ہاروت و ماروت - محمد حسن الیاس

ہاروت و ماروت

 

سوال: سورۂ بقرہ میں ہاروت اور ماروت کا ذکر آیا ہے۔ کیا وہ فرشتے تھے؟ ہم ان کے بارے میں یہ نہیں سنتے کہ ان کو کوئی اسائنمنٹ دی گئی تھی۔ ان کا نزول کس لیے کیا گیا تھا؟

جواب: سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں ان فرشتوں کا ذکر ہے ۔جاوید احمد غامدی صاحب کی تفسیر البیان  میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیاہے:

 اور (پیغمبر کو ضرر پہنچانے کے لیے) اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کی بادشاہی کے نام پر شیاطین پڑھتے پڑھاتے ہیں ۔ (یہ اُسے سلیمان کی طرف منسوب کرتے ہیں) ، دراں حالیکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، بلکہ شیطانوں نے کفر کیا ۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور (اُس چیز کے پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت و ماروت پر اتاری گئی تھی، دراں حالیکہ وہ دونوں اُس وقت تک کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے، جب تک اُسے بتا نہ دیتے کہ ہم تو صرف آزمانے کے لیے ہیں، اِس لیے تم اِس کفر میں نہ پڑو۔ پھر بھی یہ اُن سے وہ علم سیکھتے تھے جس سے میاں اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ، اور (حقیقت یہ تھی کہ) اللہ کی اجازت کے بغیر یہ اُس سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکتے تھے۔ (یہ اِس بات سے واقف تھے) اور (اِس کے باوجود) وہ چیزیں سیکھتے تھے جو اِنھیں کوئی نفع نہیں دیتی تھیں، بلکہ نقصان پہنچاتی تھیں ، دراں حالیکہ یہ جانتے تھے کہ جو اِن چیزوں کا خریدار ہے ، اُس کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں اِنھوں نے اپنی جانیں بیچ دیں ۔ اے کاش، یہ جانتے۔

اس آیت کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں:

یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے اور اُن کی پیروی کرنے کے بجاے اُن کو ضرر پہنچانے کے درپے ہوئے اور اِس کے لیے اپنے اُن عاملوں کے پیچھے لگے جو اِن کے ہاں سفلی اور روحانی علوم کی دکانیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ قرآن مجید کی سورۂ فلق (۳ ۱۱) کے الفاظ ’مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اِنھی اشرار سے بچنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برابر اپنے پروردگار کی پناہ چاہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
اصل میں ’عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ اِن میں تضمین کا اسلوب ہے، یعنی ’مُفْتِرِیْنَ عَلٰیمُلْکِ سُلَیْمٰنَ‘ ۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آج کے لوگ سفلی علوم کے لیے سلیمان علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہیں، اِسی طرح یہود بھی اپنے اِس نوعیت کے مزخرفات کو اُنھی سے منسوب کرتے تھے۔ اِس کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ شیاطین جن سلیمان علیہ السلام کے تابع فرمان تھے۔ اِس طرح کے علوم چونکہ زیادہ تر جنات کے تصرفات سے پیدا ہوتے ہیں، اِس لیے تقدس کا رنگ دینے کے لیے لوگوں نے اِنھیں آں جناب سے منسوب کر دیا۔
اصل میں ’وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ‘ سے لے کر ’یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ‘ تک یہ پوری بات ایک جملۂ معترضہ ہے جو سلسلۂ کلام کے بیچ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہود کے لگائے ہوئے الزامات سے بری قرار دینے کے لیے اِس طرح آ گیا ہے گویا متکلم کو اِن علومِ سفلیہ کی نسبت اُن سے اتنی ناگوار ہے کہ اُس نے اِس کی تردید کے معاملے میں بات کے پورا ہو لینے کا انتظار بھی نہیں کیا ۔ پھر یہ تردید بھی ، اگر غور کیجیے تو ایسے اسلوب میں کی گئی ہے کہ سحر و ساحری کا کفر ہونا اُس سے ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر بالکل واضح ہو جاتا ہے ۔
اِس سے پہلے کا جملہ ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ، ایک جملۂ معترضہ ہے۔ لہٰذا آیت میں عطف لازماً ’مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ‘ پر ہے ۔ یہ سحر و ساحری سے، جسے قرآن نے یکسر کفر قرار دیا ہے، بالکل مختلف کوئی علم تھا۔یہ بات ’تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ‘ پر اِس کے عطف سے بھی واضح ہے، اِس علم کے لیے ’مَآ اُنْزِلَ‘ کے جو الفاظ آئے ہیں، اُن سے بھی معلوم ہوتی ہے ، اور اِس کے لیے لفظ ’فِتْنَۃٌ‘ کے استعمال سے بھی صاف مترشح ہے ۔ لہٰذا اُن لوگوں کی راے کسی طرح صحیح نہیں ہے جو اِسے جادو سمجھتے ہیں اور اِس کے لیے اُن دو فرشتوں کے بارے میں جن پر یہ نازل ہوا ، ایک فضول سا قصہ بھی سناتے ہیں ۔ لیکن یہ اگر جادو نہیں تھا تو سوال یہ ہے کہ پھر یہ کون سا علم تھا؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی اِس کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’ہمارے نزدیک اِس سے مراد اشیا اور کلمات کے روحانی خواص اور تاثیرات کا وہ علم ہے جس کا رواج یہود کے صوفیوں اور پیروں میں ہوا اور جس کو اُنھوں نے گنڈوں،تعویذوں اور مختلف قسم کے عملیات کی شکل میں مختلف اغراض کے لیے استعمال کیا، مثلاً بعض امراض یا تکالیف کے ازالے کے لیے یا نظر بد اور جادو وغیرہ کے برے اثرات دور کرنے کے لیے یا شعبدہ بازوں وغیرہ کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یا محبت اور نفرت کے اثرات ڈالنے کے لیے ۔
یہ علم اِس اعتبار سے جادو اور نجوم وغیرہ سے بالکل مختلف تھا کہ اِس میں نہ تو شرک کی کوئی ملاوٹ تھی اور نہ اِس میں شیطان اور جنات کو کوئی دخل تھا ،لیکن اپنے اثرات و نتائج کے پیدا کرنے میں یہ جادو ہی کی طرح زود اثر تھا۔ ممکن ہے بنی اسرائیل کو یہ علم بابل کے زمانۂ اسیری میں دو فرشتوں کے ذریعے سے اِس لیے دیا گیا ہو کہ اِس کے ذریعے سے بابل کی سحر و ساحری کا مقابلہ کرسکیں اور اپنی قوم کے کم علموں اور سادہ لوحوں کو جادوگروں کے رعب سے محفوظ رکھ سکیں۔ اِس بات کی طرف ہمارا ذہن دو وجہ سے جاتا ہے :ایک تو اِس وجہ سے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بابل میں سحر و ساحری اور نجوم کا بڑا زور تھا۔ دوسری یہ کہ یہ بات سنت اللہ کے موافق معلوم ہوتی ہے کہ اگر کسی جگہ ایک غلط علم کا رعب اور زور ہو جس سے مفسد لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوں تو وہاں اللہ تعالیٰ اُس کے مقابلے کے لیے اہل ایمان کو کوئی ایسا علم بھی عطا فرمائے جو جائز اور نافع ہو۔‘‘( تدبر قرآن ۱/ ۲۸۵)

اِس کے بعد اُنھوں نے لکھا ہے:

’’ہمارا خیال یہ ہے کہ اِسی علم کے باقیات ہیں جن کو ہمارے صوفیوں اور پیروں کے ایک طبقہ نے اپنایا اور اِس سے اُنھوں نے لوگوں کو فائدہ بھی پہنچایا ،بلکہ واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض حالات میں اِس کی مدد سے اُنھوں نے جوگیوں اور جوتشیوں وغیرہ کے مقابل میں اسلام اور مسلمانوں کی برتری بھی ثابت کی ،لیکن اخلاقی زوال کے بعد جس طرح یہود کے ہاں یہ علم علومِ سفلیہ کا ایک ضمیمہ اور دکان داری کا ایک ذریعہ بن کے رہ گیا، اِسی طرح ہمارے یہاں بھی یہ صرف پیری مریدی کی دکان چلانے کا ذریعہ بن کر رہ گیا اور حق سے زیادہ اِس میں باطل کے اجزا شامل ہو گئے جس کے سبب سے لوگوں پر اِس کے اثرات بھی وہی پڑے جو قرآن نے بیان فرمائے ۔‘‘( ۱/ ۲۸۶)

وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ‘ والے جملے کی طرح ’وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ‘ سے ’فَلَا تَکْفُرْ‘ تک یہ جملہ بھی آیت میں ایک جملۂ معترضہ ہے جو ہاروت و ماروت کی بریت کے لیے وارد ہوا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اِس تنبیہ کے بغیر کہ ہمارے اِس علم کو برے مقاصد کے لیے استعمال کر کے تم لوگ کفر میں نہ پڑ جانا ، وہ کسی پر اپنے علم کا انکشاف نہیں کرتے تھے۔
اِس سکھانے کی نوعیت اگرچہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ فرشتے انسانی روپ میں لوگوں کو تعلیم دیتے رہے ہوں ، لیکن غالب امکان اِسی بات کا ہے کہ لوگ کسی خاص قسم کی ریاضت اور چلہ کشی کے ذریعے سے اُن کے ساتھ کوئی روحانی قسم کا ربط پیدا کر کے یہ علم اُن سے سیکھ لیتے تھے۔
اصل میں لفظ ’فِتْنَۃٌ‘ استعمال ہوا ہے ۔ اِس کے معنی امتحان اور آزمایش کے ہیں ۔ قرآن میں اِس سے بالعموم وہ چیزیں مراد لی گئی ہیں جو اصلاً انسان کے فائدے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں، لیکن انسان اپنے استعمال کی غلطی سے اُنھیں اپنے لیے فتنہ بنا لیتا ہے ۔ہاروت و ماروت کی طرف سے اپنے علم کے لیے اِس لفظ کا استعمال دلیل ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ علم کوئی بری چیز نہ تھا۔
اصل میں ’فَلَا تَکْفُرْ‘ کے جو الفاظ آئے ہیں ، اُن میں نہی نتیجے کے لحاظ سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ علم ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ تم لوگ اِسے سیکھ کر برے مقاصد کے لیے استعمال کرو گے اور اِس طرح کفر و شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے۔
اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہود اخلاقی فساد ،پست ہمتی اور دنایت میں کہاں تک گر چکے تھے ۔فرشتوں کی تنبیہ کے باوجود ،قرآن بتاتا ہے کہ اُن کی سب سے زیادہ رغبت اُن اعمال سے تھی جو میاں بیوی کے رشتۂ محبت کے لیے مقراض بن جائیں ، دراں حالیکہ یہی رشتہ ہے جس کے استحکام پر پورے انسانی تمدن کے استحکام کی بنیاد ہے۔
یہ جملہ بھی بطورِ استدراک ہے اور اِس سے توحید پر ایمان کا یہ تقاضا واضح ہوتا ہے کہ بندۂ مومن کو اولاً، اِس طرح کی چیزوں سے رغبت ہی نہیں رکھنی چاہیے ۔ ثانیاً، اِن میں سے کسی چیز سے واسطہ پڑے تو اِسے موثر بالذات نہیں سمجھنا چاہیے ۔ ثالثاً ، اِن سے ضرر کا اندیشہ ہو تو صرف اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔تعویذ گنڈوں اور اُن کے ماہر عاملوں اور سیانوں کے چکر میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ اِس لیے کہ شیطانی علوم ہوں یا روحانی، اِن سے اللہ کے اذن کے بغیرکسی کو کوئی نفع یا ضرر نہیں پہنچایا جا سکتا۔
یعنی اِن کی ذہنیت اِس قدر پست ہو چکی تھی کہ ایک علم جس سے نفع و نقصان ،دونوں پہنچ سکتے تھے ،یہ اِسے دوسروں کو صرف نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
یہود اِس بات سے اچھی طرح واقف تھے ، اِس لیے کہ تورات میں اُنھیں نہایت واضح الفاظ میں اِس طرح کے فتنوں میں پڑنے سے روکا گیا تھا ۔ استثنا میں ہے:

’’جب تو اُس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے ،پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا۔ تجھ میں ہرگز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فال گیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گر یا جادوگر یا منتری یا جنات کا آشنا یا رمال یا ساحر ہو، کیونکہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں ، خدا وند کے نزدیک مکروہ ہیں اور اِن ہی مکروہات کے سبب سے خداوند تیرا خدا اُن کو تیرے سامنے سے نکالنے پر پے۔ 

بشکریہ محمد حسن الیاس
مصنف : محمد حسن الیاس
Uploaded on : Feb 16, 2019
1943 View