قتل عمد میں معافی کی گنجایش - سید منظور الحسن

قتل عمد میں معافی کی گنجایش


قصاص کے بارے میں بالعموم دو نقطہ ہاے نظر پائے جاتے ہیں: ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ قاتل درحقیقت ایک ذہنی مریض ہوتا ہے ۔اس سے قتل جیسے سنگین جرم کا صدور کسی جذباتی تناؤ یا ذہنی انتشار ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان امراض کا شکار کوئی مریض علاج کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ سزا کا۔ چنانچہ قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل کر دینا ایسی ہی بات ہے جیسے کسی مریض کا علاج کرنے کے بجاے اسے موت کی نیند سلا دیا جائے۔ اس وجہ سے یہ نقطۂ نظر رکھنے والوں کے نزدیک صحیح رویہ یہ ہے کہ قاتل کو قتل کردینے کے بجاے اس کی ذہنی اصلاح اور تربیت نفس کا اہتمام کیا جائے۔
دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قاتل کی حیثیت معاشرے کے وجود میں ایک ناسور کی سی ہے۔ اسے کاٹ کر پھینک دینا ہی معاشرے کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ قاتل امن و سلامتی کا دشمن ہوتا ہے ۔ ایسے شخص کو اگر معاشرے میں باقی رہنے دیا جائے تو معاشرے کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص سے معاشرے کو پاک کر دیا جائے۔
ان دونوں نقطہ ہاے نظر کا عمومی جائزہ ہی ہمیں اس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ دونوں نقطہ ہاے نظر مقام اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں۔
جہاں تک پہلے نقطۂ نظر کا تعلق ہے تو یہ بات اپنی بنیاد ہی میں غلط ہے کہ انسان سے جرم قتل کا صدور،لا زماً حالت بیماری میں ہوتا ہے۔ عام طور پر، وہ کامل ہوش و حواس کے ساتھ کسی کو مارنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔اگر کسی قاتل کے بارے میں فی الواقع یہ ثابت ہو جائے کہ وہ ذہنی یا نفسیاتی مریض ہے تو پھر دنیا کی کوئی عدالت بھی اس پر قتل کی سزا نافذ نہیں کرتی۔
اس نقطۂ نظر کو اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ بلا استثنا ، ہر قاتل کو ذہنی اور نفسیاتی مریض تصور کیا جائے اورموت کی سزا کو بالکل ختم کر دیا جائے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اسے اختیار کر لیا جائے تو اس کے نتیجے میں انسانی جان کا تحفظ اپنی حقیقت میں باقی ہی نہیں رہتا۔ جان جانے کا خوف کسی درندہ صفت انسان کو بھی دوسروں کی جان لینے سے باز رکھ سکتا ہے۔ جان لینے کے بدلے میں اگر جان جانے کا خوف نہ رہے تو پھر کوئی بھی انسان نما درندہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کھیل بنا سکتا ہے۔ مزید براں، اس نقطۂ نظر کو اختیار کرنے سے دوسروں کے لیے عبرت کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی اور ایک قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل کی سزا نہ ملتے دیکھ کر اس طرح کا شیطانی داعیہ رکھنے والے دوسرے افراد کے اندر بھی ایسے سنگین جرم کی تحریک پیدا ہو جاتی ہے۔
دوسرے نقطۂ نظر کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ توبہ و انابت اوراصلاح و ہدایت کے امکان ہی کو نہیں مانتا اور ان راستوں کو یکسر مسدود کر دیتا ہے۔ مزید براں، خاندانوں کے مابین سلسلۂ دشمنی کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم ہونے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔
قصاص کے حوالے سے یہ دو انتہائی نقطہ ہاے نظر ہیں۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال اور توازن کی جگہ پر کھڑا ہے۔ وہ نہ یہ چاہتا ہے کہ قاتلوں کو کھلی چھٹی دے کرانسانی خون کو ارزاں کر دے اور معاشرے کو ظلم و زیادتی کا مظہر بنا دے اورنہ یہ چاہتا ہے کہ قاتل کے لیے معافی کی گنجایش ختم کرکے معاشرے سے ہمدردی، احسان مندی، بھائی چارے اور ایثار وقربانی جیسی اقدار کے اظہار کے مواقع ختم کر دے اور اس طرح معاشرے کوبالکل بے روح اور بے جان بنا ڈالے۔ چنانچہ اس نے ایک طرف ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے کر اور قصاص کو لازم قرار دے کر، معاشرے کو پوری طرح تحفظ فراہم کر دیا ہے اور دوسری طرف ورثا کو معاف کرنے کا اختیار دے کر معاشرے میں بھائی چارے کی فضا قائم کرنے اور مجرم کے لیے توبہ و انابت اور اصلاح و ہدایت کی بھرپور گنجایش پیدا کر دی ہے ۔
قرآن مجید سے واضح ہے کہ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل اور ایک انسانی جان کے بچانے کو پوری انسانیت کوبچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ارشادخداوندی ہے:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا.
