حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ (۲) - ڈاکٹر وسیم مفتی

حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ (۲)

 

اواخر ۱۱ھ میں سیدنا ابوبکر نے حضرت خالد بن ولیدکی قیادت میں تیرہ ہزار کا لشکر یمامہ روانہ کیا۔ مسیلمہ کذاب نے ان کی آمد کی خبر سن کر اپنے ایک لاکھ کے لشکر کو عقربا کے مقام پرترتیب دیا۔ حضرت خالد نے مقدمہ پر حضرت خالد بن فلان مخزومی، میمنہ پر حضرت زید بن خطاب اور میسرہ پر حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ کو مقرر کیا۔ خود وہ حضرت شرحبیل کو لے کر آگے بڑھے۔ مسیلمہ کے لشکر تک پہنچنے میں ایک رات کا سفر تھا کہ ان کا گزر چالیس سے زیادہ سواروں پر مشتمل ایک دستے پر ہوا۔ مسیلمہ کے قبیلے بنوحنیفہ سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے بتایا کہ ہم بنو عامر سے اپنے مقتول کا بدلہ لینے آئے ہیں۔ حضرت خالد نے پوچھا: نبوت کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: ایک نبی ہمارا ہے اور ایک تمھارا۔ حضرت خالد نے انھیں تلوار کی دھار پر رکھ لیا، تمام قتل ہوئے۔ جب دو اشخاص ساریہ بن عامر اور مجاعہ بن مرارہ رہ گئے توساریہ نے کہا: اگر تم اس قریہ میں کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہو تو مجاعہ کو زندہ رہنے دو۔ حضرت خالد نے اسے بیڑیاں پہنا کر اپنی اہلیہ حضرت ام تمیم کے سپرد کر دیا۔

جیش اسلامی عقربا پہنچا تو حضرت خالد بن ولید نے اپنی فوج کو بلند جگہ پر ٹھہرایا۔ مہاجرین کا علم حضرت سالم اور انصار کا حضرت ثابت بن قیس کے پاس تھا، دونوں نے اپنی فوج کوخوب گرمایا ۔ جنگ شروع ہوئی تو نہار بن عنفوہ سب سے پہلے حضرت زید کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔ اس مرحلے پر اسلامی فوج میں شامل بدو پسپا ہو گئے۔ بنوحنیفہ حضرت خالد کے خیمے میں داخل ہو کران کی اہلیہ حضرت ام تمیم کو قتل کر نے لگے تھے کہ مجاعہ نے ان کو بچایا۔ اب حضرت خالد بن ولید، حضرت زید بن خطاب اور حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ نے فوج کو خوب جوش دلایا۔ حضرت زید نے کہا: واﷲ، میں دشمن کو شکست سے دوچار کرنے تک کوئی کلام نہ کروں گا یا اﷲ سے جا ملوں گا اوراسی سے اپنی معذوری بیان کروں گا۔ لوگو، اپنے دانت دبا لو او ر دشمن پر کاری وار کر ڈالو۔ سب نبی کذاب کی فوج پر پل پڑے اور اسے پرے دھکیل دیا،اس حملے میں حضرت زید شہیدہوئے۔ حضرت ثابت بن قیس للکارے: مسلمانو، تم حزب اﷲ ہو اور یہ حزب شیطان۔ عزت اﷲ،اس کے رسول اور اس کے احزاب ہی کو حاصل ہو گی۔جیسے میں دشمن پر حملہ کر رہا ہوں ، تم بھی کر کے دکھاؤ۔ پھر شمشیر زنی کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے اورلڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ حضرت ابوحذیفہ پکارے: قرآن کے حاملو، قرآن کو اپنے کارناموں سے مزین کرو۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے مسیلمہ کے لشکر پر زوردار حملہ کیا ، صفوں کو چیرتے آگے بڑھ گئے اور جام شہادت نوش کیا۔ حضرت ابوحذیفہ کے آزادکردہ حضرت سالم اور ان کے انصاری بھائی حضرت عباد بن بشر بھی اسی معرکہ میں شہید ہوئے، حضرت سالم نے آخری دم تک علم تھامے رکھا۔ حضرت خالد نے یہ صورت حال دیکھی تو ہر قبیلے کے فوجیوں کو یکجا ہو کر لڑنے کی ہدایت کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سا قبیلہ بزدلی دکھاتا ہے؟انھوں نے جب مسیلمہ کو اپنی جگہ پر جمے دیکھا تو جان لیا کہ اسے قتل کیے بغیر فتح حاصل نہ ہو گی ۔وہ سیدھا اس کے پاس پہنچ گئے اوراناابن الولید،انا ابن عامر وزید کہہ کر دعوت مبارزت دی۔کئی سورما ان کے ہاتھوں قتل ہوئے، انھوں نے پھر مسیلمہ کو قبول حق کی دعوت دی، لیکن اس نے گردن ہلا کر انکار کیا۔ آخرکارجنگ کا بازار گرم ہوا اورمسیلمہ کی فوج شکست کھا کر ایک قلعہ نما باغ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ اسلامی فوج نے باغ کا محاصرہ کر لیا، حضرت برا بن مالک کو ایک زرہ پر بٹھا کر نیزوں کی انیوں کے ذریعے بلند کر کے باغ کے اندر پھینکا گیا۔ انھوں نے اندر گھس کر دس سے زیادہ مرتدوں کو قتل کیا اور لڑتے بھڑتے دروازہ کھول دیا۔ باقی مسلمان بھی نعرۂ تکبیر بلند کر کے داخل ہو گئے۔ سخت جنگ ہوئی ، مسیلمہ کے دس ہزار فوجی مارے گئے، جبکہ ساڑھے چھ سو اہل ایمان نے جام شہادت نوش کیا۔کثرت اموات کی وجہ سے اس باغ کا نام ہی حدیقۃالموت پڑ گیا۔مسیلمہ کو حضرت وحشی بن حرب اور حضرت ابودجانہ انصاری نے جہنم واصل کیا۔

