حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ - ڈاکٹر وسیم مفتی

حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ

 

حرثان بن قیس حضرت عکاشہ بن محصن کے دادا تھے۔ حضرت عکاشہ کے چھٹے جد غنم بن دودان کی نسبت سے ان کا قبیلہ بنو غنم بن دودان، ساتویں جد اسد بن خزیمہ کے نام پر بنو اسد اور آٹھویں جد کی وجۂ تسمیہ سے بنو خزیمہ کہلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عکاشہ اسدی اور غنمی، دونوں نسبتوں سے جانے جاتے ہیں۔ابو محصن ان کی کنیت تھی۔ حضرت عکاشہ بنو عبد شمس(بنو امیہ) کے حلیف تھے۔
حضرت عکاشہ بن محصن قرآن مجید کے بیان کردہ صاحب فضیلت اصحاب رسول السابقون الاولون (التوبہ۹: ۱۰۰) میں سے تھے۔
۱۰؍ نبوی میں حج کے موقع پر یثرب کے کچھ زائرین مشرف بہ اسلام ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مشرکوں کے ستائے ہوئے اہل ایمان کو اس شہر کی طرف ہجرت کا اذن دے دیا ۔ ابوسلمہ کو پہلے مہاجرہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ۱۱؍نبوی میں بیعت عقبۂ اولیٰ ہوئی اس کے بعد حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی اہلیہ لیلیٰ مدینہ پہنچے۔ بنو غنم بن دودان (بنو اسد بن خزیمہ) کے مردوں ، عورتوں نے ہجرت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن جحش، ان کی اہلیہ حضرت فاطمہ، بھائی ابو احمد،ہمشیرگان زینب،حمنہ،ام حبیب اور بیٹے محمدکے آنے کے بعدان کے اعزہ کے کئی خاندان بھی مدینہ پہنچ گئے۔ان کے نام یہ ہیں: حضرت عکاشہ بن محصن ، ان کے بھائی ابوسنان ،عمرواور ہم شیرام قیس، شجاع بن وہب، ان کے بھائی عقبہ، اربدبن حمیر،سنان بن ابوسفیان،منقذ بن نباتہ،سعیدبن رقیش، ان کے بھائی یزید اور بہن آمنہ ، محرز بن نضلہ، قیس بن جابر، مالک بن عمرو ، ان کے بھائی صفوان اور ثقف، ربیعہ بن اکثم، تمام بن عبیدہ اور ان کے بھائی سخبرہ اورزبیر ۔یہ سب قبا میں قبیلۂ بنو عمرو بن عوف کے مبشر بن عبدالمنذر کے ہاں مقیم ہوئے۔ مواخات کا وقت آیا تو رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجذذ بن زیاد کو حضرت عکاشہ کا انصاری بھائی قرار دیا۔
رجب ۲ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نو مہاجرین پر مشتمل ایک سریہ روانہ فرمایا جو سرےۂ عبداﷲ بن جحش کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت عبداﷲ کے علاوہ حضرت عکاشہ بن محصن، حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ، حضرت عتبہ بن غزوان، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عامر بن ربیعہ، حضرت واقد بن عبداﷲ، حضرت خالد بن بکیر اور حضرت سہیل بن بیضا اس میں شامل تھے۔ امیر سریہ حضرت عبداﷲ کو آپ نے ایک خط دیا اور فرمایا کہ مدینہ سے مکہ کی جانب دو دن کا سفر کر لینے کے بعد وادئ ملل پہنچ کر اسے پڑھنا، کسی ساتھی کوزبردستی آگے نہ لے کر جانا۔ فرمان نبوی کے مطابق انھوں نے اٹھائیس میل کی مسافت طے کرلی تو خط کھولا ۔ اس میں لکھا تھا: ’’مکہ اور طائف کے بیچ واقع مقام نخلہ کی طرف سفر جاری رکھو،وہاں پہنچ کرقریش کی نگرانی کرو اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ہمیں خبر دو۔‘‘ حضرت عبداﷲ نے شرکا سے کہا: جو شہادت کا طلب گار ہے ،وہی آگے چلے ۔سب چل پڑے ، کوئی پیچھے نہ رہا۔ بحران کے مقام پر حضرت عتبہ بن غزوان اور حضرت سعدکا مشترکہ اونٹ کھو گیا اور وہ اسے تلاش کرنے لگ گئے،ابن جحش باقی ساتھیوں کو لے کر نخلہ پہنچ گئے۔ کشمش، کھالیں ،شراب اور دوسرا سامان تجارت لے کر چار افراد پر مشتمل قریش کا قافلہ آیا اور اسی جگہ قیام کیا جہاں دستہ ٹھہرا ہوا تھا۔مسلمانوں کو دیکھ کر کفار خوف زدہ تھے۔ حضرت عکاشہ نے ایک تدبیر کی،وہ سر منڈا کران کے سامنے آئے جس سے انھیں اطمینان ہو گیا۔انھوں نے کہا: یہ عمرہ کرنے جا رہے ہیں،ہمارے لیے حرج کی کوئی بات نہیں۔ مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ قافلے والوں کوآج کی رات چھوڑ دیا تو یہ حدودحرم میں داخل ہو کر مامون ہو جائیں گے اور اگر قتال کیا تو یہ حرام مہینے میں ہوگا۔کچھ سوچ بچار کے بعد انھوں نے حملے کا فیصلہ کیا۔ حضرت واقد بن عبداﷲ نے تیر مار کر قافلے کے سردار عمرو بن حضرمی(حضرمی نسبت ہے، اصل نام عبداﷲ تھا) کو قتل کر دیا، عثمان بن عبداﷲ اور حکم بن کیسان کو قید کر لیاگیا۔ چوتھا فرد نوفل بن عبداﷲ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ہجرت مدینہ کے بعد بھیجے جانے والے سات سریوں میں سے یہ پہلا سریہ تھا جس میں کامیابی ملی۔ ابن حضرمی عہد اسلامی کا پہلا قتیل اورعثمان اور حکم پہلے اسیر تھے۔ حضرت عبداﷲ بن جحش نے تاریخ اسلامی کے اولیں مال غنیمت کی اپنے طور پر تقسیم کی اور ۵؍۱ حصہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے رکھ لیا، حالاں کہ خمس کا حکم نازل نہ ہوا تھا۔ قرآن مجید نے اس قتال اور تقسیم کو جائزقرار دیاہے (البقرہ۲: ۲۱۷۔ الانفال۸: ۴۱)۔ سرےۂ عبداﷲ بن جحش اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس سے قریش کی شام سے تجارت متاثر ہوئی۔ان کی خوش حالی کا دارو مدار اسی تجارت پر تھا۔ عمرو بن حضرمی کے قتل کا بدلہ لینے کا جنون ان پر اس قدر سوار ہوا کہ وہ بدر کی جنگ لڑنے پر تیار ہو گئے۔
جنگ بدر میں حضرت عکاشہ بن محصن نے خوب جوہر دکھائے۔ان کی تلوار ان کے ہاتھ میں ٹوٹ گئی تونبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے لکڑی کی ایک ٹہنی(یا کھجور کی شاخ) پکڑا دی اور فرما یا: عکاشہ، اس سے لڑو۔ آپ کے دست مبارک سے ٹہنی لے کر انھوں نے خوب گھمائی تووہ سفید لوہے کی مضبوط پھل والی لمبی تلوار میں بدل گئی۔ حضرت عکاشہ اسی تلوار سے لڑے حتیٰ کہ ا ﷲ نے مسلمانوں کو فتح مبین دی۔اس تلوار کو ’عون‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔باقی تمام غزوات میں یہی حضرت عکاشہ کے پاس رہی۔اپنے آخری معرکہ ’جنگ بز اخہ‘ میں بھی وہ اسی تلوار کو لے کر گئے، لیکن استعمال کی نوبت نہ آئی ۔انھوں نے طلیحہ کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ اسی نوعیت کا معجزہ جنگ احد میں مکرر رونما ہوا۔ جب عبداﷲ بن جحش کی تلوار ٹوٹی تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو کھجور کی ٹہنی عنایت فرمائی۔ٹہنی کا اگلا حصہ تلوار کی شکل اختیار کر گیا، جبکہ دستہ کھجور ہی کا رہا۔ جنگ بدر میں حصہ لینے والے مشرک معاویہ بن عامر کو سیدنا علی نے قتل کیا، تاہم ابن ہشام کی روایت ہے کہ اسے انجام تک پہنچانے والے حضرت عکاشہ بن محصن تھے۔
حضرت عکاشہ بن محصن نے جنگ احد اور جنگ خندق میں بھی حصہ لیا۔
