صدر پاکستان کے اہم اقدامات - سید منظور الحسن

صدر پاکستان کے اہم اقدامات

 

صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف صاحب نے گزشتہ دنوں مذہبی جماعتوں اور اداروں کے حوالے سے چند اہم اقدامات کیے ہیں۔ بعض جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مساجد کی رجسٹریشن کو لازم قرار دیا ہے اور علما کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کے منبروں کو لوگوں کے جذبات انگیخت کرنے کے لیے ہر گز استعمال نہ کریں۔مذہبی مدارس کو بھی رجسٹریشن کرانے کی ہدایت کی ہے اوران کے کارپردازوں کو تنبیہ کی ہے کہ اگر کوئی مدرسہ تخریبی کارروائی میں ملوث پایا گیاتو اسے بند کر دیا جائے گا۔
اس بحث سے قطع نظر کہ یہ اقدامات کسی خارجی دباؤ کے تحت طوعاً و کرہاً کیے گئے ہیں ، داخلی خلفشار پر قابو پانے کے لیے امرِ ناگزیر کے طور پرعمل میںآئے ہیں یا صدر مملکت کی بصیرت اور دانش مندی کا اظہار ہیں ، یہ حقیقت ہے کہ ان کی حیثیت درست سمت میں اٹھائے جانے والے پہلے قدم کی ہے۔البتہ، اس موقع پر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ یہی اقدامات اگر آج سے پندرہ، بیس سال پہلے کیے گئے ہوتے توبے شمار جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتیں، ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل تاریک نہ ہوتا، مسجدیں ویران نہ ہوتیں اور مدرسے دہشت گردی کے مراکز قرار نہ پاتے ، مگرچلیے دیر ہی سے سہی ، اربابِ اقتدار کا اصلاحِ احوال کی طرف متوجہ ہو جانا بہرحال غنیمت ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ اربابِ حکومت کو حکمت و دانائی کے ساتھ ان فیصلوں کو روبہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مذہبی تنظیموں، مسجدوں اور مدرسوں کے حوالے سے مذکورہ اقدامات کو ہم درست سمجھتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہماری آرا اور تجاویز گزشتہ برسوں میں ’’اشراق‘‘ کے صفحات میں بارہا شائع ہو چکی ہیں ۔ مگر حالیہ اقدامات کے تناظر میں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اعادہ کر دیا جائے۔
پہلے ہم مذہبی تنظیموں کا جائزہ لیتے ہیں۔
ہمارے ہاں مختلف مذہبی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے بعض تنظیموں کا مقصد عامۃ الناس کو دین کی طرف راغب کرنا ہے۔یہ اپنے نقطۂ نظر کی روشنی میں اپنے کارکنان کی دینی و اخلاقی تربیت کا اہتمام کرتی ہیں۔ہم انھیں دعوتی تنظیمیں کہتے ہیں ۔ کچھ سیاسی تنظیمیں ہیں جو حصولِ اقتدار میں سرگرم ہیں ۔ یہ اپنے کارکنان کو سیاسی معرکہ آرائی میں باقاعدہ شریک کرتی ہیں۔ اسی طرح بعض تنظیمیں وہ ہیں جن کا مقصد جہاد و قتال ہے۔ یہ اپنے کارکنان کو عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کرتی ہیں اور انھیں اپنے متعین کردہ دشمنوں کے خلاف کارروائیوں میں سرگرمِ عمل کرتی ہیں۔یہ عسکری تنظیمیں ہیں ۔
موجودہ حکومت نے دعوتی اور سیاسی تنظیموں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ اگر حکومت ایسا کرتی تو بلاشبہ یہ ایک غلط اقدام ہوتا اور ہم ان تنظیموں کے طریقِ کار سے اختلاف رکھنے کے باوجود ایسے ہر اقدام کی مذمت کرتے۔ حکومت نے صرف عسکری تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کو ہم قومی ترقی اور دعوتِ دین کے پہلو سے ایک مثبت قدم تصور کرتے ہیں۔اس ضمن میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ شریعت کی رو سے جہاد و قتال حکومت کا حق اور اسی کی ذمہ داری ہے۔اسلام کسی فرد یا گروہ کواس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی دانست میں مقصدِ جنگ، محاذِ جنگ اور طریقِ جنگ کا تعین کر کے دھاوا بول دے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ یہ محسوس کرتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی برت رہی ہے تواصلاحِ احوال کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ اربابِ حل وعقد کو اپنے نقطۂ نظر کا قائل کرنے کی کوشش کرے ، اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو تووہ رائے عامہ کو اپنے حق میں اور حکومت کے خلاف ہموار کرکے پرامن طریقے سے حصولِ اقتدار کی جدوجہد کرے۔ رائے عامہ کی ہر پہلو سے تائید حاصل ہونے اور منصب اقتدار پر فائز ہو جانے کے بعد ہی وہ اپنے نقطۂ نظر کو نافذ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس مقصد کے لیے عسکری تنظیم سازی کی جائے تو بعض ایسے نتائج نکلتے ہیں جودین وملت کے لیے نہایت ضرر رسانی کا باعث ہوتے ہیں۔ مثلاً مختلف تنظیمیں اپنے باہمی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتی ہیں، اسلحے کا استعمال ہوتا ہے اور ملک کے اندر امن و امان کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ نوجوان جذباتی نعروں سے متاثر ہو کر اور عسکری تربیت کے شوق میں اپنی تعلیم ترک کر کے ان تنظیموں سے وابستہ ہوتے ہیں اور پھر نہ صرف ملکی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے، بلکہ بعض اوقات قانون شکنی کے معاملات میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں ۔ اسلام کا تصور ایک متشدد مذہب کے طور پر سامنے آتا ہے۔عام لوگ چونکہ مذہب کو علما ہی سے سمجھتے اور انھی کی ذات کے حوالے سے دیکھتے ہیں، اس لیے جب وہ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں دیکھتے اور ان کی زبانوں سے جلا دو اور مارڈالو کے نعرے سنتے ہیں تو وہ مذہب سے برگشتہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال غیر مسلموں کے لیے اور بھی سنگین ہو جاتی ہے، کیونکہ ان کے ذہنوں میں پہلے ہی اسلام کے بارے میں تحفظات موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ محض اس وجہ سے ان کے دل و دماغ اسلام کی دعوت کی طرف متوجہ نہیں ہو پاتے۔ اس طرح ہم توسیع دعوت کی راہ میں خود رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔
اب مساجد کے معاملے کو دیکھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق مسجد کی حیثیت مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ ان کے اجتماعی مرکز کی بھی ہے۔یہاں پر علمی مجالس منعقد کی جا سکتی،شوریٰ کے اجلاس بلائے جا سکتے، عدالتی فیصلے ہو سکتے اور سماجی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔یہ سبھی اموراگر مساجد سے وابستہ ہو جائیں تو مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی ان بے شمار اخلاقی قباحتوں سے پاک ہو سکتا ہے جن میں وہ اس وقت مبتلا ہے ، مگر اس ضمن میں ایک معاملے کی حیثیت بہت بنیادی ہے۔ سنت نبوی کی رو سے یہ لازم ہے کہ مساجد کا نظام حکومت کی سرپرستی میں ہو اور نمازِ جمعہ کے خطاب اورامامت کے فرائض عالم دین نہیں، بلکہ حکومت کے نمائندے انجام دیں۔جنرل پرویز مشرف صاحب نے مساجد کی رجسٹریشن اور جمعے کے خطبات پر بعض پابندیاں عائد کر کے دانستہ یا نادانستہ سنت نبوی کی پیروی کی جانب پہلا قدم اٹھایا ہے۔مگر اس سمت میں بہت سی پیش رفت ابھی باقی ہے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت اوراس پرخلفاے راشدین کے عمل کی روشنی میں نظمِ مساجد کے حوالے سے چند بنیادی نکات متعین کیے ہیں۔حکومت کی رہنمائی کے لیے ہم انھیں یہاں درج کیے دیتے ہیں:

