قسم توڑنے کا حکم - محمد رفیع مفتی

قسم توڑنے کا حکم

 

روی أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:۱ من حلف علی یمین فرأی غیرہا خیرا منہا فلیدع یمینہ ولیأت ۲ الذی ہو خیر و لیکفر عن یمینہ.
روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی قسم کو چھوڑ کر اس کا کفارہ دے اور اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے۔۱

ترجمے کے حواشی

۱۔ قسم اپنے عہد پر اللہ کو گواہ ٹھہرانا ہے۔ آدمی جب کوئی قسم کھائے تو اسے چاہیے کہ وہ لازماً اسے پورا کرے۔ لیکن اگر کبھی اس کے سامنے یہ بات آ جائے کہ قسم کو پورا کرنے کی صورت میں وہ اس سے بہتر کسی کام سے یا خیر و تقویٰ کی کسی بات سے محروم رہ جاتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ قسم کو پورا کرنے کے بجائے اس کا کفارہ دے اور اس بہتر کام یا خیر و تقویٰ کے حوالے سے اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے۔

متن کے حواشی

۱۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ مسلم کی روایت، رقم ۱۶۵۰ ہے۔ بعض اختلافات کے ساتھ یہ مضمون یا اس کے بعض حصے حسب ذیل (۵۰) مقامات پر نقل ہوئے ہیں:
موطا، رقم ۱۰۱۷۔ مسلم، رقم ۱۶۵۰ (۲)،۱۶۵۱ (۳)۔ ترمذی، رقم ۱۵۳۰۔ نسائی، رقم ۳۷۸۱، ۳۷۸۲، ۳۷۸۵، ۳۷۸۶، ۳۷۸۷۔ ابن ماجہ، رقم ۲۱۰۸، ۲۱۱۱۔ احمد بن حنبل، رقم ۶۹۹۰، ۶۷۳۶، ۶۹۰۷، ۶۹۶۹، ۸۷۱۹، ۱۱۷۴۵، ۱۸۲۷۰، ۱۸۲۷۷، ۱۸۲۸۳، ۱۸۲۹۹، ۱۸۲۹۱، ۱۹۳۹۹۔ ابن حبان، رقم ۴۳۴۵، ۴۳۴۶، ۴۳۴۷، ۴۳۴۹، ۴۳۵۲۔ بیہقی، رقم ۱۸۶۳۳، ۱۸۶۳۴، ۱۹۶۲۷، ۱۹۶۳۲، ۱۹۶۳۴، ۱۹۶۴۴، ۱۹۶۴۵، ۱۹۷۳۴، ۱۹۷۴۴، ۱۹۷۴۶،۱۹۷۴۷، ۱۹۷۴۸، ۱۹۶۳۳، ۱۹۶۳۶۔ ابو یعلیٰ، رقم ۵۷۶۲۔ ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۳۰۱، ۱۲۳۰۳۔ دارمی، رقم۲۳۴۵۔ ابوداؤد، رقم ۳۲۷۴۔
بعض روایات مثلاً موطا، رقم ۱۰۱۷ میں ’علی یمین‘ (قسم پر) کے بجائے ’بیمین‘ (قسم پر) کے الفاظ، ’ولیکفر‘ (اور چاہیے کہ وہ کفارہ دے) کے بجائے ’فلیکفر‘ (پھر چاہیے کہ وہ کفارہ دے) کے الفاظ اور ’ولیأت‘ (اور چاہیے کہ وہ اختیار کرے) کے بجائے ’ولیفعل‘ (پھر چاہیے کہ وہ بجا لائے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً مسلم، رقم ۱۶۵۰ میں ’فلیدع یمینہ ولیأت‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کو چھوڑ دے اور اختیار کرے) کے بجائے ’فلیأت‘ (پھر چاہیے کہ وہ اختیار کرے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً مسلم، رقم۱۶۵۰ ہی کی ایک دوسری سند میں ’ولیکفر عن یمینہ‘(اور چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے بجائے ’فلیکفر یمینہ‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم ۳۷۸۱ میں ’فلیکفر عن یمینہ‘(پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے الفاظ پہلے آئے ہیں اور ’ولیأت الذی ہو خیر‘ (اور چاہیے کہ وہ اسے اختیار کرے جو بہتر ہے) کے الفاظ بعد میں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم۳۷۸۲ میں ’من حلف‘ (جس نے قسم کھائی) کے بجائے ’اذا حلف أحدکم‘ (جب تم میں سے کوئی قسم کھائے) کے الفاظ اور ’ولیأت الذی ہو خیر‘ (اس بات کو اختیار کرے جو بہتر ہے) کے بجائے ’ولینظر الذی ہو خیر فلیأتہ‘ (اور چاہیے کہ وہ اس بات کو دیکھے جو بہتر ہے اور پھر اسے اختیار کرے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم ۳۷۸۶ میں ’ولیکفر عن یمینہ‘ (اور چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے بجائے ’ولیکفرہا‘ (اور چاہیے کہ وہ اس کا کفارہ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم ۳۷۸۷ میں ’فرأی غیرہا خیرا منہا‘ (پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے) کے بجائے ’فرأی خیرا