مدعیۂ نبوت سجاح کے ساتھی زبرقان اور اقرع ارتداد سے توبہ کرنے کے بعد حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا: بحرین کا خراج ہمیں لکھ دیجیے، ہم ضمانت دیتے ہیں کہ ہماری قوم کا کوئی شخص مرتد نہ ہوگا ۔وہ مان گئے اور پروانہ لکھ کر دے دیا۔بطور گواہ دست خط ثبت کرانے کے لیے یہ پروانہ حضرت عمر کے پاس لے جایا گیاتو انھوں نے دست خط کرنے کے بجاے کاغذہی پھاڑ دیا ۔زبرقان اور اقرع نے حضرت خالد بن ولید کے ساتھ یمامہ سمیت تمام معرکوں میں حصہ لیا۔ پھر وہ حضرت شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ دومہ پہنچے۔

حضرت علا بن حضرمی بحرین کے مرتدین سے قتال کرنے کے لیے نکلے۔وہ یمامہ سے گزرے تو حضرت شرحبیل کو بنوقضاعہ کے مرتدین سے نمٹنے کو کہا۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص نے قبیلۂ سعد اورسرزمین بلق پر حملہ کیا، جبکہ حضرت شرحبیل نے کلب اور اس کے حلیف قبائل پر یورش کی۔یہ بنو قضاعہ کے بطون( شاخیں) تھے۔

۱۲ھ:مہران بن بہرام اور عقہ بن ابو عقہ عین التمر میں فوج کشی کیے ہوئے تھے۔انبار فتح کرنے کے بعد حضرت خالد بن ولید نے ادھر کا رخ کیا۔ انھوں نے عقہ کو شکست دی تو مہران قلعہ چھوڑ کر بھاگا، تاہم عقہ کے شکست خوردہ سپاہیوں نے قلعہ میں پناہ لے لی۔ قلعہ زیرکرنے کے بعد حضرت خالد نے عقہ اور تمام سپاہیوں کو قتل کرا دیا۔قلعہ سے کچھ قیدی اور مال غنیمت حاصل ہوا۔قیدیوں میں چالیس لڑکے تھے جو انجیل کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ انھی میں مشہورمفسرابن سیرین کے والدسیرین اورشاعر عبداﷲ بن عبدالاعلیٰ کے دادا ابوعمرہ بھی تھے۔ حضرت شرحبیل بن حسنہ نے اس معرکے میں حصہ لیا، بنومرہ کے ابوعمرہ ان کے حصے میں آئے۔