’’۱۔ ریاست میں ہر انتظامی وحدت کا مرکز اس کی جامع مسجد کو قرار دیا جائے اور انتظامی وحدتوں کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ وحدت کی جامع مسجد اس کی پوری آبادی کے لیے کفایت کرے ۔
۲۔ تمام وحدتوں کے لیے ضروری انتظامی دفاتر اور عدالتیں ان جامع مسجدوں ہی سے ملحق قائم کی جائیں ۔
۳۔ ریاست کے صدر مقام اور ہر صوبائی دارالحکومت میں ایک مسجد کو مرکزی جامع مسجد قرار دیا جائے۔
۴۔ نماز جمعہ کا خطاب اور اس کی امامت ریاست کے صدر مقام کی مرکزی جامع مسجد میں سربراہ مملکت، صوبوں میں گورنر اور مختلف انتظامی وحدتوں کی جامع مسجدوں میں ان کے عمال کریں ۔
۵۔ ان کے علاوہ تمام مساجد میں جمعہ کی اقامت ممنوع قرار دی جائے ۔
۶۔ مساجد کا اہتمام حکومت خود کرے ۔
۷۔ ہر صاحب علم کو حق حاصل ہو کہ وہ جس مسجد میں چاہے ، اپنے نقطۂ نظر کے مطابق تعلیم و تدریس اور اصلاح و ارشاد کی مجالس منعقد کرے۔‘‘ (مقامات ، ۱۳۸)

