تعیین خطاب - حمید الدین فراہی

تعیین خطاب

  

مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ پورا قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یعنی اس کو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن میں تمام خطاب بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ مثلاً ’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘۱؂ (ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں) میں ظاہر ہے کہ خطاب بندہ کی طرف سے ہے۔ علما اس کی توجیہ یوں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ تعلیم فرمائی ہے، گویا یوں فرمایا کہ اس طرح کہو، لیکن یہاں ’’کہو‘‘ کا لفظ موجود نہیں ہے تو اس مقدر کو کیسے جانا جائے؟
اسی طرح کا سوال مخاطب کے بارہ میں بھی پیدا ہوتا ہے، یعنی خطاب کن سے ہے؟ ہر خطاب میں دو پہلو ہوتے ہیں: ایک یہ کہ مخاطب کرنے والا کون ہے؟ دوسرا یہ کہ مخاطب کون ہے؟ اور ان دونوں کا حال یہ ہے کہ کبھی یہ عام ہوتے ہیں اور مراد ان سے خاص ہوتی ہے، اور کبھی اس کے بالکل برعکس۔ اور چونکہ جہت خطاب کی تبدیلی اور اس کے عام یا خاص ہونے کی وجہ سے معانی میں بڑی بڑی تبدیلیاں ہو جاتی ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اس کے لیے ایسے اصول دریافت کیے جائیں جو مشکلات میں رہنمائی کر سکیں، کیونکہ اس معاملہ میں بعض مرتبہ ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں جو آدمی کو شائبۂ شرک کے قریب پہنچا دیتی ہیں۔ مولانا روم ایک جگہ یہ تک کہہ گزرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نبی کا بندہ بنا دیا ہے، کیونکہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو ’یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا الآیۃ‘۲؂ (اے میرے بندو جنھوں نے زیادتی کی) کے الفاظ سے خطاب کریں۔ مولانا روم کے متعلق میرا یہ گمان نہیں ہے کہ انھوں نے فی الحقیقت نبی کو خدا کا شریک بنانا چاہا ہے، لیکن بات ان کی زبان سے ایسی نکل گئی ہے جو مشرکین کے اقوال سے مشابہت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس لغزش کو معاف فرمائے۔ اس آیت میں خطاب کی نوعیت بالکل واضح ہے۔ ’یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا الآیۃ‘ کا خطاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی طرف ہے۔ اس کے شروع میں جو ’قُلْ‘ ہے، وہ پیغمبر کو خطاب ہے کہ آپ یہ پیغام حرف بحرف بندوں کو پہنچا دیں۔
کسی عام کلام کی توجیہ اس کی خاص جہت خطاب کے اعتبار سے ایک مستقل باب ہے۔ تعیین خطاب کا علم اسی باب کا ایک شعبہ ہے۔ جس شخص پر کلام کا صحیح رخ واضح نہیں ہو گا، وہ اس کی صحیح تاویل تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ پس یہ باب تاویل اور نظم کلام کے فہم کی کلید ہے اور اس سے بے خبری بہت سی غلطیوں اور ٹھوکروں کا سبب ہو سکتی ہے۔ ایک مستقل مقدمہ۳؂ میں ہم علم توجیہ کے عام قواعد بیان کریں گے۔ اصول بیان کرنے سے پہلے یہ مقدمہ ہم نے محض اس لیے لکھ دیا ہے کہ فی الجملہ اس مسئلہ سے لوگوں کو انس ہو جائے۔ مسئلۂ خطاب ان بہت سی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے جن میں ہمارے مفسرین مبتلا ہیں۔ پس ضروری ہے کہ ہم اس پر علیحدہ بحث کریں۔
خطاب میں جب مختلف پہلوؤں کا امکان ہو تو اس کو لفظ مشترک کی طرح سمجھنا چاہیے اور اس میں بعض پہلوؤں کا اختیار کرنا اور بعض کو چھوڑنا ناگزیر ہو گا۔ جس طرح ایک لفظ مشترک کے تمام معانی کو ہم معلوم کرتے ہیں اور پھر سیاق کلام کی روشنی میں کسی معنی کو اختیار کرتے ہیں اور کسی کو چھوڑتے ہیں، وہی طرز عمل ہمارا اس وقت ہو گا جب کوئی خطاب مختلف پہلوؤں کا احتمال رکھتا ہو۔ لہٰذا اولین شے اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ہم خطاب کے مختلف پہلو معلوم کریں۔
خطاب میں ایک مصدر ہوتا ہے اور ایک منتہیٰ۔
مصدر یا تو اللہ تعالیٰ ہو گا یا جبریل یا رسول یا لوگ۔
اسی طرح منتہیٰ یا تو اللہ تعالیٰ ہو گا یا رسول یا لوگ۔
لوگوں میں مسلمان ہوں گے یا منافقین یا اہل کتاب یا ذریت اسمٰعیل یا ان میں سے دو یا تین یا سب۔
اہل کتاب میں سے یا تو یہود ہوں گے یا نصاریٰ یا دونوں۔
یہ پہلو تو بالکل ظاہر ہیں۔ اب ان کے اختلاط و التباس کی صورتوں پر غور کرنا چاہیے۔
مصدر میں التباس اللہ تعالیٰ، رسول اور جبریل کے مابین ہوتا ہے۔ اگر تم بغیر تنبہ کے قرآن پڑھتے چلے جاؤ تو یہ امتیاز کرنا مشکل ہو گا کہ قائل کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت جبریل اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یہ کبھی تو بعینہٖ مرسل کا قول نقل کر دیتے ہیں، اور کبھی وہ بات بطور خود ادا کر دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان پر جاری فرمائی ہے۔ پھر حضرت جبریل اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یہ کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محض مبلغ کلام الٰہی کی حیثیت سے کلام کرتے ہیں اور کبھی آپ کے معلم کی حیثیت سے، یہ ان کے معلم ہونے کی حیثیت خود اللہ تعالیٰ نے واضح کر دی ہے: ’عَلَّمَہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی، ذُوْمِرَّۃٍ فَاسْتَوٰی‘۔ ۴؂
پھر یہ تمام حیثیات ایک دوسرے کے ساتھ ملی جلی ہوئی بغیر کسی تنبیہ کے نمایاں ہوتی ہیں اور سیاق کلام کے سوا کوئی اور چیز اس باب میں رہنمائی کرنے والی نہیں ہوتی۔
اور یہ بات کچھ قرآن مجید ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ انبیا کے کلام کی یہ ایک مشترک خصوصیت معلوم ہوتی ہے۔ زبور میں بھی اس کی مثال موجود ہے، دیکھو باب ۴۶ آیات ۷۔۱۱: ’’لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے..... خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خدا ہوں ..... لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
قاعدہ کلیہ اس باب میں یہ ہے کہ جب کلام صریحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا تو اس میں جلال و ہیبت اور قوت و سطوت کا اظہار ہو گا۔ لہٰذا اس طرح کا کلام ضرورت کے مواقع پر نمودار ہوتا ہے۔ ہم یہاں بعض مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارا مدعا سمجھنے میں تم کو آسانی ہو۔
مثلاً سورۂ اقرأ شروع سے حضرت جبریل کی زبان سے ہے، لیکن جب غصہ کے اظہار کا موقع آیا ہے تو کلام صراحت کے ساتھ خدا کی طرف سے ہو گیا ہے: ’کَلَّا لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ لَنَسْفَعًام بِالنَّاصِیَۃِ۵؂ .....‘ (یہ کچھ نہیں، اگر باز نہ آیا تو ہم چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے)۔
منتہیٰ میں التباس پیغمبر اور مومنین کے درمیان ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ مخاطب بظاہر تو پیغمبر ہوتا ہے، لیکن فی الحقیقت روے سخن امت کی طرف ہوتا ہے۔ پیغمبر امت کے وکیل ہونے کی حیثیت سے ان کی زبان اور ان کا کان ہوتا ہے، اس لیے مخاطب اسی کو کیا جاتا ہے۔ تورات میں اس کی مثالیں بہت ہیں کہ مخاطب تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بصیغۂ واحد کیا گیا ہے، لیکن اس سے مراد ان کی امت ہے۔قرآن مجید میں اس طرح کے مواقع میں نظم و سیاق کی رہنمائی سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب کون ہے؟ سورۂ توبہ میں ایک آیت ہے:

اِنْ تُصِبْکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ. (۹: ۵۰)
’’اگر تم کو بھلائی پہنچتی ہے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: خوب ہوا، ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کر لیا۔‘‘

یہاں خطاب واحد کا ہے، لیکن مراد اس سے عام مومنین ہیں۔ چنانچہ اس کے جواب سے اس کی وضاحت ہو گئی ہے:

قُلْ لَّنْ یُصِیْبَنَآ اِلاَّ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ہُوَ مَوْلٰنَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ.(۹: ۵۱)
’’کہہ دو، نہیں پہنچے گی ہم کو کوئی مصیبت، مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے۔ وہ ہمارا مولیٰ ہے اور چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسا کریں اہل ایمان۔‘‘

اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل میں مخاطب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہے، لیکن خطاب امت کی طرف ہے۔ مثلاً:

اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا.(۱۷: ۲۳)
’’اگر تمھارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ ان کو اف کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کی بات کہنا۔‘‘

اسی طرح کی متعدد مثالیں عام خطاب کی ہیں۔ مثلاً سورۂ بقرہ میں ہے:

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍ وَّلَا نَصِیْرٍ. (۲: ۱۰۷)
’’کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہے۔‘‘

اسی قاعدہ پر ہم آیت ذیل کو بھی محمول کرتے ہیں ............ (بیاض)۔ ۲؂

(مجموعہ تفاسیر فراہی ۶۰۔۶۳)

_____

۱؂ الفاتحہ ۱: ۴۔
۲؂ الزمر ۳۹: ۵۳۔
۳؂ اس مسئلہ کی پوری توضیح مولانا نے اپنی کتابوں ’’اصول التاویل‘‘ اور ’’کتاب الاسالیب‘‘ میں فرمائی ہے۔ یہاں یہ بحث ناتمام رہ گئی ہے۔ مذکورہ دونوں کتابیں ابھی شائع نہیں ہو سکی ہیں۔ (مترجم)
۴؂ النجم ۵۳: ۵۔۶۔ ’’اس کو ایک مضبوط قوتوں والے، عقل و کردار کے توانا نے تعلیم دی ہے۔‘‘
۵؂ ۹۶: ۱۵۔
۶؂ یہاں بھی مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے مسودہ میں خالی جگہ چھوڑ دی ہے اور ایک نہایت اہم بحث نا تمام رہ گئی ہے۔ (مترجم)

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اگست 2014
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 23, 2016
1752 View