زندہ جانور کے گوشت کی حرمت - ساجد حمید

زندہ جانور کے گوشت کی حرمت

 

عن۱ ابی واقد اللیثی قال: قدم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم المدینۃ وہم یحبون اسنمۃ الابل ویقطعون الیات الغنم. فسالوا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن ذلک.۲ فقال: ما قطع من البہیمۃ وہی حیۃ فہی میتۃ.
’’ ابو واقد لیثی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب (ہجرت کر کے) مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ (زندہ) اونٹ کے کوہان، اور دنبے کی چکتیاں کاٹ کر کھانا پسند کرتے تھے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں (دین کا حکم) پوچھا۔توآپ نے فرمایا ۱ : جو گوشت زندہ جانور سے کاٹا جائے، وہ مردار ہے۔‘‘۲

ترجمے کے حواشی

۱۔ یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فقہی احکام میں سے ہے جوآپ نے قرآن کی آیات سے بطریق استنباط اخذ کیے۔
۲۔ قرآن مجید میں مردار کو حرام کیا گیا ہے (البقرہ ۲:۱۷۳) اور آیت صید کے الفاظ ’الا ما ذکیتم‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی جانور مردار نہیں ہے جسے تذکیہ کے مسنون طریقے پر ذبح کیا گیا ہو اور اس عمل کے دوران میں اس کی موت خون بہنے سے واقع ہوئی ہو۔ چنانچہ جس جانور کا گوشت تذکیہ سے پہلے ہی کاٹ لیا جائے تو وہ گوشت مردار ہے اور مردار ہونے کی بنا پر حرام ہے۔استاد گرامی جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:
’’’الا ما ذکیتم‘کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صرف تذکیہ ہی ہے جس سے کسی جانور کی موت اگر واقع ہو تو وہ مردار نہیں ہوتا، تذکیہ انبیا علیہم السلام کی قائم کردہ سنت ہے اور بطور اصطلاح جس مفہوم کے لیے بولا جاتا ہے،وہ یہ ہے کہ کسی تیز چیز سے جانور کو زخمی کرکے اس کا خون اس طرح بہا دیا جائے کہ اس کی موت خون بہ جانے ہی کے باعث واقع ہو۔ جانور کو مارنے کی یہی صورت ہے جس میں اس کا گوشت خون کی نجاست سے پوری طرح پاک ہو جاتا ہے۔‘‘(میزان۳۱۳)

متن کے حواشی

۱۔ ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت سنن ترمذی، رقم۱۴۸۰، اور سنن ابن ماجہ، رقم ۳۲۱۷میں آئی ہے، ان مقامات کے علاوہ یہ روایت سنن ابی داؤد، رقم ۲۸۵۸، سنن ابن ماجہ، رقم ۳۲۱۶، سنن البیہقی الکبریٰ، رقم۷۸، ۷۹، ۱۸۷۰۳، مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۴۵۰، مسند احمد، رقم۲۱۹۵۳،۲۱۸۵۴،سنن الدارمی، رقم ۲۰۱۸، مصنف عبد الرزاق، رقم ۸۶۱۱، ۸۶۱۲ میں معمولی اختلافات کے ساتھ آئی ہے۔
سب طرق میں مدینہ آنے اور وہاں کوہان اور چکتیوں کے کھانے سے متعلق رواج کا ذکر نہیں ملتا ۔یہ بات صرف ترمذی، رقم ۱۴۸۰، سنن البیہقی، رقم ۷۹، ۱۸۷۰۳، مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۴۵۰، مسند احمد، رقم۲۱۹۵۳،۲۱۹۵۴، سنن الدارمی، رقم ۲۰۱۸ میںآئی ہے۔
مصنف عبد الرزاق، رقم۸۶۱۱ میں’ قدم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم المدینۃ...‘ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے ...)کے بجائے’ قال کان اہل الجاہلیۃ یقطعون...‘(دور جاہلیت میں لوگ زندہ جانوروں کی چکتیاں کاٹ کر کھایا کرتے تھے) کے الفاظ آئے ہیں۔
سنن ابن ماجہ، رقم۳۲۱۷ میںیہ روایت ان الفاظ میںآئی ہے:

یکون فی آخر الزمان قوم یحبون اسنمۃ الابل ویقطعون اذناب الغنم الا فما قطع من حی فہو میت.
’’آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو کوہان کے گوشت کو پسند کریں گے اور زندہ جانور کی چکتیوں کو کاٹیں گے۔ اس وقت کے لیے سن رکھو کہ زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار ہے۔‘‘

ناصرالدین البانی صاحب نے ابن ماجہ کے حواشی لکھتے ہوئے اس روایت کو حد سے زیادہ ضعیف قرار دیا ہے۔
۲۔ یہ جملہ مصنف عبد الرزاق، رقم۸۶۱۱ سے لیا گیا ہے۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت مئی 2006
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Oct 21, 2016
1393 View