حدود و تعزیرات: قصاص و دیت کے اطلاق کی نفی - محمد رفیع مفتی

حدود و تعزیرات: قصاص و دیت کے اطلاق کی نفی

 

(۲)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ وَالْبِءْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ....(بخاری، رقم۱۴۹۹)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور نے مارا ہو تو اس کے مالک پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، کنویں میں گرا ہو تو اس کے مالک پرکوئی ذمہ داری نہیں ہے، کان میں حادثہ پیش آ جائے تو اس کے مالک پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے...۔

توضیح:

اس حدیث میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دیت کا قانون کس کس صورت میں لاگو نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ کسی آدمی کا جانور اگر کسی دوسرے کو نقصان پہنچا دے، تو اس کے مالک پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ نقصان پورا کرے، اگر کوئی شخص کسی کے کنویں میں گر کر مر جائے تو کنویں کے مالک پر کوئی ذمہ داری نہ ہو گی کہ وہ اس کی دیت وغیرہ دے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کان میں کام کرتا ہے اور وہاں اس کو کوئی قدرتی حادثہ پیش آجاتا ہے جس میں کان کے مالک کا کوئی قصور نہیں ہے تو پھر اس پر بھی دیت وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہ ہو گی۔

------------------------------ 

تاریخ: فروری 2012ء
بشکریہ: محمد رفیع مفتی

مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Aug 16, 2016
837 View