(المائدہ۵:۳۲)
’’اِسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی انسان کو بچایا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔‘‘
اس جرم کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کی ابدی سزا کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ ارشاد ہے:
وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا.
(النساء ۴:۹۳)
’’اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اُس کی سزا جہنم ہے، وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا اوراُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہوئی اور اُس کے لیے اُس نے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
اس جرم کی یہ سنگینی، بلا شبہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاست اور معاشرہ اپنے پورے نظام کے ساتھ قاتل کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور مقتول کے ورثا کو لازماً قصاص دلا کر چھوڑ ے۔ قصاص کے بارے میں جو قانون اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں بیان کیا ہے، وہ یہ ہے:
یَٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی، اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی، فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ. ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ،
’’ایمان والو ،تم میں سے جو قتل کر دیے جائیں ، اُن کا قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے ۔ اِس طرح کہ قاتل اگر آزاد ہو تو اُس کے بدلے میں وہی آزاد اور غلام ہو تو اُس کے بدلے میں وہی غلام اور عورت ہو تو اُس کے بدلے میں وہی عورت۔ پھر جس کے لیے
فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ، لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ.
(البقرہ ۲ : ۱۷۸۔ ۱۷۹)
اُس کے بھائی کیطرف سے کچھ رعایت کی جائے (تو اُس کی یہ رعایت تم قبول کر سکتے ہو، لیکن) اِس کے بعد ضروری ہے کہ دستور کے مطابق اُس کی پیروی کی جائے اور جو کچھ بھی خوں بہا ہو ،وہ خوبی کے ساتھ ادا کر دیا جائے ۔ یہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک قسم کی رعایت اور تم پر اُس کی عنایت ہے۔ چنانچہ اِس کے بعد اگر کوئی شخص زیادتی کرے تو اُس کے لیے دردناک سزا ہے۔ اور تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے، عقل والو ،تا کہ تم حدود الٰہی کی پابندی کرتے رہو۔‘‘
ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قصاص کے معاملے میں فیصلے کا اختیار سر تا سر مقتول کے اولیا ہی کو حاصل ہے۔ وہ چاہیں تو قتل کے بدلے میں قتل کی صورت میں قصاص لیں اور اگر چاہیں تو خوں بہا لے کر قاتل کو معاف کر دیں۔ گویاقتل عمد میں قصاص کے لیے اصل مدعی کی حیثیت ریاست کو نہیں، بلکہ مقتول کے ورثا کو حاصل ہوتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری بنیادی طور پر یہ ہے کہ وہ ورثا کے لیے قصاص کے حصول کا بندوبست کرے اور شریعت کے حدود میں رہتے ہوئے ان کی خواہش کو بروے کار لانے کا انتظام کرے۔ اسی پہلو کی وضاحت میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’قصاص کے معاملہ میں مقتول کے اولیاء کی مرضی کو اسلام نے یہ اہمیت جو دی ہے، یہ مختلف پہلوؤں سے نہایت حکیمانہ ہے۔ قاتل کی جان پر مقتول کے وارثوں کو براہ راست اختیار مل جانے سے ایک تو ان کے بہت بڑے زخم کے اندمال کی ایک شکل پیدا ہوتی ہے، دوسرے اگر اس صورت میں یہ کوئی نرم رویہ اختیار کریں تو قاتل اور اس کے خاندان پر یہ ان کا براہ راست احسان ہوتا ہے جس سے نہایت مفید نتائج کی توقع ہو سکتی ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۱/ ۴۳۳)
سورۂ بقرہ کی اس آیت میں’’بھائی‘‘ کے لفظ کے استعمال سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قصاص کے معاملے میں مقتول کے ورثا کو احسان اور نرمی ہی کی ترغیب دی گئی ہے۔ گویا اگر کوئی شخص اپنے جذبۂ انتقام پر روک لگاتا ہے تو اس طرح وہ اپنے عظیم انسانی شرف اور اخلاقی برتری کا اظہار کرتا ہے۔ مزید براں اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلا م کے ضابطۂ حدود و تعزیرات میں قتل جیسا سنگین جرم بھی قابل راضی نامہ ہے۔ مقتول کے وارثوں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اگر چاہیں تو قتل کے بدلے میں قتل کے بجاے قاتل کو معاف کر دیں۔
سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قاتل کو معافی ملنے کی صورت میں اس کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ دستور کے مطابق دیت یا خوں بہا ادا کرے۔
دیت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے ؟ اس بارے میں بالعموم دو نقطہ ہاے نظر رائج رہے ہیں: ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ دیت درحقیقت جان کی قیمت ہے ،مقتول کے ورثا جب کچھ رقم کے عوض قاتل کو معاف کردیتے ہیں تو وہ دراصل، مقتول کی جان کی قیمت وصول کر کے معاف کرتے ہیں۔ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ اس معاشی نقصان کی تلافی ہے جو مقتول کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے مقتول کے ورثا کو پہنچتا ہے۔ گویا مقتول کے ورثا دیت وصول کر کے اس معاشی نقصان کو پورا کرتے ہیں جو مقتول کے نہ ہونے کی وجہ سے انھیں جھیلنا پڑا ہے۔
یہ دونوں نقطہ ہاے نظر ہمارے نزدیک درست نہیں ہیں۔ انسان سے اس بے حمیتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے عزیزوں کے خون کی قیمت وصول کرے۔ کیا کوئی ماں باپ اپنے بیٹے اور کوئی بیٹا اپنے والدین کے خون کی قیمت وصول کر کے قاتل کو معاف کر سکتا ہے ؟ اسی طرح یہ بات بھی ٹھیک نہیں ہے کہ قتل کے بعد دیت وصول کرنا، معاشی نقصان کا بدل ہے۔ اس بات کو مان لینے کے بعد جسم کے دوسرے اعضا کی دیت کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ ظاہر ہے کہ دانت کے ٹوٹنے یا ہاتھ پاؤں کی کسی انگلی کے کٹنے سے، بالعموم کوئی معاشی نقصان نہیں ہوتا۔
دیت کے بارے میں یہ دونوں نقطہ ہاے نظر اگر غلط ہیں تو پھر صحیح نقطۂ نظر کیا ہے ؟ اس ضمن میں استادگرامی جناب جاوید احمد غامدی اپنی کتاب ’’برہان‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’دیت کا مضمون جاہلی عرب کی شاعری میں کئی جگہ بیان ہوا ہے۔ قتل و خوں ریزی کے واقعات اُن کی زندگی میں اس قدر عام تھے کہ ’ثأر‘،’قصاص‘ اور ’دیت‘ کے مضامین اُن کے شاعروں کی طبع آزمائی کے لیے گویا ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے اِن اشعار میں عام طور پر دیت قبول کرنے والوں کو عار دلاتے اور اُنھیں انتقام پر ابھارتے ہیں، لیکن اِس طرح کے کسی جذباتی پس منظر کے بغیر وہ اگرکبھی دیت کے موضوع پر کچھ کہتے ہیں تو دیت کی حقیقت بھی بالعموم اُن کے بیان سے واضح ہو جاتی ہے۔
دیت کے لیے وہ اِس طرح کے مواقع پر لفظ’غرامۃ‘یااِس کا ہم معنی لفظ ’مغرم‘استعمال کرتے ہیں ۔عربی زبان میں یہ لفظ بالکل اُسی مفہوم میں بولا جاتا ہے جس مفہوم میں ہم اردو میں لفظ تاوان یاجرمانہ بولتے ہیں۔ ہماری زبان میں جس طرح ہر اُس مال کے لیے جو کسی جرم کی سزا کے طور پرمجرم سے لیا جائے، لفظ تاوان یاجرمانہ مستعمل ہے، اِسی طرح عرب جاہلی کی زبان میں اِس کے لیے لفظ’غرامۃ‘مستعمل تھا ۔حقیقت دیت کی تعبیر کے لیے عرب شعرا نے، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، یہی لفظ استعمال کیا ہے۔
...اس سے واضح ہے کہ دیت معاشی نقصان کا بدل ہے، نہ مقتول کے خون کی قیمت۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محض ’غرامۃ‘یعنی تاوان یا جرمانہ ہے جو قتل عمد میں قصاص سے درگذر کے بعد اور قتل خطا کی صورت میں،لازماً مجرم پر عائد کیا جاتا ہے۔‘‘( ۲۳۔۲۴)
اس بحث سے ہمارے پیش نظریہ واضح کرنا ہے کہ اسلام کے قانون کے مطابق قتل عمد میں قاتل کے لیے معافی کی پوری گنجایش ہے، لیکن اس معافی کا انحصار سر تا سر مقتول کے ورثا پر ہے۔ معافی کی صورت میں قاتل کے لیے لازم ہے کہ وہ تاوان کے طور پر کچھ رقم مقتول کے اولیا کو ادا کرے۔ تاہم حکومت اور عدلیہ کو اس پر کڑی نگرانی رکھنی چاہیے کہ کوئی قاتل مقتول کے ورثا کو دھوکا دہی سے یا ڈرا دھمکا کران سے اپنا گھناؤنا جرم معاف نہ کر ا لے۔

------------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن
تحریر/اشاعت اگست 1997 

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 30, 2016
1935 View