شرعی سزائیں اور جدید تمدنی نفسیات - عمار خان ناصر

شرعی سزائیں اور جدید تمدنی نفسیات

 

بعض اہل فکر کے ہاں شرعی سزاوں کے نفاذ کے ضمن میں یہ زاویہ نظر ملتا ہے کہ چونکہ جدید ذہن مختلف تمدنی اور نفسیاتی عوامل کے تحت شرعی سزاوں سے اجنبیت محسوس کرتا ہے اور ان سزاوں کا نفاذ نفسیاتی طور پر دین سے دوری کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے موجودہ دور میں ان سزاوں کا نفاذ مصلحت کے خلاف ہے۔ ہماری راے میں یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ دین کے احکام پر موثر عمل درآمد ان کی اعتقادی واخلاقی اساسات پر مضبوط ایمان اور شکوک و شبہات کا ازالہ کیے بغیر ممکن نہیں، تاہم اس نکتے کی بنیاد پر شرعی سزاوں کو جدید دور میں کلیتاً ناقابل نفاذ قرار دے کر مستقل بنیادوں پر متبادل سزاوں کا جواز اخذ کرنا درست نہیں، اس لیے کہ پھر یہ معاملہ قانون کے عملی نفاذ کی مصلحت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ فکر ونظر کے زاویے میں ایک نہایت بنیادی اختلاف کو قبول کرنے تک جا پہنچتا ہے۔ جدید ذہن کو ان سزاوں پر یہ اشکال نہیں ہے کہ یہ جرائم کی روک تھام میں مددگار نہیں یا ان سے زیادہ موثر سزائیں دریافت کر لی گئی ہیں، بلکہ اسے یہ سزائیں سنگین،متشددانہ اور قدیم وحشیانہ دور کی یادگار دکھائی دیتی ہیں اور وہ انھیں انسانی عزت اور وقار کے منافی تصور کرتا ہے۔

زاویہ نگاہ کا یہ فرق قانون کی مابعد الطبیعیاتی اور اعتقادی بنیادوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اسلام خدا کے سامنے مکمل تسلیم اور سپردگی کا نام ہے۔ یہ سپردگی مجرد قسم کے ایمان و اعتقاد اور بعض ظاہری پابندیوں کو بجا لانے تک محدود نہیں، بلکہ انسانی جذبات واحساسات بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ محبت، نفرت، ہمدردی اور غصے جیسے جذبات اور حب ذات، آزادی اور احترام انسانیت جیسے احساسات و تصورات نفس انسانی میں خدا ہی کے ودیعت کردہ اور اس اعتبار سے بجاے خود خدا کی امانت ہیں۔ چنانچہ اسلام کے نزدیک ان کا اظہار اسی دائرئہ عمل میں اور اسی حد تک قابل قبول ہے، جب تک وہ خدا کے مقرر کردہ حدود کے پابند رہیں۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اگر ان کو کوئی مقام دیا جائے گا تو یہ خدا کی امانت کا صحیح استعمال نہیں، بلکہ اس میں خیانت کے مترادف ہوگا۔ چنانچہ جدید انسانی نفسیات اگر جرم وسزا سے متعلق قرآنی احکام سے نفور محسوس کرتی ہے تو یہ محض قانون کی مصلحت یا اس کے سماجی تناظر کے بدل جانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں قانون کی مابعد الطبیعیاتی اساسات میں پیوست ہیں اور اس معاملے میں جدید فکر کے ساتھ کمپرومائز کا جواز فراہم کرنے کے لیے ’اجتہاد‘ کے دائرے کو ایمان واعتقاد تک وسیع کرنا پڑے گا۔

سزاوں سے متعلق مذکورہ زاویہ نگاہ کی خامی کا یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ مغربی مفکرین اخلاقیات اور انسانی فطرت کے بے حد محدود اور ناقص فہم کے تحت اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی انسان کی جان ومال اور عزت و آبرو اسی وقت تک احترام اور تحفظ کی مستحق ہے، جب تک وہ قانونی اور اخلاقی حدود کو پامال نہ کرے۔ نیز یہ کہ جرم ضروری نہیں کہ ہمیشہ کسی نفسیاتی عدم توازن کا نتیجہ ہو اور مجرم کو اپنے ارادہ واختیار کے سوء استعمال کا قصوروار نہ ٹھہرایا جا سکے۔ انسان کی فطرت میں شر کا ایک قوی عنصر موجود ہے جس کے زیر اثر وہ دانستہ دوسرے انسانوں کے حقوق پر تعدی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس کے لیے اسے اخلاقی طور پر پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اہل مغرب کی نگاہوں سے اوجھل رہ گئی ہے کہ معاشرتی جرائم پر موثر طریقے سے قابو پانا سخت اور سنگین سزاوں ہی کی مدد سے ممکن ہے، جبکہ انسانی حقوق کے اس فلسفے کے زیر اثر جرم وسزا کے باب میں مجرم کے ساتھ ہمدردی کا ایک نہایت غیر متوازن رویہ اپنا کر مغربی فکر ایک عجیب تضاد کا شکار ہو گئی ہے۔ چنانچہ ایک برطانوی مصنفہ Joanna Bourke نے اپنی کتاب ''Rape: A history from 1860 to the present'' میں ایک طرف یہ بیان کیا ہے کہ اعداد وشمار کے مطابق برطانیہ میں زنا بالجبر کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے صرف پانچ فیصدمقدمات میں مجرم کیفر کردار کو پہنچتا ہے اور یہی امر مصنفہ کے لیے اس کتاب کی تصنیف کا محرک بنا ہے، لیکن جب اس کے سدباب کی بات آتی ہے تو مصنفہ تجویز کرتی ہے کہ ایسے مجرموں کو کوئی سخت سزا دینے کے بجاے دواوں اور نفسیاتی بحالی کے طریقوں سے ان کا علاج کیا جائے۔ (Daily Dawn, Books and Authors, January 13, 2008, page 1)

ظاہر ہے کہ یہ طرز فکر نہ انسانی فطرت کے صحیح فہم کی عکاسی کرتا ہے، نہ اس سے عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور نہ جرائم کی روک تھام میں ہی اس سے کوئی مدد مل سکتی ہے۔

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 3 جون 2017
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Jun 03, 2017
1195 View