ہماری حکومت مساجد کے حوالے سے اگر ان اقدامات کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تواس کے نتیجے میں معاشرہ فرقہ بندی سے چھٹکارا پا جائے گا۔مسجدوں میں خوف و دہشت کی فضا ختم ہو گی اور لوگ اللہ کی عبادت کی طرف راغب ہوں گے۔ مسجدیں کسی خاص فرقے کی نمائندہ نہیں رہے گی ، چنانچہ لوگوں کو مختلف اہل علم کی آرا سے استفادے کا موقع میسر آئے گا۔ حکمران اور ان کے نمائندے جب مسجدوں سے وابستہ ہوں گے تو ان کے اندر خدا کا خوف اور دین سے لگاؤ پیدا ہو گا، چنانچہ وہ خلقِ خدا سے زیادتی یا بے اعتنائی کا رویہ اختیار نہیں کر سکیں گے۔ہر ہفتے عوام کا اپنے حکمرانوں سے رابطہ ہو گا اور وہ انھیں اپنے مسائل سے براہِ راست آگاہ کر سکیں گے۔علماسیاسی اور گروہی کشمکش سے الگ ہو کر لوگوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کی طرف متوجہ ہو سکیں گے۔
ان نتائج کے پیش نظر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مشرف صاحب کو یہ اقدام اصلاً قومی مصلحت کی بنا پر نہیں ، بلکہ ایک دینی اصول کے طور پر کرنا چاہیے اور اس ضمن میں کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں تک مدارس کا تعلق ہے تو انھیں بنیادی طور پر دو مسائل درپیش ہیں:
ایک یہ کہ علما کی سیاسی اور عسکری تنظیم سازی کی وجہ سے یہ تعلیمی مقاصد سے زیادہ تنظیمی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ ان کا نصابِ تعلیم تقلید پر مبنی ہونے کی وجہ سے یہ معاشرے میں فرقہ بندی کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں۔
پہلے مسئلے کے حل کے لیے تو یہی امر کافی ہے کہ جمعے کا منبر علما سے واپس لے کر حکمرانوں کے سپرد کیا جائے، مگر دوسرے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو ایک جامع تعلیمی پالیسی تشکیل دینا ہو گی۔اس ضمن میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی یہ تجاویز پیش نظر رہنی چاہییں:

’’۱۔پورے ملک میں تعلیم کا ایک ہی نظام رائج کیا جائے ۔تعلیمی نظام میں مذہبی و غیر مذہبی اور اردو یا انگریزی ذریعۂ تعلیم کی ہر تفریق بالکل ختم کر دی جائے ۔
۲۔تعلیم موجودہ نظام کی طرح تین مراحل ہی میں ہونی چاہیے : ابتدائی ، ثانوی اور اعلیٰ ۔ پہلے مرحلے کے لیے مدت تدریس آٹھ سال ،دوسرے کے لیے چار اور تیسرے مرحلے کے لیے یہ مدت پانچ سال قرار دینی چاہیے ۔
۳۔ابتدائی مرحلے میں صرف قرآن مجید ، عربی ، اردو اور انگریزی زبان ، حساب اور خطاطی کی تعلیم دی جائے ۔ قرآن مجید پہلے ناظرہ پڑھایا جائے پھر الملک سے الناس تک قرآن کا آخری زمرہ سب طلبہ حفظ کریں ۔ اس کے بعد ، جب وہ عربی زبان سے کچھ واقف ہو جائیں تو مطالب قرآن کی تعلیم شروع کی جائے ۔ دینیات کے مباحث عربی زبان کی کتاب میں ، عام معلومات اردو اور سائنس وغیرہ کے مضامین انگریزی زبان کی کتاب میں اس طرح سمو دیے جائیں کہ زبان ہی کی تعلیم کے دوران میں طلبہ مختلف علوم و فنون سے بھی ضروری واقفیت حاصل کر لیں ۔
۴۔قرآنِ مجیداور زبانوں کی تعلیم ثانوی مرحلے میں بھی جاری رہنی چاہیے ۔ اس کے ساتھ ، طلبہ اعلیٰ تعلیم کے مرحلے میں، جس مضمون میں اختصاص کرنا چاہتے ہوں ، اس سے متعلق دو یا تین مضامین کا اضافہ کر دیا جائے ۔ مثال کے طور پر جس طرح طب اور ہندسہ کے طلبہ اس مرحلے میں سائنس کے بعض مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں ، اسی طرح دینیات کے طلبہ ادب جاہلی اور نحو و بلاغت کے مضامین پڑھیں ۔ دوسرے تمام مضامین کی تعلیم کے لیے بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے ۔
۵۔اعلیٰ تعلیم صرف اختصاص کے لیے ہونی چاہیے ۔ طلبہ دینیات ، ہندسہ ، طب ، عمرانیات ، طبیعیات ، حیاتیات ، غرض جس مضمون میں چاہیں پانچ سال تک اسی طرح اختصاصی تعلیم حاصل کریں جس طرح موجودہ نظام میں ، مثال کے طور پر طب کے طلبہ اپنے مضمون کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ عام مضامین میں اعلیٰ تعلیم کا موجودہ طریقہ بالکل ختم کر دیا جائے ۔
۶۔ اس وقت جو دینی مدارس ہمارے ملک میں موجود ہیں ۔ انھیں اصلاحات پر آمادہ کرنے کے ساتھ حکومت اپنے اہتمام میں ، اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے جامعات قائم کرے۔
۷۔ ان جامعات میں تدریس کی ذمہ داری صرف ان اہل علم کو سونپی جائے جو تمام معاملات میں اصل مرجع و ماخذ کی حیثیت اللہ کی کتاب قرآن مجید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی کو دیتے اور جہاں تک ہو سکے ان کے احکام پر عمل پیرا رہتے ہیں ۔
۸۔ان اساتذہ کوقرآ ن و سنت کی روشنی میں ہر نوعیت کی دینی ، سیاسی ، اجتماعی اور علمی آرا قائم کرنے اور قرآن و سنت ہی کی حدود کے مطابق، جہاں اور جب وہ مناسب سمجھیں، پوری آزادی کے ساتھ ظاہر کرنے کا حق دیا جائے ، تا کہ اکابر اہل علم ان جامعات میں پڑھانے سے گریز نہ کریں ۔
۹۔ ہندسہ اور طب کی جدید درس گاہوں کی طرح ان جامعات میں بھی صرف وہی طلبہ داخل کیے جائیں جو کم سے کم ایف اے یا ایف ایس سی تک اپنی تعلیم عام درس گاہوں میں مکمل کر چکے ہوں ۔
۱۰۔مدت تدریس پانچ سال ہونی چاہیے اور ا س کا نصاب اس طرح ترتیب دیا جائے کہ اس میں قرآن مجید کو وہی حیثیت حاصل ہو ، جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ، اس میں اصل اہمیت اعلیٰ نحو، ادبِ جاہلی ، حدیث، اصولِ فقہ اور فقہ اسلامی کی تدریس کو دی جائے ۔ قدیم منطق و فلسفہ کی تعلیم بس اتنی ہو کہ طلبہ ان فنون کی اصلاحات سے فی الجملہ واقف ہو جائیں تاکہ ان علمی کتابوں کے مطالعہ میں انھیں کوئی دقت نہ ہو ، جن کے لکھنے والوں نے اپنا مدعا بالعموم ان فنون ہی کی زبان میں بیان کیا ہے ۔ نئے علوم میں سے فلسفہ و نفسیات ، علم الاقتصاد، طبیعیات اور علم السیاستہ کے اہم مسائل کا مطالعہ طلبہ کو اس طرح کرایا جائے کہ وہ ان کی حقیقت اور طریقۂ استدلال کو پوری طرح سمجھ کر ان کے مقابلے میں قرآن و سنت کا نقطۂ نظر واضح کر سکیں ۔ عالمی ادب کا ایک مختصر انتخاب بھی ، اس نصاب میں شامل ہونا چاہیے ، تاکہ طلبہ اسالیب ادب سے اتنی مناسبت پیدا کر لیں کہ قرآن مجید کے بے مثال ادبی اسلوب کی لطافتوں سے وہ کچھ بہرہ یاب ہو سکیں ۔ اسی طرح موجودہ قانون کے اصول و مبادی سے واقفیت کے لیے بھی ایک جامع کتاب شامل نصاب ہونی چاہیے ۔ فقہ اسلامی کے کسی ایک مذہب کے بجائے تمام اہم مذاہب کی تعلیم دینی چاہیے اور اس طرح دینی چاہیے کہ طلبہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ سارا فقہی ذخیرہ ان کی اپنی میراث ہے ۔ اس معاملے میں کسی رائے اور شخص کے ساتھ تعصب کے لیے علم کی دنیا میں کوئی گنجایش نہیں ۔ اس ذخیرے میں سے صرف وہی چیز قبول کرنی چاہیے جو اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے اور اس کے خلاف ہر چیز ، بغیر کسی تردد کے رد کر دینی چاہیے ۔ ‘‘ (پس چہ باید کرد، ۲۸، ۲۴)

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مارچ 2002
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Sep 17, 2018
334 View