غزوۂ ذی قرد (یا غزوۂ غابہ،جنگل میں ہونے والا معرکہ):اصحاب مغازی کی راے میں ربیع الاول یا شعبان ۶ھ میں، جبکہ امام بخاری کے قول کے مطابق ذی الحجہ ۶ ھ میں ہوا۔ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے تو اپنی بیس اونٹنیاں رباح غلام کو دے کر چرنے کے لیے ذوقرد بھیج دیں ۔یہ مدینہ اور خیبر کے درمیان دودن کی مسافت پرجنگل میں واقع ایک چشمہ ہے ۔راتوں رات بنو غطفان (بنو فزارہ)کے عبدالرحمان بن عیینہ نے چالیس آدمیوں کے ساتھ غارت گری کی۔ حضرت ابوذر غفاری کے صاحب زادے کو جو حفاظت پرمامور تھے، قتل کیا، ان کی بیوی کو اغوا کیا اورتمام اونٹنیاں ہنکا کر لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع کو سب سے پہلے اس واقعے کاعلم ہوا،وہ اپنی تیر کمان لے کرطلحہ بن عبیداﷲ کے گھوڑے پر،ان کے غلام کے پیچھے بیٹھ کرجنگل میں پہنچے تھے ۔ گھوڑا انھوں نے رباح کو دے کر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو اطلاع کرنے کے لیے مدینہ بھیج دیا ، خوددوڑ کر حملہ آوروں کو جا لیااور ان پر تیر برسانے شروع کر دیے۔کبھی درخت کی آڑ لے کر تیر مارتے ،کبھی پہاڑی یا ٹیلے پر چڑھ کر پتھر پھینک دیتے۔ اس طرح انھوں نے ایک ایک کر کے پوری بیس اونٹنیاں چھڑا لیں ۔ غطفانی بھاگ نکلے ، جاتے جاتے تیس سے زیادہ نیزے اور چادریں پھینک گئے۔ پسپا ہوتے ہوتے وہ گھاٹی کے تنگ مقام تک آئے تھے کہ عیینہ بن حصن (عیینہ بن بدر) کمک کو آن پہنچا۔ اسی اثنا میں حضرت سعد بن زید کی سربراہی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا دستہ بھی آ گیا جس میں حضرت مقداد بن عمرو(اسود)، حضرت عباد بن بشر، حضرت عکاشہ بن محصن، حضرت محرز بن نضلہ (اخرم)، حضرت ابو قتادہ، حضرت ابو عیاش اور حضرت اسید بن ظہیر شامل تھے۔ فریقین میں پھرجھڑپ ہوئی۔ حضرت محرز (اخرم) حضرت عکاشہ بن محصن کے گھوڑے ’جناح‘ پر سوار تھے۔ انھوں نے عبدالرحمان بن عیینہ کے گھوڑے کو مار ڈالا تو عبدالرحمان (شاذ روایت: مسعدہ) نے انھیں شہید کر دیا اور خود ان کے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ پھر حضرت ابو قتاد ہ آئے اور عبدالرحمان بن عیینہ ( اورمسعدہ) کوجہنم رسید کیا۔ حضرت مقداد نے حبیب بن عیینہ اور قرفہ بن مالک کو قتل کیا۔ حضرت عکاشہ بن محصن نے اوبار (اثار:ابن سعد، اوثار: واقدی)اور اس کے بیٹے عمرو کو انجام تک پہنچایا۔ باپ بیٹا ایک اونٹ پر سوار تھے، حضرت عکاشہ نے ان دونوں کو اکٹھا نیزے میں پرو لیا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بھی پانسو صحابہ کے ساتھ ذوقرد پہنچے اور پہاڑ کے دامن میں ایک دن قیام کیا۔ آپ نے صحابہ میں سو اونٹنیاں تقسیم فرمائیں۔ سیدنا بلال نے ایک اونٹنی ذبح کر کے اس کی کلیجی اور کوہان بھون کر آپ کو پیش کی۔
سرےۂ عکاشہ: ربیع الاول ۶ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عکاشہ بن محصن کی قیادت میں چالیس اصحاب کا ایک سریہ بنواسد بن خزیمہ کے علاقے غمرمرزوق(مدینہ سے نجد کی طرف جانے والے راستے پر واقع ایک مقام) کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت ثابت بن اقرم اور حضرت شجاع بن وہب اس میں شامل تھے۔ ۳ھ میں ابوسلمہ کی قیادت میں ایک سریہ پہلے بھی اسی قبیلہ کی طرف قطن جا چکا تھا۔ حضرت عکاشہ کی تیزرفتاری کے باوجود غنیم متنبہ ہوکر بھاگ نکلا۔ غمر کے چشموں پر ڈیرا ڈال کر انھوں نے شجاع کو معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تو پتا چلا کہ اہل قبیلہ اپنے گھروں کو خالی کر کے جا چکے ہیں اور دو سو اونٹ پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ حضرت عکاشہ انھیں مدینہ ہانک لائے۔
