کیا گوہ حرام ہے؟ (1) - ساجد حمید

کیا گوہ حرام ہے؟ (1)

 

شرح موطا

قال بن عمر: سأل رجل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وہو علی المنبر، عن أکل الضب. فقال لا آکلہ ولا احرمہ.
’’ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آپ سے پوچھا کہ گوہ کو کھانا کیسا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں۔‘‘

ترجمے کے حواشی

قرآن مجید نے خورو نوش کے باب میں حلت و حرمت کا یہ ضابطہ دیا ہے کہ ’احل لکم الطیبات‘ (المائدہ ۵: ۴) ’’تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلا ل ہیں۔‘‘تفصیل کے لیے دیکھیے استاد گرامی کی کتاب ’’میزان‘‘ کا باب: ’خورونوش‘۔ پھر جانوروں میں سے پاکیزہ جانوروں کے تعین میں رہنمائی کے لیے فرمایا: ’أحلت لکم بہیمۃ الأنعام‘ (المائدہ ۵: ۱) ’’تمھارے لیے چوپائے کی قسم کے جانور حلال کیے گئے ہیں۔‘‘ اس سے جانوروں کے بارے میں ہمارے لیے یہ ضابطہ بنا کہ تمام وہ جانور جو اپنی نوعیت میں انعام جیسے ہیں ، ہم ان کا گوشت کھا سکتے ہیں۔شریعت کے ان احکام کی روشنی میں جب تمام جانوروں کا جائزہ لیا جائے تو کچھ جانور واضح طور پر غیر انعام قرار پائیں گے اور کچھ انعام۔ لیکن کچھ جانوروں کے بارے میں اختلاف کا امکان ہو گا۔ ان میں شریعت نے فیصلہ انسانی فطرت پر چھوڑا ہے۔ انسان خودفیصلہ کرے کہ وہ اسے کھائے یا نہ کھائے ۔ جس طرح گناہ و ثواب کے موقع پر اس کا ضمیر فیصلہ کرتا ہے ایسے ہی ان کے کھانے کا فیصلہ بھی انسان کی فطرت کرے گی۔ ان غیر متعین جانوروں میں سے ایک جانور گوہ ہے۔گوہ کے باب میں آپ کی طرف سے دو رویے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں :
۱۔ آپ نے خودکبھی نہیں کھائی۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ میرے والدین نے کبھی نہیں کھائی یا ہمارے علاقے (تہامہ )میں نہیں کھائی جاتی۔ اس لیے مجھے اس سے گھن آتی ہے۔ آپ نے دوسروں کو کھانے کی مطلق اور ایک روایت کے مطابق (سنن الکبریٰ، رقم ۶۶۲۷) بھوک سے مشروط اجازت دی ۔ یہ باتیں ہماری زیربحث روایت اور آگے آنے والی سیدہ میمونہ اور سیدہ عائشہ کی روایات سے معلوم ہوتی ہیں۔ موطا کی روایت ۱۷۳۷ میں آپ نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے فرشتے آتے ہیں: ’إنی تحضرنی من اللّٰہ حاضرۃ‘۔یہ وہی علت ہے جو بدبودار سبزیوں میں آپ نے بیان کی۔
۲۔ آپ نے گوہ کے پکے ہوئے سالن کو انڈیلنے کا حکم دیا۔ نہ خود کھایا نہ کسی کو کھانے دیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ایک ایسی وادی میں گئے جہاں اس جانور کی کثرت تھی ۔ آپ کو شک گزرا کہ کہیں یہ یہود کا وہ قبیلہ نہ ہو، جسے مسخ صورت کے عذاب سے دو چار ہونا پڑا تھا۔قرآن مجید میں یہ بات مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کو بندر اور سور بنایا گیا (المائدہ۵: ۶۰)۔ اگرچہ قرآن مجید میں گوہ بنائے جانے کا ذکر نہیں ہے، لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ یہود کے کسی قبیلے کو گوہ نہ بنایا گیا ہو۔ اس لیے اس بات کو ماننے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اگر راویوں نے یہ بات اپنی طرف سے شامل نہیں کی تو یہ خبر اس علم کی بنا پر آپ نے دی ہے ،جو قرآن کے علاوہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل تھا۔البتہ گوہ کی اس طرح سے حرمت سے متعلق تفصیل سے گفتگو اسی روایت کے تحت ہو گی۔
روایات کے سارے مواد سے تین اصولی باتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱۔ آپ نے گوہ کے باب میں اصلاً خاموشی اختیار کی ہے۔ اور فرمایا ہے: میں نہ اسے حرام کرتا ہوں اور نہ خود کھاتا ہوں۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گوہ ایسے جانوروں میں سے ہے جس کا الحاق متعین طور پر انعام کے ساتھ یا درندوں کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو آپ اسے حرام یا حلال قرار دے دیتے۔
۲۔ آپ نے خود نہیں کھائی اور فرمایا ’أنی أعافہ‘ میں اسے گھن آنے کی بنا پر نہیں کھا رہا ہوں۔ اس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم احکام شریعت کے تحت لانے میں متردد ہوں، ان میں فیصلہ کن چیز آدمی کی فطرت کی ابا و گریز ہے۔دوسری علت بو ہے ،اس صورت میں نماز یا عبادت کے اوقات کے آس پاس اس کے کھانے میں احتیاط برتنا ہوگی۔
۳۔ آپ نے خود نہیں کھائی، مگرجس نے کھائی اسے کھانے دی۔ اس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ چونکہ اسے انعام اور غیر انعام کے تحت درجہ بندی میں لانا ممکن نہیں ہے، اس لیے اس کے بارے میں انسان آزاد ہیں، وہ اگر کھا سکتے ہوں تو کھا لیں۔البتہ آپ کے اپنے عمل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مترددامور میں گریز ہی بہتر ہے۔