خلافت راشدہ کے پہلے سال سیدنا ابوبکر عراق میں کامیابی حاصل کر چکے تھے۔ ۱۲ھ میں وہ حج سے لوٹے تو شام (Levant) بھیجنے کے لیے چارلشکر ترتیب دیے۔سب سے پہلے انھوں نے یزید بن ابوسفیان کو بالائی شام کے شہر بلقابھیجا۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت شرحبیل بن حسنہ کوسات ہزار کا لشکر دے کر اردن، حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو حمص (جابیہ) اور حضرت عمرو بن عاص کو فلسطین کے شہر ایلہ (غمر العربات) کی طرف روانہ کیا۔ خلیفۂ اول نے ان کمانڈروں کا تقرر کرنے سے پہلے حضرت سعید بن عاص کو پرچم عطا کیا تھا، لیکن روانگی سے قبل ہی معزول کر کے حضرت یزید بن ابوسفیان کو ذمہ داری سونپ دی۔ اس وقت حضرت خالد بن سعید شام کی سرحد پر متعین اسلامی فوج کے سپہ سالار تھے ، انھوں نے سیدنا ابوبکر کی ہدایت کے مطابق سرحدی قبائل کو ساتھ ملا کر مکمل دفاعی تیاریاں کر رکھی تھیں۔ قیصر روم ہرقل نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر دیں توسرحدوں پر مقیم عرب قبائل بنو بکر ، بنو عذرہ ،بنو عدوان اور بنو غسان نے اس کا ساتھ دیا۔ حضرت خالد بن سعید نے مدینہ خط لکھ کر خلیفۂ اول سے حملے میں پہل کرنے کی اجازت چاہی۔ان کی فوج رومی افواج سے کہیں کمزور تھی، اس لیے سیدنا ابو بکر نے کبار مہاجرین و انصار پر مشتمل شوریٰ طلب کی اور شام کی طرف مزید فوجیں بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حضرت عمر نے مکمل تائید کی، جبکہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے پوری قوت سے حملہ کرنے کے بجاے چھاپہ مار کارروائی کرنے کی تجویز پیش کی۔ حضرت عثمان نے حضرت ابوبکر کے فیصلے کی حمایت کی تو باقی اہل شوریٰ بھی متفق ہو گئے۔ مدینہ کے باشندے رومی سلطنت اور اس کی جنگی طاقت سے مرعوب تھے، لیکن جب وہ خلیفۃ المسلمین کی ترغیب پر جوق در جوق شام کو جانے والے لشکر میں شامل ہو گئے تو اہل یمن کو بھی شمولیت کی د عوت دی گئی۔ چنانچہ ذو الکلاع حمیری ، قیس مرادی ، جندب دوسی اور حابس طائی اپنا اپنا دستہ لے کر مدینہ پہنچ گئے ۔اسی اثنا میں حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن سعید کو شام کی سرحد عبور کرنے کی اجازت دے دی، البتہ حملے میں پہل کرنے سے روکا۔ حضرت خالد بن سعید نے مختصر فوج اور بدوی قبائل کے ساتھ تیما سے شام کی حدود میں پیش قدمی شروع کی ۔ رومیوں نے غسانیوں اور دوسرے سرحدی قبائل کو اپنی پہلی دفاعی لائن بنایا ہوا تھا۔سرحدوں پر مقیم فوجی حواس باختہ ہو کر بھاگے، حضرت خالد نے ان کا چھوڑا ہوا سامان قبضے میں لیا اور حضرت ابو بکر کو اطلاع دی۔ انھوں نے جواب بھیجا کہ آگے بڑھتے جاؤ، لیکن جب تک کمک پہنچ نہ جائے خود حملہ کرنے سے پر ہیز کرو۔ بحر مراد کے مشرقی ساحل پر واقع قسطل کے مقام پر ایک اور رومی لشکر سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی،وہ بھی شکست سے دوچار ہوا۔ قیصر کے خود آگے نہ آنے سے شامی عیسائیوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ انھیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، اس لیے وہ لڑائی سے کنارہ کش ہو گئے۔