ربیع الثانی ۹ھ میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عکاشہ بن محصن اسدی کو ایک سریہ کے ساتھ عذرہ اور بلی قبائل کی سرزمین جناب کی طرف روانہ فرمایا۔ان قبائل کے کچھ لو گ مسلمان ہو چکے تھے اورزکوٰۃ ادا کرتے تھے ۔اس سریہ کی غرض وغایت اور مزید تفصیلات نقل نہیں ہوئیں۔
۱۱ھ میں خلیفۂ اول حضرت ابوبکرفوج لے کر ذو القصہ پہنچے،تیاریاں مکمل کیں اور حضرت خالد بن ولید کوپونے تین ہزارکی نفری کا سپہ سالار مقرر کر کے بزاخہ کی طرف روانہ کیا۔بنو اسد کے اس چشمے پر مدعئ نبوت طلیحہ نے ڈیرے ڈال رکھے تھے،بنو اسد ، بنو غطفان (بنو فزارہ)اور بنو طے کے کچھ لوگ اس کا ساتھ دے رہے تھے۔ حضرت خالد نے حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم انصاری کو دشمن کی جاسوسی کرنے کے لیے آگے بھیجا۔ حضرت عکاشہ رزام نامی گھوڑے اور حضرت ثابت محبر پر سوار قطن پہنچے ۔طلیحہ اور اس کا بھائی سلمہ چوکسی کر رہے تھے۔ سلمہ نے ثابت کو دیکھ لیا اور اسی وقت شہید کر دیا، پھرآواز دے کرطلیحہ کو بلایا اور دونوں نے مل کر حضرت عکاشہ کی جان بھی لے لی۔ دوسری روایت ہے کہ حضرت عکاشہ نے طلیحہ کے بیٹے حبال یا جبال(ابن کثیر یا اس کے بھائی:ابن اثیر) کو جہنم رسید کیا تو طلیحہ نے انھیں شہید کیا۔ حضرت ثابت کی میت کا پتا نہ چلا اور وہاں پہنچنے والے اپنے ہی سپاہیوں کے گھوڑوں تلے روندی گئی۔ مسلمان ٹھٹک کر رکے تو حضرت عکاشہ کو بھی شہید ہوا پایا۔ حضرت ابو واقد لیثی جو حضرت زید بن خطاب کی سربراہی میں دوسو گھڑ سواروں کے مقدمۃ الجیش میں شامل تھے اور حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت ان کے آگے آگے چل رہے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ہم ان دونوں کی جاے شہادت پر پہنچے تو جی بہت برا ہوا۔ کچھ ہی دیر بعد حضرت خالد بھی فوج لے کرآن پہنچے ۔ سب کو بہت رنج تھا کہ بڑا مقام رکھنے والے دوشہ سوار مسلمان ان سے جدا ہو گئے ہیں۔ حضرت خالد نے قبر کھدواکر دونوں شہیدوں کو خون آلود کپڑوں سمیت دفن کرایا۔ حضرت عکاشہ کے جسم پرکئی زخم تھے۔
حضرت خالد نے سپاہیوں کو رنجیدہ دیکھا تو بنو طے کی طرف کوچ کیا اور ان سے مدد چاہی ۔ عدی بن حاتم طائی زکوٰۃ ادا کر کے مدینہ سے لوٹے تھے ،انھوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو اسلام کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ اہل قبیلہ مان گئے تو انھوں نے حضرت خالد بن ولیدسے تین دن کی مہلت مانگی، اس دوران میں طلیحہ کے لشکر میں موجود اپنے پانسو آدمیوں کو واپس بلا لیا۔ بنو جدیلہ کے ایک ہزار سوار بھی مرتدوں کو چھوڑ کر جیش خالد میں شامل ہو گئے۔جنگ بزاخہ شروع ہوئی تو عیینہ بن حصن اپنے سات سو سپاہیوں کے ساتھ آگے آیا۔ طلیحہ چادر اوڑھے آمد وحی کا ڈھونگ رچائے رہا، جبکہ بنوعامراس انتظار میں تھے کہ جس فریق کا پلڑا بھاری ہو، اس کا ساتھ دیں۔