دین آسان ہے - ساجد حمید

دین آسان ہے

 

عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: ان الدین یسرولن یشاد الدین احد الا غلبہ. فسددوا، وقاربوا، وابشروا. واستعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشیء من الدجلۃ.
(بخاری، کتاب الایمان)

’’ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین آسان ہے، لیکن جو اس میں سختی برتے گا، دین اسے پچھاڑ دے گا۔ اس لیے تمھیں چاہیے کہ سیدھی راہ پر چلو،میانہ روی اختیار کرو۔ لوگوں کو انعام کی نوید بھی دو اور صبح وشام اور رات کے خوش گوار وقتوں میں اللہ کی بندگی بجا لایا کرو۔‘‘

مشکلات کا حل

یشاد الدین: دین میں سختی برتنا۔ یعنی اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی طاقت سے تجاوز کر جانا۔
سددوا:اس سے مراد راہ راست کو اختیار کرنا ہے۔ سیدھی راہ سے مراد، ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
قاربوا: افراط و تفریط سے بچ کر میانہ روی اختیار کرو۔
واستعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشیء من الدجلۃ مراد یہ ہے کہ ان خوش گوار وقتوں سے اللہ کے ہاں قرب حاصل کرنے کے لیے مدد لو۔ ’غدوۃ‘: سحری سے لے کر دن نکلنے تک کے وقت کو کہتے ہیں۔ ’روحۃ ‘: دن میں زوال کے بعد سے رات کے پوری طرح چھا جانے تک کے وقت کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور ’دجلۃ‘ رات کے آخری وقت کو کہتے ہیں۔ یہی اوقات ہماری نمازوں کو محیط ہیں، ہماری نمازوں کے اوقات ایک اہمیت کے حامل ہیں۔ ان اوقات میں ہماری زمین کی کائنات نمایاں تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔

وضاحت حدیث

ان الدین یسرٌ: دین آسان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ یہ دین اپنے سب تقاضوں کے ساتھ مشکل نہیں ہے کیونکہ اس کے تمام تقاضے ہماری فطرت کے مطابق ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ یہ دین انسان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی حکم نہیں دیتا۔
یہ دین ہماری فطرت کے مطابق ہے ۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ جب ایک سلیم الفطرت آدمی اپنے ارد گرد کی چیزوں کو دیکھتا ہے تو ان نعمتوں سے اس کو ایک خالق عظیم کے کائنات کے پس پردہ موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے اوپر اس خالق کے گوناگوں احسانات پاتا ہے تو اس کا دل احسان مندی کے گراں قدر جذبے سے جھک جاتا ہے، لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا جھک جانے کا یہ طریقہ جو اس نے اختیار کیاہے، صحیح بھی ہے یا نہیں؟ اگر یہ صحیح نہیں تو پھر صحیح طریقہ کیاہے؟ یہ سوال انسان کو صحیح طریقے کی تلاش میں سرگرداں کر دیتا ہے۔ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب خالق کائنات کی طرف سے دین اسلام ہے۔
یہ دین اتنا ہی آسان ہے جتنا پیاس لگنے پر پانی پی لینا ۔ اپنی پیاس بجھانے کے لیے بھی ہمیں کچھ کرنا پڑتا ہے اور روح کی پیاس بجھانے کے لیے بھی ہمیں کچھ اعمال سرانجام دینا پڑتے ہیں۔ ان اعمال کا نام دین ہے۔
ہمارے وجود کے جتنے تقاضے ہیں؛ مثلاً کھانا، پینا، سونا، اور بسنا وغیرہ۔ ان سب تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہم ہر طرح کی کوشش کرتے ہیں، مصیبتیں جھیلتے ہیں اور نہ جانے کتنی مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ یہ سب کام خواہ کتنے ہی مشکل ہوں ہمارے لیے آسان ہوتے ہیں، اور بعض اوقات ان کو سرانجام دینے کے لیے ہم جان پر کھیل جاتے ہیں۔
ہمارے وجود کا ایک تقاضا پروردگار کا شکر ادا کرنا بھی ہے۔ اس تقاضے کو پورا کرنا بھی آدمی کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بھی وہ ہر طرح کی مصیبت مول لینے کے لیے تیار ہو جاتاہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو اس تقاضے کا اسی طرح احساس ہو جائے جیسے پیاسے کو اپنی پیاس کا احساس ہو اجاتا ہے۔ اور بھوکے کو اپنی بھوک کا۔
پھر یہ بھی کہ یہ دین خود خالق کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کی فطرت سے جس قدر واقف ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ حقیقت ہے کہ اس کا دیا ہوا دین مخلوق کی فطرت کے مطابق ہوگا۔ جس طرح ایک انجینئرایک مشین بناتا ہے۔ تو وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس سے کیا کام لیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح ہم انسانوں کو بنانے والے نے ہماری مشینری کے بارے میں بتا دیا ہے کہ اس نے آدمی کو اسی دین پر چلنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان کی تخلیق ہی اس دین پر چلنے کے لیے ہوئی ہے۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ. (الذاریات ۵۱ : ۵۶)
’’ہم نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ ہمارے عبادت گزار بن کر رہیں۔‘‘