سب سے پہلے حضرت ولید بن عقبہ حضرت خالد بن سعید کی مدد کو پہنچے۔ حضرت عکرمہ بن ابو جہل حضرموت کی بغاوت سے فارغ ہو کر مدینہ پہنچے تھے، حضرت ابو بکر نے ان کے زیر قیادت ایک نیا لشکر ’’جیش بدال‘‘ مرتب کیااور اسے بھی شام روانہ کر دیا۔ حضرت خالد بن سعید دو بار فتح حاصل کرنے کے بعد حد سے زیادہ پر اعتماد ہو چکے تھے، انھوں نے مزید کمک کاانتظار کیے بغیر رومی فوج پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا لیا ۔رومی سپہ سالار باہان تجربہ کار جنگجو تھا، اپنی فوج لے کر دمشق کو چل پڑا، حضرت خالد نے اس کا پیچھا کیا ۔ مرج الصفر کے مقام پر وہ پلٹا اور مسلمانوں کا محاصرہ کرکے ان کی پشت کا راستہ کاٹ دیا۔اسی دوران میں ایک دستہ فوج سے الگ ہوگیا ، باہان نے حملہ کر کے سب افراد کو شہید کر دیا۔ حضرت خالد کا بیٹا حضرت سعید بھی ان میں شامل تھا، بیٹے کی شہادت کی خبر سنی تو حضرت خالد نے ہمت ہار دی، حضرت عکرمہ کو قیادت سپرد کرتے ہوئے وہ اور ولید ایسا فرار ہوئے کہ مدینے کے قریب ذو المروہ پہنچ کر دم لیا۔ حضرت ابو بکر نے ان کو مدینہ آنے سے منع کر دیا،البتہ ان کے ساتھ آئے ہوئے فوجیوں کو حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان کی قیادت میں واپس بھیج دیا۔کچھ رضا کار حضرت ابوبکر نے مہیا کیے، کچھ حضرت شرحبیل نے حضرت خالد بن سعید کے دستے سے لیے اور اردن(یا بصری) پہنچ گئے۔انھوں نے اردن پرمامور کمانڈر حضرت ولید بن عقبہ کی جگہ لی۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے جابیہ، حضرت یزید بن ابوسفیان نے بلقا اور حضرت عمرو بن عاص نے عربہ (عربات) میں ڈیرے ڈال دیے۔راستے میں بدوؤں اور عیسائیوں کی جانب سے کچھ مزاحمت پیش آئی۔ حضرت ابو عبیدہ نے اہل بلقا کو زیر کرنے کے بعدصلح پر مجبور کیا ، یہ شام کے علاقے میں پہلی صلح تھی۔