اسلامی لشکر کا دباؤ بڑھا تو عیینہ نے اپنی قوم کو پکارا،بنو فزارہ،( غطفان کے چوتھے جد سے نسبت) طلیحہ کذاب ہے ، بھاگ کر اپنی جانیں بچاؤ۔ طلیحہ اپنی بیوی نوار کو لے کر بھاگ کھڑا ہوا ،وہ شام پہنچا اور بنو کلب میں سکونت اختیار کر لی۔ بنو اسد، بنوغطفان (بنو فزارہ)اور بنو عامرمسلمان ہوگئے تو وہ بھی اسلام لے آیا۔ عمرہ کرنے مکہ گیا ،مدینہ کے نواح سے گزرا، لیکن سیدنا ابوبکر نے تعرض نہ کیا۔ حضرت عمر کے خلافت سنبھالنے کے بعدپھر آیا اور بیعت کے لیے پیش ہوا۔ سیدنا عمر نے کہا: تو حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت کا قاتل ہے ،میں تمھیں کبھی پسند نہ کروں گا۔اس نے جواب دیا: حضرت عکاشہ نے میری وجہ سے سعادت حاصل کر لی اور میں بدبخت ٹھہرا، اب میں اﷲ سے استغفار کرتا ہوں۔ امیرالمومنین، یہ کفر کے فتنے تھے ، قبول اسلام نے ان کو زائل کر دیا ہے۔ تب سیدنا عمر خاموش ہو گئے۔ حضرت عکاشہ کی شہادت ایسا سانحہ تھاجو اہل ایمان کے دلوں میں کھٹکتا رہا۔۱۴ھ میں جنگ قادسیہ ہوئی تو طلیحہ اسلامی فوج میں شامل تھے۔ سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایرانی لشکر کی جاسوسی کرنے کے لیے حضرت عمرو بن معدی کرب اور حضرت طلیحہ کی قیادت میں پانچ پانچ افراد کے دو گروپ بھیجے۔ حضرت عمرو نے کچھ معلومات حاصل کر کے لوٹناچاہا ،انھوں نے حضرت طلیحہ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا، لیکن وہ لشکر کے اندر گھس گئے اور ایرانیوں کا ایک اعلیٰ قسم کا گھوڑا اڑا لائے، ایرانی فوج کے دو جنگ جوؤں کو مار ڈالااور ایک کو قید کر لیا۔بعد میں اس بہادری کی داد بھی ملی، لیکن حضرت عمرو نے مشورہ نہ ماننے پر انھیں حضرت عکاشہ بن محصن کے قاتل ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔
حضرت عکاشہ کی شہادت کے بارے میں مشہور روایت یہی ہے جو اوپر درج ہوئی، تاہم سلیمان تیمی کا خیال ہے کہ حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت بن ا قرم سرےۂ بنو خزیمہ (۱۲ھ)میں طلیحہ ہی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ابن اثیر نے اسے غلط اور وہم قراردیا ہے۔
حضرت عکاشہ کی بہن ام قیس بنت محصن بیان کرتی ہیں کہ یوم نحر (۱۰ ذی الحجہ) کی شام حضرت عکاشہ میرے ہاں سے بنو اسد کے کچھ لوگوں کے ساتھ نکلے توانھوں نے قمیصیں پہن رکھی تھیں (یعنی احرام کھول دیا تھا) ۔ رات کے وقت یہ لوگ واپس آئے تو قمیصیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیں۔میں نے پوچھا: عکاشہ،کیا بات ہے ،تم قمیصیں پہن کر گئے تھے اور اب ہاتھوں میں پکڑ کر لوٹے ہو؟ انھوں نے بتایا: (ہمیں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔آپ کے ارشادکے مطابق) آج جب ہم شیطانوں کو کنکریاں مار لیں گے(اورقربانی کر کے سر منڈا لیں گے)، ہمارے لیے ہر وہ شے حلال ہو جائے گی جسے حالت احرام میں ممنوع قرار دیا گیاتھا۔ ہاں ہمیں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت تب ملے گی جب ہم طواف افاضہ (بیت اﷲ کا طواف جو حاجی یوم نحر کو منیٰ سے مکہ جا کر کرتے ہیں اور پھر منیٰ لوٹ آتے ہیں) کر لیں گے۔آج کی شب ہم نے طواف افاضہ نہیں کیا اورحالت احرام میں ہیں، اس لیے قمیصیں اتار لی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو(ابو داؤد، رقم ۱۹۹۹۔ احمد، رقم ۲۶۴۱۰)۔ قوسین میں لکھی گئی وضاحت کی تائیدمسند احمد کی اسی روایت کے اوپر والے اس حصے سے ہوتی ہے۔ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے وہب بن زمعہ کو قمیص اتار نے اور احرام برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا، کیونکہ انھوں نے بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے ہی احرام کھول دیا تھا۔
