طلاق کے غلط طریقے - جاوید احمد غامدی

طلاق کے غلط طریقے

 

اسلامی شریعت میں بیوی کو طلاق دینے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے، اُس کی رو سے کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ عدت کا لحاظ کیے بغیر بیوی کو طلاق دے، اشتعال کی حالت میں طلاق طلاق کے الفاظ منہ سے نکال دے، طلاق پر گواہ نہ بنائے، بیوی ایام سے ہو یا کسی طہر میں اُس سے ملاقات ہو چکی ہو اور طلاق کا فیصلہ سنا دے، ایک ہی وقت میں دو طلاق یا تین طلاق کے الفاظ زبان سے کہہ دے یا لکھ کر بھیج دے۔ یہ سب طریقے سخت ناپسندیدہ ہیں۔ اِن میں سے جو چیز بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا آپ کے سامنے کسی شخص سے صادر ہوئی، آپ نے اُس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ ایک موقع پر فرمایا: کیا اللہ کے قانون سے کھیلا جائے گا، دراں حالیکہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں؟*
اِس کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نوے فیصد لوگ طلاق دیتے وقت اِنھی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ گذشتہ تیس برس کی پبلک زندگی میں طلاق کے جتنے معاملات بھی سامنے آئے، ایک دو کو چھوڑ کر طلاق دینے والوں نے اِن میں سے کسی نہ کسی جرم کا ارتکاب ضرور کیا تھا۔ یہ چیز نہایت تشویش ناک ہے۔ لیکن کیا اِس کے معنی یہ ہیں کہ لوگ جان بوجھ کر خدا کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟ اُنھیں حرام و حلال کی کوئی پروا نہیں رہی؟ وہ خدا سے بے خوف ہو چکے ہیں؟ اُنھیں اِس بات کا کوئی احساس نہیں ہے کہ ایک دن خدا کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ اِن میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ لوگ اِن جرائم کے مرتکب اِس لیے نہیں ہوتے کہ خدا کے مقابلے میں سرکشی پر آمادہ ہیں، بلکہ بالکل نادانستہ اِن کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً، اُن کی ایک بڑی تعداد اِس بات سے واقف ہی نہیں ہوتی کہ خدا کی شریعت میں یہ چیزیں ممنوع قرار دی گئی ہیں۔ ثانیاً، علما و فقہا نہ صرف یہ کہ اِن جرائم پر لوگوں کو متنبہ نہیں کرتے، بلکہ اِس طریقے سے دی گئی ہر طلاق کو نافذ بھی کر دیتے ہیں۔ ثالثاً، طلاق دینے والا کسی وثیقہ نویس، نکاح رجسٹرار یا کسی وکیل کے پاس جائے اور طلاق کی دستاویز لکھوائے تو وہ بھی اِن میں سے کسی چیز کا لحاظ کیے بغیر ایک ہی وقت میں تین طلاق کی دستاویز لکھ کر اُس کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ چیز اتنی عام ہو چکی ہے کہ آپ شاذ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس نے خدا کی شریعت کے مطابق اور اُس کے مقرر کردہ آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے طلاق دی ہو۔
اِس کے نتائج بھی نہایت افسوس ناک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قانون میں جو مصالح ملحوظ ہیں، وہ سب برباد ہو جاتے ہیں۔ رجوع، موافقت اور گھر کو تباہی سے بچانے کے سب مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ بچوں، بڑوں اور دوست احباب کسی کے لیے مصالحت کرانے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ خاندانوں میں مستقل طور پر جھگڑوں کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ لوگ اپنے کیے کی تلافی کے لیے علما سے رجوع کریں تو اُنھیں حلالے کا مشورہ ملتا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اُس کے کرنے والے اور کرانے والے، دونوں پر خدا کی لعنت ہے۔** غرض یہ کہ دو لفظ زبان سے نکلتے ہیں اور ساری عمر کے پچھتاووں کا باعث بن جاتے ہیں۔
اِس صورت حال کی اصلاح کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
۱۔ علما و فقہا اپنے خطبات جمعہ میں، اپنی مجالس وعظ و تذکیر میں، اپنے دروس تعلیم و تربیت میں ہر جگہ لوگوں کو اِن غلطیوں پر متنبہ کریں، اِن کی شناعت بتائیں، اِن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات تواتر کے ساتھ اُن کے سامنے رکھیں اور اُنھیں بتائیں کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ ہمیشہ ایک طلاق دی جائے اور جب دی جائے، ٹھنڈے دل و دماغ سے، سوچ سمجھ کر، دو گواہوں کی موجودگی میں، عدت کے حساب سے اور حیض سے فراغت کے بعد بیوی سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر دی جائے۔
۲۔ نکاح نامے کی طرح حکومت کی طرف سے ایک معیاری طلاق نامہ شائع کر کے نکاح رجسٹرار کے پاس رکھوا دیا جائے اور لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اُسی کو پر کر کے طلاق دیں۔ جو شخص اِس کی خلاف ورزی کرے، اُسے لازماً کوئی سزا دی جائے۔
۳۔ علماو فقہا اور عدالتیں غلط طریقے سے دی گئی طلاق کو نافذ قرار دینے کے بجاے وہی طریقہ اختیار کریں جو اِس طرح کے مقدمات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا۔ اِن میں سے دو نہایت اہم ہیں۔
پہلا مقدمہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ اُنھوں نے ایام حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُن کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ اِسے سن کر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: اِسے حکم دو کہ رجوع کرے، پھر اپنی زوجیت میں روکے رکھے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر حیض آئے، پھر پاک ہو۔ اِس کے بعد چاہے تو روک لے اور چاہے تو ملاقات سے پہلے طلاق دے دے۔ اِس لیے کہ یہی اُس عدت کی ابتدا ہے جس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائی ہے۔*** 
دوسرا مقدمہ رکانہ بن عبد یزید کا ہے۔ روایتوں کو جمع کرنے سے واقعے کی جو صورت سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں۔ پھر نادم ہوئے اور اپنا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے پوچھا: طلاق کس طرح دی ہے؟ اُنھوں نے عرض کیا: ایک ہی وقت میں بیوی کو تین طلاق دے بیٹھا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ارادہ کیا تھا؟ اُنھوں نے عرض کیا کہ ارادہ تو ایک ہی طلاق دینے کا تھا۔ آپ نے قسم دے کر پوچھا اور اُنھوں نے قسم کھا لی تو آپ نے فرمایا: یہ بات ہے تو رجوع کر لو۔ یہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ اُنھوں نے عرض کیا: لیکن میں نے تو، یا رسول اللہ، تین طلاق کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں، تم رجوع کر لو، یہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ عورتوں کو طلاق دو تو اُن کی عدت کے لحاظ سے طلاق دو۔****

________

* نسائی، رقم ۳۴۳۰۔
** ابن ماجہ، رقم ۱۹۳۶۔
*** بخاری، رقم ۵۲۵۱۔ مسلم، رقم ۳۶۵۷۔
**** ابو داؤد، رقم ۲۱۹۶،۲۲۰۶۔ ابن ماجہ، رقم ۲۰۵۱۔ ترمذی، رقم ۱۱۷۷۔ احمد، رقم ۲۳۸۳۔ یہ روایتیں سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں، لیکن اِن کو جمع کیا جائے تو ضعف کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2010
مصنف : جاوید احمد غامدی
Uploaded on : Nov 22, 2018
412 View