۱۳ھ( ۶۳۴ء):شاہ روم ہرقل کو مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کا علم ہوا تواپنی قوم کو صلح کی تجویزپیش کی، لیکن کوئی نہ مانا۔تب وہ حمص پہنچا اور چاروں اسلامی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے الگ الگ لشکر تیار کیے۔ اپنے سگے بھائی تذراق کونوے ہزار کی فوج دے کر حضرت عمرو بن عاص کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطین ، جارج (جرجہ) بن توذر کو چالیس ہزار کی سپاہ دے کر حضرت یزید بن ابوسفیان کی طرف دمشق ،فیقار بن نسطوس کو ساٹھ ہزار کے لشکر کا سالار مقرر کر کے حضرت ابوعبیدہ بن جراح کی جانب حمص اور دراقص کو حضرت شرحبیل بن حسنہ کا سامنا کرنے کے لیے اردن بھیجا۔ یہ خبر سن کرمسلمان گھبر ائے اور حضرت عمرو بن عاص سے راے لی۔ انھوں نے خط لکھا کہ ہمیں اکٹھا ہو جانا چاہیے تبھی ہم دشمن کی کثیر تعداد کا مقابلہ کر سکیں گے۔ حضرت ابوبکر سے ہدایت لی گئی تو انھوں نے بھی چاروں فوجوں کو یک جا ہونے کا حکم دیا۔ اب تیس ہزار اہل ایمان کی نفری دو لاکھ چالیس ہزار رومی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے یرموک پر اکٹھی ہو گئی۔ ادھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر، حضرت علی اور دیگر اہل راے کے مشورہ سے حضرت خالد بن ولید کو فوج کی قیادت سونپنے کافیصلہ کیا۔ حضرت خالد بہت آزردہ ہوئے، کیونکہ وہ ساسانی (Sassanid) دارالخلافہ مدائن کو فتح کیے بغیر عراق سے ہلنا نہ چاہتے تھے، تاہم ازراہ امتثال امر انھوں نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو عراق کا کمانڈر مقررکیا اور ساڑھے نو ہزار کی فوج لے کر شام روانہ ہو گئے۔ پہلے سوا،تدمر ، اروکہ(ارک) اورسخنہ کے قلعے فتح کیے، پھر بصریٰ کا رخ کیا۔ دمشق کوپیچھے چھوڑکر وہ مرج راہط پہنچے، ایک مختصر حملہ کرکے کچھ مال غنیمت اور کچھ قیدی حاصل کیے، پھر یہ شہر خالی کر دیا۔ان کا مقصد اگلی مہمات کے لیے عقب کو محفوظ بنانا تھا۔ حضرت خالد کی آمد کی خبر سن کر حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے حضرت شرحبیل بن حسنہ کو چار ہزار جوان دے کر بصریٰ کا محاصرہ کرنے کے لیے بھیجا۔ بازنطینی اور عرب عیسائیوں کی ایک بڑی فوج نے حضرت شرحبیل کی فوج پر اچانک حملہ کیا، حضرت شرحبیل کی قوت منتشرہونے کو تھی کہ حضرت خالد کا گھڑ سوار دستہ آن پہنچا اور رومی فوج پر عقب سے حملہ کر دیا ۔اس نے بھاگ کر قلعے میں پناہ لے لی،اسی اثنا میں حضرت ابوعبیدہ بھی فوج لے کر پہنچے اور حضرت خالد کی کمان میں آ گئے۔اسلامی فوج نے قلعے کا محاصرہ کر لیا ۔ اہل بصریٰ نے جزیہ ادائی کی شرط مان کر صلح کر لی اور قلعہ خالی کر دیا ۔شام کے شہروں میں یہ پہلا شہر تھا جو عہد صدیقی میں فتح ہوا، اس کے ساتھ ہی غسانی سلطنت (Ghassanids) کا خاتمہ ہو گیا۔ بلال بن حارث مزنی کو مال غنیمت دے کر مدینہ بھیجا گیا۔ پھر حضرت خالد، حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت یزید بن ابوسفیان چاروں جرنیل حضرت عمرو بن عاص کو کمک دینے کے لیے فلسطین کے شہر عربات (عربا) روانہ ہو گئے۔

جمادی الاولیٰ ۱۳ھ (۳۰ ؍ جولائی ۶۳۴ء، ۱۵ھ: ابن کثیر) جنگ اجنادین: حضرت خالد بصریٰ میں تھے کہ اطلاع ملی کہ رومی فوج رملہ اور بیت جبرین کے مابین واقع شہر اجنادین (Palaestina Prima) میں جمع ہو رہی ہے ۔یہ موجودہ اسرائیل کے مقام بیت شیمش(Beit Shemesh) کے جنوب میں ہے۔ حضرت خالد نے حضرت یزید بن ابوسفیان، حضرت عمرو بن عاص، حضرت ابوعبیدہ اور حضرت شرحبیل کے دستوں کو یک جا کیا تو اسلامی فوج کی تعداد بیس ہزار ہو گئی، جبکہ رومیوں کی نفری ساٹھ ہزار تھی۔ انھوں نے قلب پر حضرت معاذ بن جبل اور حضرت عمرو بن عاص، میسرہ پر حضرت سعید بن عامر، میمنہ پر حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر اور ساقہ پر حضرت یزید بن ابوسفیان کو مقرر کیا۔ جنگ اجنادین کے پہلے روز رومیوں نے پیادہ (infantary) فوج کے ذریعے حملہ کیا، تیر اندازی سے کئی مسلمان شہید اور زخمی ہو گئے۔دوبدو لڑائی اور عمومی حملہ بھی ہوا، تاہم کسی فوج کا پلہ بھاری نہ ہو سکا۔دوسرے دن حضرت ضرار بن خطاب نے رومی کمانڈر تھیوڈور کو قتل کیا۔ بازنطینی فوج کے قدم اکھڑے تو اسلامی فوج نے زوردار حملہ کر دیا۔بہت جانی نقصان اٹھانے کے باوجود پسپا نہ ہوئی تو حضرت خالد نے یزید کے دستے کو بھی بلا لیا۔اس آخری ہلے نے رومیوں کو ڈھیر کر دیا۔جو بچ گئے، وہ غزہ، جافہ اور یروشلم کی طرف فرار ہو گئے ۔