گویا ایک مشین روئی بیلنے کی بنائی گئی۔ تو روئی بیلنا اس مشین کی فطرت ہے۔ مشین کی اس فطرت کے مطابق اس سے کام لینا آسان ہے۔ لیکن روئی بیلنے کے بجائے اگر ہم اس سے گندم پیسنے کا کام لینا شروع کر دیں تو شاید دلیا بھی ہمارے ہاتھ نہ آئے۔ بالکل اسی طرح ہمارے خالق نے اگر ہمیں اس لیے بنایا ہے کہ ہم اس کی بندگی کرتے ہوئے جئیں تو پھر یہ بات بالکل واضح ہے کہ روئی بیلنے کی مشین کی طرح ہماری فطرت کے مطابق جو کام ہے وہ دین پر چلنا ہے۔ تو جس طرح روئی بیلنے کی اس مشین کے لیے روئی بیلنا آسان ہے، اسی طرح ہمارا اس دین پر چلنا آسان ہے۔
لیکن، بہرحال یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ اس کو ہر آدمی پوری طرح سے نہیں اٹھا سکتا۔ اس چیز کا لازمی تقاضا ہے کہ ہر آدمی پر اس کی طاقت اور صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں ہو ں اس لیے قرآن نے ایک اصول وضع فرمادیا کہ

لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا.(البقرہ۲: ۲۸۶)
’’اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا۔‘‘

ہر شخص بس اسی حد تک مکلف ہے جس حد تک اسے طاقت عطا ہوتی ہے۔ جو چیز اس کے حدودواختیار اور امکان سے باہر ہے۔اس کے بارے میں اس سے باز پر س نہیں ہوگی۔ ان کمزوریوں کی صورت میں، اللہ نے بندوں کو رخصتیں دی ہیں۔ یعنی روئی بیلنے کی چھوٹی مشین سے بڑی مشین جتنے کام کا تقاضا نہیں ہو گا۔
اوپر کی بحث سے یہ معلوم ہوا کہ پورے کا پورا دین ہماری بشری کمزوریوں، قوتوں اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اور چونکہ تمام لوگ ایک طرح کی صلاحیتیں نہیں رکھتے اس لیے ان کی سہولت کے لیے رخصتیں ہیں تا کہ دین آسان رہے۔ اب ہم حدیث کے دوسرے جملے کو لیتے ہیں۔
ولن یشاد الدین احدٌ الا غلبہ:
اس سے مراد یہ ہے کہ دین آسان ہے، لیکن جس نے اس کو مشکل بنایا اور اس کو سر لینے کی کوشش کی اس کا انجام یہ ہو گا کہ دین اس کو شکست دے دے گا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ

عن عبد اللّٰہ بن عمر، قال: قال لی، نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الم اخبر، انک تقوم اللیل وتصوم النھار. قلت انی افعل ذلک، قال: فانک اذا فعلت ذلک ھجمت عینک ونفہت نفسک. وان لنفسک حق ولاھلک حق. فصم وافطر وقم ونم. (بخاری، کتاب التہجد)
’’عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سمجھتے ہو کہ مجھے خبر نہیں ہوتی حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تم رات بھر قیام کرتے ہواور دن میں روزہ رکھتے ہو۔ تو عبداللہ بن عمر نے کہا: ہاں میں ایسا کرتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا : تم ایسا کرتے ہو تو یاد رکھو کہ تمھاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی جسم کمزور ہو جائے گا جبکہ تمھیں خیال رکھنا چاہیے کہ تمھارے جسم کابھی تم پر حق ہے۔ اور تمھارے گھر والوں کا بھی۔ اس لیے روزے رکھو تو وقفہ بھی کرو۔ رات میں قیام کرو تو سویا بھی کرو۔‘‘

جسم کے حقوق ادا نہ کرنے سے جو نتیجہ نکلے گا اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے کہ آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور جسم کمزور پڑ جائے گا۔ اس کمزوری اور لاغری سے، وہ آدمی جو قیام و صیام میں صبح و شام مشغول رہتا تھا، ہو سکتا ہے کہ پھر رمضان کے روزے رکھنے کے بھی قابل نہ رہے۔ اور وہ جو رات بھر قیام کیا کرتا تھا ہو سکتا ہے کہ پھر فرض نمازوں کا ادا کرنا بھی اس کے لیے مشکل ٹھیرے۔ جو آدمی اس طریقے کو اختیار کرتا ہے، اس کا حال اس شخص کا سا ہے، جس نے سونے کے انڈے حاصل کرنے کے لیے مرغی ذبح کر دی ہو، اور پھر مرغی سے بھی محروم ہو گیا ہو۔ ایسے اعمال دنیا والوں کی نظر میں بھی احمقانہ ہوتے ہیں اور خدا کے ہاں بھی کچھ زیادہ اجر نہیں رکھتے۔ کیونکہ ایسا کرنے والوں کا اپنے عمل پر دوام بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی دل کی حضوری ہوتی ہے، جبکہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا ہے۔ جس پر آدمی کا ہمیشہ عمل رہے۔ خواہ یہ عمل کتنا ہی حقیر کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ

ای العمل احب الی اللّٰہ قال: ادومہ وان قل. (بخاری، کتاب الایمان)
’’کون سا عمل اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ کام جو ہمیشہ عمل میں رہے۔خواہ وہ عمل کتنا ہی حقیر ہو۔‘‘

اعمال میں شدت ویسے بھی آدمی کو بے زار کر دیتی ہے۔ اس بے زاری میں خود عمل کرنے والا بھی دل میں تنگی محسوس کرتا ہے جس سے ان نیکیوں کے اکارت چلے جانے کا احتمال ہوتا ہے جن کو اس نے بڑی محنت سے کیا ہوتا ہے۔ اور دوسروں کے حقوق بھی غصب ہوتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ ایک حق کو پورا کرنے میں آدمی اس قدر لگ جائے کہ اس کے دوسرے بیسیوں حقوق ادا ہونے سے رہ جائیں۔ اللہ کے ہاں تو یہ بات پسندیدہ ہے کہ ایک وقت میں بندے پر جتنے حقوق ہیں وہ سب کے سب پورے ہوں اور ہمیشہ پورے ہوتے رہیں۔ یہ نہیں کہ ماں باپ تو گھر میں اس کی مدد کو ترستے رہیں اور وہ مسجد کے کسی کونے میں اپنے تئیں نیکیاں کما رہا ہو۔ یہ دین نہیں بے دینی ہے۔ آدمی پر اس کے گھر کے، اس کی ریاست کے، اس کے ہم سایوں کے اور خوداس کے اپنے نفس کے حقوق ہیں جن کو پوری ذمہ داری سے ادا کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ ساتھ اللہ کے حقوق بھی پوری طرح ادا ہونے چاہییں۔
فسددوا وقاربوا وابشروا:
ان تمام حقوق کو جو ریاست، معاشرے اور گھر کی طرف سے فرد پر عائد ہوتے ہیں پوری طرح سے ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے اور افراط وتفریط سے بچ کر میانہ روی اختیار کی جائے اور کوشش کی جائے کہ وہ عمل کیا جائے جو آدمی کی طاقت میں ہو اور جس پر وہ آسانی کے ساتھ ہمیشہ عمل کر سکے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ کوئی حکم لوگوں کی استطاعت سے بڑھ کر نہ ہو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ

کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، اذا امرھم، امرھم من الاعمال بما یطیقون قالوا: انا لسنا کہئیتک یا رسول اللّٰہ. ان اللّٰہ قد غفر لک ما تقدم ذنبک وما تاخر. فیغضب، حتی یعرف الغضب فی وجھہ. ثم یقول: ان اتقاکم واعلمکم باللّٰہ انا.(بخاری، کتاب الایمان)
’’جب آپ لوگوں کوکوئی حکم دیتے تو اس بات کا حکم دیتے جس کی لوگ استطاعت رکھتے ہوں۔ ایک مرتبہ لوگوں نے آپ سے کہا (ہمیں کچھ اور بھی بتائیے) کیوں کہ ہمارا معاملہ آپ سا نہیں ہے آپ کی تو تمام اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی گئیں ہیں۔ (ہمیں تو زیادہ عمل کرنے کی ضرورت ہے) اس پر آپ کو غصہ آگیا۔ غصہ اتنا آیا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر کہا:(تم مجھ سے زیادہ متقی بنتے ہو؟) میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا اور اس کو جانتا ہوں (مجھ سے بڑھنے کی کوشش نہ کرو میری پیروی کرو)۔‘‘

گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کسی انسان کی تقویٰ اور نیکی میں آخری حد ہے۔ اس سے آگے جو کچھ ہے وہ بے دینی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے۔
واللّٰہ انی لاخشاکم للّٰہ واتقاکم لہ. ولکنی اصوم وافطر. واصلی وارقد اتزوج النساء فمن رغب عن سنتی، فلیس منی. (بخاری، کتاب النکاح)
’’خدا کی قسم میں تم سے زیادہ خداسے ڈرنے والا ہوں، اور میں سب سے زیادہ اس کے غضب سے بچنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں (عام دنوں میں ) روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں۔ میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ نکاح بھی کرتا ہوں (یہی میرا طریقہ ہے) جس نے اس طریقے کو چھوڑا وہ میرا امتی نہیں ہے۔‘‘
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ’فسددوا‘محکم راستہ اختیار کرو۔ یہ محکم راستہ ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہی ہے ۔ اور ’قاربوا‘ سے اس پر مزید تاکید فرمائی کہ میرے طریقے کے قریب آؤ۔ نہ اس میں اضافہ کرو اور نہ اس میں کمی کرو۔
ابشروا: بھی ایک ایسا حکم ہے جیسا ’فسددوا‘ اور ’قاربوا‘ ہیں۔ اس میں دین کی طرف دعوت دینے والوں کے لیے حکم ہے کہ وہ لوگوں کو صرف دوزخ سے ڈرائیں ہی نہیں، بلکہ ان کو جنت اور اس کی نعمتوں کی بشارت بھی دیں۔ یہ نہ ہو کہ لوگ دین کو ڈرانے والے کی چیخیں سمجھ کر اس سے بھاگ جائیں۔ بلکہ انعام پانے کی نوید سن کر دین کی طرف لپکیں۔ کیونکہ انعام پانے کی خواہش بھی انسان کی فطرت ہے ۔ اور انسان کی ہر فطرت کا اس پر حق ہے۔ اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ دین کی دعوت صرف بشارتیں بن کر ہی نہ رہ جائے، بلکہ اس میں انذار بھی ہو اور تبشیر بھی تاکہ لوگوں کی زندگی خوف ورجاء میں گزرے۔ خوف برائی سے روکتا ہے اور رجاء نیکی پر ابھارتی ہے۔ اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کا فقدان ہو تو معاملہ بگڑ جاتا ہے۔
دین پر عمل کرنے میں اصل چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہی اصل میں وہ طریقہ ہے جسے قرآن کی اصطلاح میں صراط مستقیم کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پانے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ اس کے سوا کوئی طریقہ ایسا نہیں ہے جس سے خدا تک پہنچا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتے ہیں: انی علٰی صراط مستقیم، میں تو بس سیدھے راستے پر ہوں، یعنی سیدھے اور آسان راستے پر۔ اللہ تعالیٰ کو پانے کے لیے کوئی پاپڑ بیلنے نہیں پڑتے، وہ تو ہر اس جگہ مل جاتا ہے، جہاں آدمی اس کی طرف رخ سیدھا کرلے۔
واستعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشیء من الدجلۃ:
اس خوب صورت جملے کو اگر ہم تمثیل کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ آپ نے پورے دین پر عمل کرنے کی حالت کی اس جملے میں تصویر کھینچ دی ہے کہ اس مسافر کی طرح دین پر عمل کرو، جو اپنے سفر کا آغاز صبح سویرے کرتا ہے پھردھوپ کی تلخی دیکھ کر ذرا رک جاتا ہے۔ پھر سورج ڈھلنے پر چل پڑتا ہے، رات کو آرام کرنے کے لیے پھر ٹھہر جاتا ہے۔ صبح صبح تڑکے ہی پھر اٹھ کر منزل کی طرف روانہ ہو جاتاہے۔
مومن بھی ایک مسافر ہے۔ اسے بھی صبح وشام اپنا سفر اسی مسافر کی طرح جاری رکھنا ہے، کچھ چل لے تو کچھ دیر کے لیے سستا بھی لے۔ عام دنوں کے روزے رکھے تو کچھ دن وقفہ بھی کرلے، رات کو قیام کرے تو کچھ دیر سوبھی لے تاکہ جب بھی وہ دوسرا کام شروع کرے تو وہ تازہ دم ہو اور پوری دل جمعی سے وہ کام کر سکے ۔