متن کے حواشی

یہ روایت صحیح مسلم، رقم ۱۹۴۳ کی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ روایت درج ذیل مقامات پر آئی ہے: صحیح مسلم(اس رقم کے تحت صحیح مسلم میں پانچ روایات آئی ہیں)، رقم ۱۹۴۳، ۱۹۵۰، صحیح بخاری، رقم ۵۲۱۶، مسند احمد، رقم ۵۹۲۶، ۴۴۹۷، ۴۵۶۲، ۴۵۳۷، ۴۶۱۹، ۴۸۸۲، ۵۰۰۴، ۵۰۲۶، ۵۰۵۸، ۵۰۶۸، ۵۲۵۵، ۵۲۸۰، ۵۵۳۰، ۱۴۷۲۵، السنن الکبریٰ، رقم۶۶۴۸، ۴۸۲۶، ۴۸۲۷، موطا مالک، رقم ۱۷۳۹، صحیح ابن حبان، رقم ۵۲۶۵، سنن البیہقی، رقم ۱۹۲۰۴، ۱۲۹۰۶، ۱۹۱۹۳، ۱۹۱۹۴، سنن الترمذی، رقم ۱۷۹۰، سنن النسائی، رقم ۴۳۱۴، ۴۳۱۵، مصنف عبد الرزاق، رقم ۸۶۷۲، ۸۶۷۳، ۸۶۷۴، المسند، رقم ۶۴۱، ۶۴۲، ابن ماجہ رقم ۳۲۴۲، ۳۲۳۹۔
بہت سے متون میں منبر پر بیٹھے ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ یہ صرف مسلم کی مذکورہ بالا روایت اور مسند احمد، رقم۴۶۱۹، ۵۰۶۸، سنن الکبریٰ، رقم ۴۸۲۶ اور النسائی، رقم ۴۳۱۴میں آیا ہے۔
مسلم، رقم ۱۹۴۳ کے تحت دوسری روایت اور مسند احمد، رقم ۴۴۹۷ ، ۱۴۷۲۵میں یہ روایت سوال کے بجائے ایک واقعہ کو بیان کرتی ہے:’قد اتی بہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعنی الضب فلم یاکلہ ولم یحرمہ‘، (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیاگیایعنی گوہ کا کھانا، نہ آپ نے کھایااور نہ حرام ٹھیرایا)۔
سوال کے موقع ومحل میں کچھ اختلافات کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے: یعنی ’سأل رجل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا)کے بجائے مسند احمد، رقم ۵۰۰۴، ۵۹۲۶، سنن البیہقی، رقم ۱۹۱۹۳ میں ’ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سئل عن الضب‘ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں پوچھا گیا)؛ مسلم، رقم ۱۹۴۳، مسند احمد، رقم ۴۵۶۲، ۴۸۸۲، المسند، رقم ۶۴۱، ۶۴۲ میں ’سئل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الضب‘ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا)؛ مسند احمد، رقم ۴۵۷۳، مصنف عبدالرزاق، رقم ۸۶۷۳ میں ’ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سئل عن الضب‘ (بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا)؛ مسند احمد، رقم ۵۰۶۸میں ’عن بن عمر قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہو علی المنبر وسالہ رجل عن الضب‘ (ابن عمرکہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جبکہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے، اور آپ سے کسی آدمی نے گوہ کے بارے میں پوچھا تھا)؛ سنن الکبریٰ، رقم۶۶۴۸ میں ’جاء اعرابی الی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بضب فقال ما تقول فی ہذا؟