آدم علیہ السلام کی معافی کا سبب - محمد حسن الیاس

آدم علیہ السلام کی معافی کا سبب

 

سوال: فضائل اعمال میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جب معافی دی گئی تو آپ نے اللہ پاک سے یہ دعا کی کہ مجھے اپنے حبیب کے صدقے معاف کر دو۔ اللہ پاک نے آدم علیہ السلام سے یہ پوچھا کہ آپ نے یہ کہاں سے پڑھا ہے؟ آدم علیہ السلام نے ان سے درخواست کی کہ میں نے آپ کے ساتویں آسمان کے اوپر یہ لکھا ہوا دیکھا تھا کہ یہ آپ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کر دیا۔ جبکہ ہم نے تو آج تک یہی پڑھاہے ، قرآن میں آتا ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو یہ کلمات سکھائے کہ ’رَبَّنَا ظَلَمنَا...‘ ۔ کیا یہ قصہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ؟

جواب: قرآن مجید کی سورہ بقرہ کی آیت ۳۷ میں یہ اس واقعے کا ذکر ہے ۔آیت کا ترجمہ جاوید آحمد غامدی صاحب کی تفسیر البیان میں یوں کیا گیا ہے :

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے (توبہ کے) چند الفاظ سیکھ لیے (اور اُن کے ذریعے سے توبہ کی) تو اُس کی توبہ اُس نے قبول کر لی۔ بے شک، وہی بڑا معاف فرمانے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ 

اس آیت کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں:

اِس سے اللہ تعالیٰ کی سنت معلوم ہوتی ہے کہ انسان جب گناہ کر لینے کے بعد ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف یہ کہ اُسے توبہ کی توفیق دیتا ہے ، بلکہ اِس کے لیے موزوں الفاظ بھی اُس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ آدم علیہ السلام کو جو الفاظ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سکھائے ، وہ سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۳ میں بیان ہوئے ہیں۔

اِس لیے کہ انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے کوئی مجرم نہیں ہے ۔ وہ اگر گناہ کرتا ہے تو اِس وجہ سے نہیں کرتا کہ وہ ازلی گنہ گار ہے ،بلکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ و اختیار کی جو نعمت اُسے عطا فرمائی ہے ،اُس کے سوء استعمال کی وجہ سے گناہ کرتا ہے ۔ اِس گناہ سے اپنے آپ کو پاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ و اصلاح کا طریقہ اُسے بتایا ہے ۔ اِس کے لیے کفارے کا کوئی عقیدہ وضع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اصل الفاظ ہیں: ’فَتَابَ عَلَیْہِ‘ ۔ اِن میں ’عَلٰی‘ اِس بات پر دلیل ہے کہ یہ ’اقبل‘ کے مفہوم پر متضمن ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا التفات اور توجہ اُسے پھر حاصل ہو گئی۔ رحمت و عنایت کے اِس مضمون کو قرآن نے آگے ’اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ‘ کے الفاظ میں واضح کر دیا ہے۔

اِس پورے واقعے سے معلوم ہوا کہ دنیا کی زندگی میں جو سب سے بڑا امتحان انسان کو پیش آئے گا، وہ انانیت اور جنسی جبلت کے راستے سے پیش آئے گا۔ پہلی صورت میں اُسے فرشتوں کا نمونہ سامنے رکھنا چاہیے جو ایک برتر مخلوق ہونے کے باوجود اللہ کے حکم پر اُس کے سامنے جھک گئے اور دوسری صورت میں اپنے باپ آدم کا نمونہ جو شیطان کے بہکانے پر جذبات میں بہ تو گئے ، لیکن اِس کیفیت سے نکلتے ہی فوراً اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آئے۔ چنانچہ اللہ نے اُن کی توبہ قبول کر لی اور اُنھیں برگزیدہ فرمایا"۔

اس بات کی روشنی میں آپ فضائل اعمال میں بیان کردہ قصے کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

بشکریہ محمد حسن الیاس
مصنف : محمد حسن الیاس
Uploaded on : Feb 16, 2019
974 View