔ ان کی یہ تعداد حضور کے زمانے میں لاکھوں تک پہنچ گئی تھی۔ پھر اس کے بعد ہر نسل کے لوگوں نے اس کو اجتماعی طور پر تواتر کے ساتھ آگے منتقل کیا، جبکہ ہر دور میں امت کی علمی روایت نے اجتماعی طور پر یہ گواہی دی ہے کہ یہ وہی نماز ہے جو حضور نے پڑھی تھی۔یہ سنت کے ذریعے سے دین کے ہم تک منتقل ہونے کی ایک واضح مثال ہے۔

لیکن نماز میں حضور سورۂ فاتحہ سے قبل کیا پڑھتے تھے، قعدے میں کیا دعا کرتے تھے، کسی موقع پر جمعہ کے دن قرآن کی کون سی سورت تلاوت کی، یہ اور اس طرح کی دیگر چیزیں اسوۂحسنہ کی نوعیت کی ہیں جوہمیں احادیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہ، بلاشبہ بڑی معلومات ہیں، مگر ان کی اطلاع انفرادی طور پر لوگوں نے ہم تک پہنچائی ہے۔یہ چیزیں اگر ہمیں معلوم نہ بھی ہوتیں، تب بھی ہماری نماز میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی ۔حضور کے پیش نظر لوگوں کو ان اعمال کا پابندبنانا نہیں تھا۔ جو حضورکو پہنچانا تھا، وہ آپ نے پورے اہتمام کے ساتھ لوگوں کوسکھایا اور اس میں کوئی اختلاف ہے اور نہ کوئی چیز ہم تک پہنچنے سے رہی ہے۔نماز کے ارکان ، اذکار، تعداد، اوقات اور رکعتیں وغیرہ ان کی نمایاں مثالیں ہیں۔

احادیث کے فہم اور ان پر عمل میں کس طرح اختلاف ہوتا ہے اور سنت کس طرح اختلافات سے خالی ہے، اس کی وضاحت کے لیے رفع یدین کو لیجیے، جیسا کہ پیچھے بیان ہو اکہ رفع یدین کے بارے میں ہمارے ہاں شروع سے اختلاف پایا جاتاہے۔رکوع سے قبل ، بعد اور بعض دیگر مواقع پر رفع یدین پر احناف کا موقف اہل حدیث سے مختلف ہے۔ احناف مستند احادیث میں ان مواقع پررفع یدین کا ذکر آنے کے باوجود ،بعض علمی و عقلی دلائل کی بنا پر رفع یدین نہیں کرتے، لیکن ایک رفع یدین وہ ہے جو نماز کے شروع میں کیا جاتا ہے۔ اس پر پوری امت میں کوئی اختلاف نہیں اور ہر شخص اسی سے نماز کا آغاز کرتا ہے، اس لیے کہ یہ سنت کے طور پرمنتقل ہونے والی نماز کا ایک لازمی حصہ ہے۔

سنت کو حدیث سے الگ سمجھنے کے بعد دین کا وہ حصہ ہر طرح کے سوالات اور اختلافات سے بلند ہوجاتا ہے جسے حضور نے بطور دین ہم تک منتقل کیا ۔ یہ حصہ عبادات، معاشرت، رسوم و آداب اور خورو نوش کے ان احکام پر مشتمل ہے جو ہماری پوری عملی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔اس کے بعد کسی فردکے لیے یہ ممکن نہیں رہتاکہ وہ حدیث کا انکار کرتے کرتے شریعت کے ان اعمال کا انکار کربیٹھے جو بطور سنت ہمیں دیے گئے ہیں۔حدیث اور سنت کو الگ الگ سمجھ لینے کے بعد اختلافات صرف حدیث کے باب میں رہ جاتے ہیں۔ اوروہ بھی حل ہوجاتے ہیں، اگر حدیث کو قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے اور یہی حدیث و سنت کے حوالے سے ان حضرات کی علمی خدمات کا دوسرا پہلو ہے۔

 

حدیث اور قرآن کا تعلق

فکر فراہی کے ائمہ نے اس بات کو عملی مثالوں کے ساتھ واضح کیا ہے کہ احادیث کو ہمیشہ قرآن کریم کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔یہ اگر نہ کیا جائے تو سنگین نوعیت کے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ ہمارے ہاں بیش تر علمی، فقہی، مسلکی اختلافات اور عملی مسائل صرف اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ قرآن کریم کی روشنی کے بغیر احادیث کو سمجھا جاتا ہے۔ ہم اس مضمون میں چونکہ دور جدید ہی کے مسائل کو زیر بحث لارہے ہیں، اسی لیے اس حوالے سے ایک مثال دے کر اپنی بات کی وضاحت کرتے ہیں۔

ہمارے اہل علم احادیث میں آنے والی ممانعت کی بنا پر ذی روح مخلوق کی تصویر کو قطعاً حرام سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف دور جدید کاتمدن تصویر کی بنیاد پر کھڑا ہوا ہے۔ آج ہر شخص شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے تصویر کھنچواتا ہے۔ ان چیزوں کے بہت سے اجتماعی فوائد ہیں۔ ٹی وی اور انٹر نیٹ کے بغیر اب جدید معاشرت ممکن نہیں۔ ان چیزوں میں اگر کچھ خرابیاں ہیں تو ان گنت فوائد بھی ہیں، یہی سبب ہے کہ تصویر کے سخت ترین مخالف علماے کرام بھی اب ٹی وی پر آ رہے ہیں۔ان حالات میں بہت سے سوالات ایسے ہیں جوذہنوں میں پیدا ہوجاتے ہیں۔

فکر فراہی کے اصولوں کی روشنی میں یہ معاملہ بالکل واضح ہے۔ دین میں حلت و حرمت کا بنیادی ماخذ قرآن کریم ہے۔ اس میں تصویر کی کوئی حرمت بیان نہیں ہوئی، بلکہ ایک عظیم پیغمبر، یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ ان کے لیے تصویریں بنائی جاتی تھیں (سبا۳۴:۱۳)۔ البتہ قرآن میں بت پرستی،بتوں کے مجسموں اوران کی تصویروں کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے۔قرآن کی اس روشنی میں احادیث کو جیسے ہی دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی اصل میں انھی خاص تصویروں کی مذمت بیان ہوئی ہے جو بت پرستی کے مقصد سے بنائی جاتی تھیں۔اب بات بالکل واضح ہوگئی کہ اصل مسئلہ تصویر نہیں، بلکہ شرک ہے جس کی وجہ سے یہ تصاویر حرام ہوجاتی ہیں۔ تصویر کی حرمت کا ایک دوسرا سبب خواتین کی نمایش اور فواحش و عریانی کے فروغ کے لیے ان کا استعمال ہے جو دور جدید میں بہت عام ہوگیا ہے۔ ایسی تصاویر کو بھی قرآن کریم کے اصولوں کی روشنی میں سخت ممنوع اور قابل مذمت ہونا چاہیے، کیونکہ قرآن فواحش سے بھی روکتا ہے اور خواتین کو اپنی نمایش سے بھی منع کرتا ہے۔ لہٰذا اس نوعیت کی تمام تصاویر قطعاً ناجائز ہوں گی، لیکن جو تصاویر ایسی خرابیوں سے پاک ہیں، ان کے حرام ہونے کی کوئی بنیاد نہ قرآن میں ہے اور نہ عقل و فطرت میں پائی جاتی ہے۔

 

بشکریہ: ریحان احمد یوسفی
مصنف : ابو یحییٰ
Uploaded on : May 25, 2016
2916 View