امیشا زیر کرنے کے بعد حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے شمالی شام فتح کرنے کا پلان بنایا اور فوج کو یرموک (Hieromyax) منتقل کر دیا۔ یہ دریاے یرموک کے ساتھ، گولان کی پہاڑیوں کے جنوب مشرق میں چالیس میل کے فاصلے پر ایک سطح مرتفع ہے جو موجودہ اسرائیل ، اردن اور شام کی درمیانی سرحد پر واقع ہے ۔ اس کے مغربی کنارے پررقاد نام کی ساڑھے چھ سو فٹ گہری کھائی ہے۔ اسلامی فوج طلال جموع(Hill of Samein) پر جمع ہوئی اوررومی فوج نے دیر ایوب اور دریاے یرموک کے بیچ وادی واقوصہ میں پڑاؤ ڈالا جو تین اطراف سے اونچی پہاڑیوں میں گھری ہوئی تھی۔ باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جس پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔رومیوں کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار ہو چکی تھی، جبکہ اہل ایمان کی نفری چالیس ہزار سے بھی کم(چھیالیس ہزار: طبری) تھی ، صحابہ کی تعداد ایک ہزارتھی جن میں سے سو بدری تھے ، عشرۂ مبشرہ میں سے حضرت زبیر بن عوام موجود تھے۔چار اہم جرنیلوں حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت عمرو بن عاص، حضرت یزید بن ابوسفیان اور حضرت شرحبیل بن حسنہ کی فوجیں اپنے اپنے سالار کی کمان میں جنگ کے لیے تیار تھیں۔ حضرت خالد نے مشورہ دیا کہ فوجوں کو یک جا کر کے باری باری ہر جرنیل کو سالاری کا موقع دیاجائے۔ کمانڈ حضرت خالد نے سنبھالی تو چھتیس یا چالیس کمانڈروں کی سربراہی میں ہزار ہزار جوانوں پر مشتمل دستے ترتیب دیے ۔ قلب کی کمان حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو، میمنہ کی حضرت عمرو بن عاص اور حضرت شرحبیل بن حسنہ کو، میسرہ کی حضرت یزید بن ابوسفیان کو، مقدمہ کی حضرت قباث بن اشیم کو اور ساقہ کی حضرت عبداﷲ بن مسعود کو سونپی۔ میمنہ کی ذمہ داری اداکرنے کے ساتھ حضرت شرحبیل ایک دستہ کی کمان بھی کر رہے تھے۔ حضرت ابو الدردا اس دن قاضی تھے، حضرت ابوسفیان سپاہیوں کو جوش دلا رہے اور حضرت مقداد بن اسود قرآنی آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔ ابن اسحاق کی روایت میں کمانڈروں کے نام اس طرح ہیں: لشکر کے چار حصوں کے سربراہ: حضرت ابوعبیدہ، حضرت عمرو بن عاص، حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت یزید بن ابوسفیان۔ قائد میمنہ: حضرت معاذ بن جبل، کمان دار میسرہ: حضرت نفاثہ بن اسامہ، پیادہ فوج کے سالار: حضرت ہاشم بن عتبہ اور گھڑ سوار فوج کے قائد: حضرت خالد بن ولید۔

طبری اور ابن کثیر نے سیف بن عمر کی روایت کو اختیار کیا ہے جس کے مطابق معرکۂ یرموک ۱۳ھ میں فتح دمشق سے پہلے پیش آیا۔ ابن عساکر کی نقل کردہ روایات کے مطابق، جنھیں موجودہ مؤرخین نے ترجیح دی ہے،جنگ یرموک فتح دمشق کے بعدرجب ۱۵ ھ (۱۵ تا ۲۰ ؍ اگست ۶۳۶ء) میں ہوئی۔ ذہبی کہتے ہیں: ۱۳ھ وا لی روایت وہم ہے۔