حضرت ام قیس بتاتی ہیں کہ میرا بیٹا فوت ہو ا تو میں نے بہت آہ و زاری کی۔اسی حالت اضطراب میں غسل دینے والے کو کہہ دیا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل دے کر مار نہ دینا۔ حضرت عکاشہ بن محصن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس گئے تو یہ بات آپ کو بتائی۔ آپ مسکرائے اور فرمایا: اﷲ اس کی عمر دراز کرے ،یہ کیا کہا؟راوی کہتے ہیں کہ (آپ کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ ) ہمارے علم میں نہیں کہ کسی عورت کی عمر حضرت ام قیس سے زیادہ ہوئی ہو (نسائی، رقم ۱۸۸۳۔ احمد، رقم ۲۶۸۷۸) ۔
حضرت عبداﷲ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ سلم نے فرمایا: (معراج کی رات،ایام حج میں یا خواب میں)مجھے گذشتہ امتیں دکھائی گئیں،نبی ایک ایک کرکے گزرنے لگے، امت ساتھ ہوتی۔کچھ نبی گزرے توایک گروہ ان کے ساتھ تھا،کچھ آئے تو دس افراد ساتھ تھے ،ایک نبی پانچ امتیوں کو لے کرگزرے،ایک اکیلے ہی گزر گئے۔ اچانک میں نے ایک جم غفیر دیکھا تو پوچھا: جبریل علیہ السلام، کیایہ میری امت ہے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: نہیں، (بخاری ہی کی روایت، رقم ۵۷۰۴ میں ہے کہ یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے) اور کہا: آپ افق کی طرف دیکھیں۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو ایک بہت بڑا مجمع نظر آیا۔تب انھوں نے بتایا: یہ آپ کی امت ہے۔(دوسری روایت میں ہے کہ مجھے کہا گیا کہ اپنے دائیں طرف دیکھیں تومیں نے دیکھا کہ لوگوں کی کثرت سے پہاڑوں کا رستہ بند ہو گیا ہے۔ پھرآواز آئی کہ اپنے بائیں طرف تودیکھیں۔مجھے نظر آیا کہ افق(حد نگاہ) لوگوں سے پر ہو گیا ہے۔ تب سوال ہوا کہ کیا آپ راضی ہو گئے ہیں؟ میں نے کہا: میں خوش ہو گیا ہوں، یا رب، میں راضی ہوگیا ہوں ( احمد، رقم ۳۸۰۶)۔پھر بتایا گیا کہ ان کے آگے آگے یہ ستر ہزار افراد ایسے ہیں جن کا کوئی حساب ہو گا نہ ان پر عذاب آئے گا۔(ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے تھے (بخاری، رقم ۵۸۱۱)۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دغواتے نہ منتر کراتے نہ شگون لیتے تھے، یہ تو اپنے رب پر بھروسا کرتے تھے۔ (اس موقع پر) حضرت عکاشہ بن محصن کھڑے ہو گئے اور کہا: اﷲ سے دعا فرمائیں، مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ نے دعا فرمائی: ’’اﷲ، عکاشہ کو ان میں شامل کر دے۔‘‘اب ایک اور شخص (دوسری روایت: انصاری صحابی) نے کھڑے ہو کر التجا کی: ’’اﷲ سے دعا کریں، میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہو جائے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اس بات میں عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔‘‘ (بخاری، رقم ۶۵۴۱۔ مسلم، رقم ۴۴۷)۔ آپ کا فرمایا ہوا یہ جملہ ضرب المثل بن گیا ہے ،ایک آدمی دوسرے پر سبقت لے جائے توکہا جاتا ہے: ’سبقک بہا عکاشۃ‘۔
حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہو گا ،ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح (روشن ) ہوں گے۔ ان کے بعد جانے والے آسمان کے سب سے خوب صورت ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے۔اس موقع پر حضرت عکاشہ بن محصن اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: یارسول اﷲ، اﷲ سے دعا فرمائیں کہ مجھے ان میں شامل کردے۔ آپ نے دعا کی: اﷲ، اسے ان میں شامل کر دے۔ پھرایک اور شخص اٹھا اور کہا: یارسول اﷲ،اﷲ سے دعا فرمائیں کہ میرا شمار بھی ان میں کردے۔ آپ نے فرمایا: ’’عکاشہ اس باب میں تم پر سبقت لے گیا ہے۔‘‘ ( احمد، رقم ۱۰۴۷۲)۔ شارحین نے بتایا ہے کہ بعد میں اٹھنے والے انصاری صحابی حضرت سعد بن عبادہ تھے، جبکہ حضرت ابو عمر کہتے ہیں کہ لامحالہ وہ شخص صحابی نہیں، بلکہ منافق ہو گا، کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے جب بھی کچھ مانگا گیا، آپ نے حتی الامکان انکار نہیں کیا۔
حضرت عکاشہ کا شمارانتہائی خوب صورت صحابہ میں ہوتا ہے۔ ایک بار رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ’’عرب کا بہترین شہ سوار ہمارے ساتھ شامل ہے۔‘‘ حاضرین نے پوچھا: ’’کون ہے وہ یا رسول اﷲ؟‘‘ فرمایا: ’’عکاشہ بن محصن۔‘‘ حضرت ضرار بن اسود نے کہا: ’’وہ تو ہمارے ہی آدمی ہیں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تمھارے ہی نہیں، ہم سب کے۔‘‘
حضرت عکاشہ بن محصن کی عمر چوالیس (یا پینتالیس) برس ہوئی۔ حضرت ام قیس بنت محصن بتاتی ہیں کہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت عکاشہ چوالیس برس کے تھے ۔ جنگ بزاخہ ایک سال بعدہوئی جس میں ان کی شہادت ہوئی۔
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداﷲ بن عباس نے حضرت عکاشہ سے حدیث روایت کی۔ حدیث کی تین کتابوں میں ان کی مرویات موجود ہیں۔
ہندوستان کے صوبہ کیرالا کے شہر اریٹو پٹا (Erattupetta) میں رہنے والے لبی (Lebbas) مسلمان اپنے آپ کو حضرت عکاشہ بن محصن کی اولاد بتاتے ہیں۔ حضرت عکاشہ کی نسل سے تعلق رکھنے والے سعید باوا ان کے جدامجد تھے۔انیسویں صدی عیسوی میں اسرائیل کے شہر یروشلم (بیت المقدس) میں ایک مسجد تعمیر کی گئی جسے حضرت عکاشہ بن محصن سے منسوب کیا گیا۔ یہ مسجد اب ویران ہے۔ مسجد کے قریب بارہویں صدی کا تعمیر کردہ ایک مقبرہ ہے جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاہی مدفون ہیں۔اس مقبرے کو مقبرۂ بنی عکاشہ بن محصن کہاجاتا ہے۔
مطالعۂ مزید: السیرۃ النبوےۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ(ابن سعد)،تاریخ الامم والملوک(طبری)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم(ابن جوزی)،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب(ابن عبدالبر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)،الکامل فی التاریخ(ابن اثیر)، البداےۃ والنہاےۃ(ابن کثیر)،تاریخ الاسلام (ذہبی)،سیراعلام النبلاء (ذہبی)، الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ (ابن حجر)، Wikipedia۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت فروری 2014
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : Feb 14, 2019
1069 View