منھا‘ (پھر اس سے بہتر پائے) کے الفاظ اور ’فلیدع یمینہ‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کو چھوڑ دے) کے بجائے ’ولیترک یمینہ‘ (اور چاہیے کہ وہ اپنی قسم چھوڑ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن ماجہ، رقم ۲۱۱۱ میں ’فلیدع یمینہ‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کو چھوڑ دے) کے بجائے ’فلیترکہا‘ (پھر چاہیے کہ وہ اسے چھوڑ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں، اسی روایت میں ’فإن ترکہا کفارتہا‘ (کیونکہ اسے چھوڑنا ہی اس کا کفارہ ہے) کے الفاظ بھی آئے ہیں، یہی الفاظ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ بعض دوسری روایات میں بھی موجود ہیں، لیکن چونکہ ان الفاظ پر مشتمل کوئی روایت بھی سنداً مضبوط نہیں پائی گئی، لہٰذا ان الفاظ کو یہاں زیر بحث نہیں لایا گیا۔
بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۱۸۲۷۰ میں ’ولیأت الذی ہو خیر‘ (اور چاہیے کہ وہ اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے) کے بجائے ’فلیأت بالذی ہو خیر‘ (پھر چاہیے کہ وہ اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن حبان، رقم ۴۳۴۵ میں ’فلیدع یمینہ‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کو چھوڑ دے) کے بجائے ’ثم لیترک یمینہ‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم چھوڑ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۳۴ میں ’فلیدع یمینہ‘ (پھر چاہیے کہ وہ اپنی قسم کو چھوڑ دے) کے بجائے ’ولیترک‘ (اور چاہیے کہ وہ چھوڑ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۴۵ میں ’ولیأت‘ (اور چاہیے کہ وہ اختیار کرے) کے بجائے ’فأتی‘ (تو وہ اختیار کرے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۷۳۴ میں ’ولیأت الذی ہو خیر‘ (اور چاہیے کہ وہ اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے)کے بجائے ’فلیأتہا‘ (پھر چاہیے کہ وہ اسے اختیار کرے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۷۴۶ میں ’ولیأت الذی ہو خیر‘ (اور چاہیے کہ وہ اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے) کے بجائے ’ولیفعل‘ (اور چاہیے کہ وہ بجا لائے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۷۴۷ میں ’فرأی غیرہا خیرا منہا‘ (پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے) کے بجائے ’ثم رأی خیرا مما حلف علیہ‘ (پھر وہ دیکھے اس سے بہتر جس پر اس نے قسم کھائی ہے) کے الفاظ اور ’الذی ہو خیر‘ (جو بہتر ہے) کے بجائے ’الذی ہو خیر منہ‘(جو اس سے بہتر ہے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۷۴۸ میں ’ولیکفر عن یمینہ‘ (اور چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے بجائے ’فلیکفرہا‘ (پھر چاہیے کہ وہ اس کا کفارہ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۳۰۱ میں ’ولیکفر عن یمینہ‘ (اور چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے بجائے ’ولیکفر یمینہ‘ (اور چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۳۰۳ میں ’فرأی غیرہا خیرا منہا‘ (پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے) کے بجائے ’فرأی ما ہو خیر منہا‘ (پھر وہ دیکھے اسے جو اس سے بہتر ہے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً مسلم، رقم ۱۶۵۱ میں ’فرأی غیرہا خیرا منہا‘ (پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے) کے بجائے ’ثم رأی خیرا منہا‘ (پھر وہ دیکھے اس سے بہتر کو) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
اسی مضمون کی روایت مسلم، رقم ۱۶۵۱ درج ذیل واقعے کے سیاق میں لائی گئی ہے۔