خلاصۂ بحث

ہمارا دین آسان ہے کیوں کہ یہ ہماری فطرت کے مطابق ہے۔ اور یہ کسی آدمی پر اس کی طاقت اور صلاحیت سے زیادہ کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ دین پر چلنے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا یا ہے۔ یہ طریقہ میانہ روی اور توازن پر مبنی ہے۔ اس میں جو اضافہ کر کے سختی کرنا چاہے گا دین اسے ایسی شکست دے گا کہ اسے دین دنیا سے بھگا دے گا۔ وہ شیطان کے چنگل میں ایسا پھنسے گا کہ پھر وہ سب کچھ ہو سکتا ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاامتی نہیں ہو سکتا۔ آدمی کواس انجام سے بچانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تاکید کی ہے کہ میرے طریقے کی پیروی کرو۔ اسی طریقے کے قریب رہو۔ دین کی دعوت دوتو جب بھی ضروری ہے کہ میری طرح اپنی دعوت میں انذاروتبشیر کے پہلو سے بھی ایک توازن رکھو۔
اس توازن کوا س مسافر کے سفر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جو صبح سویرے سفر شروع کرے، پھر دھوپ میں تلخی محسوس کرے تو رک جائے، دن ڈھلے تو پھر چل پڑے ، رات آئے تو سو جائے اور صبح پھر منہ اندھیرے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائے۔
اور جو شخص اس توازن کو بگاڑے، یہ بگاڑ خواہ کمی کی صورت میں ہو یا اضافے کی صورت میں، دونوں میں اس کے لیے رسوائی ہے۔ جو دین میں اضافہ کرے اس کے لیے بھی اور جو کمی کرے اس کے لیے بھی۔ کامیاب صرف وہی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی۔ اتباع سے مراد یہ ہے کہ کسی کی انگلی پکڑ کر اس کے پیچھے پیچھے چلا جائے۔ جہاں وہ رک جائے وہیں رک جانا۔ جہاں سے وہ مڑ جائے وہیں مڑجانا۔ قرآن میں اسی کی طرف اشارہ ہے کہقُلْ إِنْ کُنتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ. (آل عمران۳: ۳۱)

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت نومبر 2005
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Oct 14, 2016
2376 View