تخلیق کائنات اور قرآن پر اعتراض - محمد حسن الیاس

تخلیق کائنات اور قرآن پر اعتراض

سوال: سورۂ اعراف (۷)کی آیت ۵۴ میں ہے کہ زمین و آسمان چھ دنوں میں بنائے گئے، جبکہ سورۂ حم سجدہ (۴۱) کی آیات ۹ تا ۱۱میں ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی پھر چار دن کے اندر زمین کے اندر کی جو چیزیں تھیں وہ بنائیں، پھر دو دن کے اندر آسمان بنایا۔ یعنی کل آٹھ دن ہو گئے۔ یہاں آٹھ دن کہا جا رہا ہے، اور سورۂ اعراف میں چھ دن۔ یہ تضاد کیوں ہے؟

جواب: سورہ،اعراف،کی آیت میں یقینا چھ دن ہی کا ذکر ہے ،یہ دن ہمارے دنوں کے برابر نھیں بلکہ اللہ کے دن ہیں جو قرآن مجید کے مطابق ہزاروں سالو پر محیط ہوتے ہوتے ہیں ۔ سورہ حم سجدہ میں جو بات بیان ہوئی وہ یہ ہے کہ زمین دو دنوں میں تخلیق کی گئی اور دو دن ان  سب دیگر کاموں میں لگے جن کا آیت میں ذکر ہے ،آخر میں ان سب ایام کو جمع کر کے بتا دیا کہ  ’فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ‘ یعنی چار دن۔ پھر اس کے بعد بتایا کہ دو دن آسمان کی تخلیق میں لگے گویا کل چھ دن میں زمین و آسمان مکمل ہوئے ۔یہ بالکل وہی بات ہے جو سورہ اعراف میں بیان ہوئی ہے۔

بشکریہ محمد حسن الیاس
مصنف : محمد حسن الیاس
Uploaded on : Feb 19, 2019
859 View