عن تمیم بن طرفۃ قال جاء سائل إلی عدی بن حاتم فسألہ نفقۃ فی ثمن خادم أو فی بعض ثمن خادم فقال لیس عندی ما أعطیک إلا درعی ومغفری فأکتب إلی أہلی أن یعطوکہا قال فلم یرض فغضب عدی فقال أما واللّٰہ لا أعطیک شیئا ثم إن الرجل رضی فقال أما واللّٰہ لولا أنی سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول من حلف علی یمین ثم رأی أتقی للّٰہ منہا فلیأت التقوی ما حنثت یمینی.
’’تمیم بن طرفہ سے روایت ہے کہ عدی بن حاتم کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے غلام کی قیمت یا اس کی قیمت کے کسی حصے کے بقدر رقم مانگی۔ اس نے کہا: میرے پاس اپنی زرہ اور خود کے علاوہ تجھے دینے کو کوئی چیز نہیں ہے تو (لاؤ) میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں کہ وہ تجھے یہ رقم دے دیں۔ راوی کہتا ہے کہ وہ سائل اس پر راضی نہ ہوا، عدی کو اس پر غصہ آ گیا اور اس نے کہا: بخدا میں تمھیں کچھ بھی نہ دوں گا۔ پھر وہ راضی ہو گیا۔ عدی نے کہا: بخدا اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ’جو شخص کسی بات کی قسم کھائے پھر کوئی دوسری بات اس سے زیادہ پرہیزگاری کی سامنے آ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس (زیادہ) پرہیزگاری کی بات ہی کو اختیار کرے‘ تو میں اپنی قسم نہ توڑتا (اور تجھے کچھ نہ دیتا)۔‘‘

مسلم، رقم۱۶۵۱ میں اسی روایت کی بیان کردہ دوسری سند میں ’ولک أربعماءۃ فی عطائی‘ (اور میں تجھے اپنی تنخواہ میں سے چار سو درہم دیتا ہوں) کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ اسی مضمون کی بعض روایات مثلاً ابن حبان، رقم ۴۳۴۶ میں ’ماحنثت یمینی‘ (میں اپنی قسم نہ توڑتا)کے بجائے ’ما حنثت‘ (میں قسم نہ توڑتا) کے الفاظ ہیں۔ بعض معمولی اختلافات کے ساتھ یہ واقعہ بیہقی، رقم ۱۹۶۳۳ میں بھی بیان ہوا ہے۔
بعض روایات مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۶۹۹۰ میں ’من حلف‘ (جس نے قسم کھائی) کے بجائے ’فمن حلف‘ (تو جس نے قسم کھائی) کے الفاظ اور ’فلیدع یمینہ‘ (تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی قسم چھوڑ دے) کے بجائے ’فلیدعھا‘ (تو اسے چاہیے کہ وہ اسے چھوڑ دے) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ اس روایت کی ابتدا میں ’لا نذر ولا یمین فیما لا یملک بن آدم ولا فی معصیۃ اللّٰہ عز وجل ولا قطیعۃ رحم‘ (کوئی نذر اور قسم جائز نہیں اس چیز میں جس کا انسان مالک ہی نہ ہو، نہ اللہ بزرگ و برتر کی معصیت میں اور نہ قطع رحمی میں) کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں اور معمولی فرق کے ساتھ یہی الفاظ ابوداؤد، رقم ۳۲۷۴ اور بیہقی، رقم ۱۹۶۴۴ کی ابتدا میں بھی آئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً ابوداؤد، رقم ۳۲۷۴ میں ’من حلف‘ (جس نے قسم کھائی) کی جگہ ’ومن حلف‘ (اور جس نے قسم کھائی) کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
اسی مضمون کی روایت مسلم، رقم ۱۶۵۰ درج ذیل واقعے کے سیاق میں لائی گئی ہے:

عن أبی ہریرۃ قال أعتم رجل عند النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثم رجع إلی أہلہ فوجد الصبیۃ قد ناموا فأتاہ أہلہ بطعامہ فحلف لا یأکل من أجل صبیتہ ثم بدا لہ فأکل فأتی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فذکر ذلک لہ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من حلف علی یمین فرأی غیرہا خیرا منہا فلیأتہا ولیکفر عن یمینہ.
’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو (رات کے وقت)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیر ہو گئی، پھر جب وہ اپنے گھر گیا تو اس نے بچوں کو سویا ہوا پایا، (اتنے میں) اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لائی تو اس نے اپنے بچوں (کے پاس دیر سے آنے) کی وجہ سے کھانا نہ کھانے کی قسم کھا لی، پھر اسے کھانا کھانا مناسب معلوم ہوا تو اس نے کھا لیا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے آپ سے (اپنے اس قسم توڑنے کا) ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ واقعہ سنا) تو فرمایا: جو شخص کوئی قسم کھائے پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس بہتر بات ہی کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔‘‘

اور اسی مضمون کی ایک اور روایت بیہقی، رقم ۱۹۶۲۷ درج ذیل واقعے کے سیاق میں لائی گئی ہے:

عن زہدم الجرمی قال دخلت علی أبی موسی رضی اللّٰہ عنہ وہو یأکل لحم دجاج فقال ادن فکل فقلت إنی حلفت لا آکلہ قال ادن فکل وسأخبرک عن یمینک ہذہ قال فدنوت فأکلت قال أتینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی ناس من الأشعریین نستحملہ فقال لا واللّٰہ لا أحملکم وما عندی ما أحملکم علیہ قال فما برحنا حتی أتتہ فرائض غر الذری فأمر لنا منہا بحملان فما برحنا إلا یسیرا حتی قلنا ما صنعنا نسینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یمینہ واللّٰہ لا نفلح قال فرجعنا إلیہ قال ما ردکم قالوا إنک حلفت ألا تحملنا فخشینا أن لا یبارک لنا وخشینا أن نکون نسیناک یمینک قال إنی واللّٰہ ما نسیتہا ولکن من حلف علی یمین فرأی غیرہا خیرا منہا فلیأت الذی ہو خیر ولیکفر عن یمینہ.
’’زہدم جرمی سے روایت ہے کہ میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ (میرے) قریب آ جاؤ اور یہ کھاؤ تو میں نے کہا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ میں یہ (مرغی کا گوشت) نہیں کھاؤں گا۔ انھوں نے کہا: (میرے) پاس آؤ اور کھاؤ، میں تجھے تیری اس قسم کے بارے میں ابھی بتاتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں، میں (ان کے) قریب ہوا اور میں نے کھایا۔ وہ (ابو موسیٰ) کہنے لگے: ہم کچھ اشعریوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے کے لیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا میں تمھیں سواری نہیں دوں گا نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جو میں تمھیں دوں۔ ہمیں کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آپ کے پاس سفید کوہانوں والے زکوٰۃ کے اونٹ آئے تو آپ نے ان میں سے ہودج والے دو اونٹ ہمیں دینے کا حکم دیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہمیں یہ خیال ہوا کہ ہم نے یہ کیا کر ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو (ہمیں اونٹ نہ دینے کی) اپنی قسم بھول بھول گئے ہیں۔ بخدا (یہ اونٹ لے کر)ہم کامیاب نہ ہوں گے۔ چنانچہ ہم آپ کے پاس واپس آئے۔ آپ نے (دیکھا تو) فرمایا: کیسے آئے؟ ہم نے کہا: آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری نہ دیں گے۔ ہمیں ڈر ہوا کہ ہم (یہ اونٹ لے کر) برکت سے محروم رہ جائیں گے، ہمیں یہ ڈر ہے کہ ہم نے آپ کو آپ کی قسم نہ بھلا دی ہو۔ آپ نے فرمایا: بخدا میں اسے نہیں بھولا، البتہ (بات یہ ہے کہ) جو شخص کوئی قسم کھائے پھر کسی دوسری بات کو اس سے بہتر پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس بہتر بات کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔‘‘

۲۔ ’فلیدع یمینہ ولیأت‘ کے الفاظ نسائی، رقم ۳۷۸۶ سے لیے گئے ہیں، اصل روایت میں ان کے بجائے ’فلیأت‘ کے الفاظ تھے۔

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت جولائی 2007
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Nov 04, 2016
1361 View