جنگ یرموک چھ دن جاری رہی۔پہلے دن کی مبارزت میں رومیوں کے کئی کمانڈر مارے گئے۔ایک تہائی رومی فوج نے جنگ میں حصہ لیااور کوئی خاص کارکردگی نہ دکھائی ۔رومی سپہ سالار باہان(واہان) کامقصد مسلمانوں کی قوت کااندازہ کرناتھا۔ دوران جنگ میں رومی جرنیل جارج (George)نے اسلام قبول کیا، جنگ میں حصہ لیا اور شام سے پہلے جام شہادت نوش کیا۔دوسرے دن علی الصبح رومی غلاموں پر مشتمل میسرہ نے دیرجان (یا قناطیر)کی سربراہی میں مسلم میمنہ پر اچانک حملہ کر دیا۔ کمانڈر حضرت عمرو بن عاص نے ایک با رتو رومیوں کی یلغار روک لی، لیکن پھر قلب کی طرف پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔اس دباؤ کو زبید قبیلہ کے افرادنے کم کیا، وہ پیچھے ہٹے پھر نعرہ بلند کر پلٹے اورزور دار حملہ کرکے رومیوں کو ہٹا دیا۔ حضرت خالد بن ولید نے میمنہ کی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد اسے رومی لشکر کے میسرہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ خود اپنا دستہ لے کروہ دوسری جانب سے میسرہ پر چڑھ دوڑے۔ رومیوں نے گھبرا کر مسلم فوج کی پوزیشنیں چھوڑ دیں اور حضرت عمرو بن عاص ان پر واپس آ گئے۔ اس کے برعکس مسلم میسرہ دبا ؤ میں رہا، حتیٰ کہ حضرت یزید بن ابوسفیان کوقلب کی طرف پسپا ہونا پڑا۔ حضرت خالد نے ضرار بن ازور کے دستے کو رومی فوج کے قلب پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔رومی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹے ، غروب آفتاب تک دونوں فوجیں پہلی پوزیشنوں تک آ چکی تھیں۔ ضرار کے حملے میں بے شمار مسلمانوں نے شہادت پائی، جبکہ لاتعداد رومی سپاہی اور ان کا جرنیل دیرجان جہنم واصل ہوئے۔ تیسرے دن بازنطینی فوج کے مسلم میمنہ اور ملحقہ قلب پر حملے سے دن کا آغاز ہوا۔ اسلامی فوج کچھ پیچھے ہٹی، لیکن پھر سنبھلی اور جوابی حملے کے لیے تیار ہو گئی۔ حضرت خالد نے رومی فوج کے میسرہ پر اندرونی جانب سے یلغار کی ، ساتھ ہی اپنی فوج کے میمنہ کو اس کے بیرونی طرف حملہ کرنے کا حکم دیا۔ گھمسان کی جنگ میں طرفین کا جانی نقصان ہوا اور رومی فوج پیش قدمی کرنے میں ناکام رہی۔ چوتھے دن رومی میسرہ میں شامل غلاموں کی بٹالین نے قناطیر کی سربراہی میں اسلامی میمنہ پر دوبارہ حملہ کیا، عیسائی عربوں نے جبلہ کی کمان میں ان کی مدد کی۔ نتیجۃً میمنہ پیچھے ہٹا۔ اسی اثنا میں حضرت خالد اپنے دستے کے ساتھ داخل ہوئے اورمیسرہ اور قلب کے کمانڈروں حضرت ابوعبیدہ اور حضرت یزید کے ساتھ مل کر ایسا زوردار حملہ کیا کہ رومی فوج کے لیے آگے بڑھنا ممکن نہ رہا۔ حضرت خالد نے اپنے دستے کو دو حصوں میں بانٹ کر رومی میسرہ کے دونوں پہلوؤں پر حملہ کیا۔اسی وقت مسلم قلب نے رومی فوج کے فرنٹ کو اور میمنہ نے ان کے میسرہ کو نشانہ بنایا۔اس چومکھی حملے میں رومی قلب اور میسرہ، دونوں پسپا ہوگئے، لیکن دوسری جانب رومی گھڑ سواروں نے مسلم قلب اور میسرہ پر تیراندازی کر کے ان کی پیش قدمی روک دی۔ کئی مسلم سپاہیوں کی آنکھیں تیر لگنے سے ضائع ہوئیں، ابوسفیان کی دوسری آنکھ اسی دن پھوٹی،پہلی طائف کے محاصرے میں ضائع ہو چکی تھی۔ حضرت عکرمہ کے دستے نے فوج کو سنبھالادیا اور رومی فوج پر جوابی حملہ کیا۔اسی اثنا میں پیچھے ہٹنے والے دستے بھی سنبھلنے میں کامیاب ہوئے ۔ اس کوشش میں عکرمہ کے بے شمار جوان شہید اور زخمی ہوئے،وہ خود بھی اسی دن شہادت سے سرفراز ہوئے۔ پانچویں دن شدید جانی نقصان اٹھانے کے بعد باہان نے عارضی جنگ بندی کی استدعا کی۔ حضرت خالد نے اسے اپنی فتح جانا، اس لیے مسترد کرتے ہوئے جارحانہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے رومی فوج کے فرار کے راستوں کو مسدود کرنے کے لیے الگ نفری مقرر کی۔ میدان جنگ میں تین گہری کھائیوں کے علاوہ مغرب کی سمت میں وادی رقاد ، جنوب میں وادی یرموک اور مشرق میں وادی الان تھی۔ان اطراف میں بازنطینی فوج کا جانا ممکن نہ تھا، اس لیے انھوں نے صرف شمال کی سمت بلاک کی۔اس کے علاوہ پانسو سپاہیوں پر مشتمل ضرار بن ازور کے دستے کو بھیج کروادی رقاد پر واقع واحد پل پر بھی قبضہ کر لیا۔ چھٹے دن حضرت خالد بن ولیدنے محض ایک سو گھڑ سواروں کو یک جا کرکے دفعۃً ایسا دھاوا بولا کہ ایک لاکھ رومی تتر بتر ہو گئے ۔ان میں سے چھ ہزار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اورباقیوں کو کوئی جائے پناہ نہ مل رہی تھی ۔ باہان نے اپنی فوج کے گھڑسوار دستوں کو یک جا ہونے کا حکم دیا، لیکن مسلم گھڑ سواروں کے شدید حملے کے دوران میں ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ نتیجۃً انھیں اکھڑ کر شمال کی سمت میں پسپا ہونا پڑا۔اس طرح رومی پیادہ فوج کو کوئی سپورٹ نہ رہی۔ حضرت خالد نے رومی قلب پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر منتشر کر دیا۔رومی بازنطینی فوج کی شکست یقینی ہو گئی تو حضرت خالد نے اس کی راہ فرار مسدود کرنے کے لیے اپنا دستہ بھی شمال کی طرف منتقل کر دیا۔ رومی مغرب کی سمت میں وادی رقاد کی طرف پسپا ہوئے، ان کی کوشش تھی کہ عین الضخر کے تنگ پل کو عبور کر کے نکل جائیں، لیکن وہاں ضرار بن ازور پانسو جوانوں کے ساتھ رات سے قابض تھے۔ اسلامی فوج کے دباؤ میں رومی فوج ایسی کسی گئی کہ اس کے لیے ہتھیار چلانا بھی ممکن نہ رہا۔ لاتعداد سپاہی گہری کھائی میں گر کر مارے گئے ،جنھوں نے پانی کے راستے فرار ہونے کی کوشش کی ،وہ بھی نہ بچ پائے۔ پھر بھی کئی رومیوں نے مصر ، امیشا اور دمشق کو راہ فرار پکڑی۔بہت کم رومی قید میں آئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت خالد نے رومی بھگوڑوں کا دمشق تک پیچھا کیا۔ باہان (واہان)وہیں مارا گیا۔ دمشق کے مقامی باشندوں نے حضرت خالدکو خوش آمدید کہا۔اس جنگ کے نتیجے میں ہرقل کو شام چھوڑنا پڑا،وہ سمندر کے راستے قسطنطنیہ روانہ ہوگیا۔

[باقی]

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2016
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Nov 30, 2019
42 View