‘ (ایک بدو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لے کر آیا اور آپ سے پوچھا کہ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں)؛ موطا، رقم ۱۷۳۹ میں ’ان رجلا نادی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللّٰہ ما تری فی الضب‘ (ایک آدمی نے آپ کو بلند آواز سے پکار کر پوچھا: اس گوہ کے بارے میں آپ کاکیا حکم ہے)؛ مسند احمد، رقم ۵۵۳۰ میں ’ان اعرابیا نادی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما تری فی ہذا الضب‘ (ایک بدونے آپ کو بلند آواز سے پکار کر پوچھا: اس گوہ کے بارے میں آپ کاکیا حکم ہے)ان الفاظ کے ساتھ یہی بات بیان ہوئی ہے۔
مسند احمد، رقم ۵۰۲۶ میں یہ سوال موجود ہی نہیں بس آپ کا قول بیان کیا گیا ہے۔ ’ان نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا آکلہ ولا آمر ولا أنہی عنہ‘۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں، نہ اس کے کھانے کا کہتا ہوں، اور نہ اس سے روکتا ہوں)۔
آپ کا جواب مختلف الفاظ میں نقل ہو ا ہے۔ یعنی ’فقال لا آکلہ ولا احرمہ‘ (تو آپ نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں،نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں)کے بجائے : مسند احمد، رقم ۴۶۱۹، ۵۰۰۴ میں ’فقال لا آکلہ ولا انہی عنہ‘ (تو آپ نے فرمایا : میں نہ اسے کھاتا ہوں ، نہ اس سے روکتا ہوں)؛ مسند احمد، رقم ۵۰۲۶ میں ’قال: لا آکلہ ولا آمر بہ ولا انہی عنہ‘ (نہ میں اسے کھاتا ہوں، نہ اس کے کھانے کا کہتا ہوں، اور نہ اس سے روکتا ہوں)؛ موطا، رقم ۱۷۳۹، مسلم، رقم ۱۹۴۳، بخاری، رقم ۵۲۱۶، مسند احمد، رقم ۴۸۸۲،۵۲۸۰،۵۴۴۰، ابن حبان، رقم ۵۲۶۵، سنن الکبریٰ، رقم ۴۸۲۷، سنن البیہقی، رقم ۱۹۱۹۳،۱۹۱۹۴، النسائی، رقم ۴۳۱۵اور مصنف عبدالرزاق، رقم ۸۶۷۲ میں ’فقال لست باکلہ ولا بمحرمہ‘یا’ فقال لست اکلہ ولا محرمہ‘ (نہ میں اسے کھانے والوں میں سے ہوں ، اور نہ اس کے حرام کرنے والوں میں سے )کے الفاظ آئے ہیں۔
مسلم، رقم ۱۹۴۳ اورمسند احمد، رقم ۴۴۹۷ میں آپ کا جواب آپ کے قول کے بجائے فعل کی صورت میں بیان ہوا ہے: ’فلم یاکلہ ولم یحرمہ‘ (نہ آپ نے کھایااور نہ حرام ٹھیرایا)۔
کچھ روایتوں مثلاً مسلم، رقم ۱۹۵۰، ابن ماجہ، رقم ۳۲۴۲، ۳۲۳۹ اور بیہقی، رقم ۱۹۲۰۴، ۱۲۹۰۶میں صحابۂ کرام جیسے سیدنا عمر اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کا آپ کے بارے میں یہ بیان ہے کہ ’إن النبی لم یحرم ولکن قذرہ‘ (آپ نے اسے حرام نہیں ٹھیرایا، بس ناگوار قرار دیا ہے)یا بس اتنے الفاظ ہیں: ’إن النبی لم یحرم‘ (آپ نے اسے حرام نہیں ٹھیرایا)۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت اگست 2006
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Nov 04, 2016
1336 View