برصغیر میں اسلامی جدیدیت کے ماخذ-2 - گل رحمان ہمدرد

برصغیر میں اسلامی جدیدیت کے ماخذ-2

گذشتہ سے پیوستہ


(۲)
جس شخص کی اپنی ذہنیت قدامت پسندانہ ہو وہ تجدید و احیاے دین کے حوالے سے کوئی بڑی خدمت انجام دے ہی نہیں سکتا اور جو شخص تجدیدِ دین کے میدان میں کوئی کام کرنے کا اہل نہیں ہے اُسے تجدید کے گر سکھانا تضیع اوقات کے زمرے میں آتا ہے ۔چنانچہ اُنھوں نے قدامت پسندانہ ذہنیت رکھنے والوں کو ایک ایک کر کے اپنے حلقہ سے نکال باہر کیا اور صرف اُنھی نوجوانوں کو اپنے پاس رکھا جو اپنے آئینہ کو بچا بچا کر رکھنے والے نہ تھے۔جاوید احمد غامدی اُنھی نوجوانوں میں سے ایک تھے۔وہ ابوالکلام کی طرح نو عمری میں ہی نمایاں ہوگئے تھے اور اُنھوں نے اپنے سے عمرمیں بڑے لوگوں کو متاثر کیا۔ جب وہ جماعتِ اسلامی میں تھے تو جماعت کے بزرگ اراکین محفلوں کا انتظام کر کے اُن کو تقریر کے لیے بلا یا کرتے تھے۔ اُس وقت اُن کی عمر پچیس سال سے زیادہ نہ تھی۔ چھبیس سال کی عمر میں اُنھوں نے ابوالاعلیٰ مودودی کے سامنے ایک تحقیقی ادارہ قائم کرنے کی تجویز رکھی اور اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا۔ جماعتِ اسلامی کے دینی مستقبل سے مایوس ابوالاعلیٰ مودودی نے اُن کی تجویز کو سراہا اور مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ بینک میں ابوالاعلیٰ مودودی اور جاوید احمد غامدی کے نام سے مشترکہ اکاؤنٹ کھولا گیا اور پھر ہر مہینہ مودودی صاحب اپنی مقررہ رقم اس کارِ خیر کے لیے اُس اکاؤنٹ میں جمع کیا کرتے تھے۔ اُن کی وفات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ابوالاعلیٰ مودودی سے غامدی صاحب کی آخری ملاقات 1979ء میں اُس وقت ہوئی جب وہ بغرضِ علاج امریکہ تشریف لے جارہے تھے۔ اس کے بعد پھر اِن دونوں کی ملاقات نہ ہو سکی۔ ابوالاعلیٰ مودودی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا کو خیر آباد کہہ گئے اور غامدی صاحب اُس کام کے لیے تنہارہ گئے جو اُنھیں ابوالاعلیٰ کی سرپر ستی میں کرنا تھا۔

ماو مجنوں ہم سفر بودیم در دیوان عشق
او بہ صحرا رفت و مادر کوچہ ہار سوا شدیم

لیکن غامدی صاحب نے حوصلہ نہیں ہارا اور اپنے مشن میں پیہم مگن رہے ۔اس دوران خود ابوالاعلیٰ کے پیروکاروں کی جانب سے بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
1987ء میں قاضی حسین احمد نے جماعتِ اسلامی کی قیادت سنبھالی۔ قاضی صاحب ایک وسیع القلب اور وسیع النظر انسان ہیں۔ اُن کے دورِ امارت میں یہ ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ بحال ہوا۔ اور اب جوں جوں وقت گزرتا چلا جارہا ہے جماعتِ اسلامی اور حلقۂ امین احسن ایک دوسرے کے قریب آتے چلے جارہے ہیں۔ اس مصالحت میں ایک اہم رول وہ صحافی ادا کر رہے ہیں جو جماعتِ اسلامی کے عقیدت مند اور تحریکِ تدبر القرآن کے خوشہ چین ہیں۔ اس ضمن میں ارشاد احمد حقانی، عبدالقادر حسن، مجیب الرحمان شامی (چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان)، مہتاب خان (چیف ایڈیٹر روزنامہ اوصاف)، سہیل قلندر (چیف ایڈیٹر روزنامہ ایکسپریس)، ہارون الرشید، عرفان صدیقی، حسین احمد پراچہ ،حامد میر، شاہد مسعود، آفتاب اقبال، جاوید چودھری ،سلیم صافی اور طلعت حسین کی شعوری و لاشعوری کاوششیں خاص طور پر قابلِ تعریف ہیں ۔دوسری جانب اہلِ بصیرت سے یہ بات مخفی نہیں کہ جماعتِ اسلامی مستقبل میں جن ہاتھوں میں منتقل ہو رہی ہے وہ جناب جاوید احمد غامدی کے تربیت یافتہ ہوں گے۔ حقیقی جمہوریت پر یقین رکھنے والے، اعلیٰ تحقیقات کے پرستار، تجدید و احیاے دین کے حامی، سیاسیات کے اسرارو رموز سے واقف، اور روشن خیال و روشن ضمیر لوگ جب جماعت کو سنبھالیں گے تو قضا و قدر کی مخفی قوتیں اُن کے ہمرکاب ہوں گی۔جماعتِ اسلامی کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ فردِ واحد کی ’’تقلید‘‘ ہے۔ تقلید کے بجاے اگر تحقیق کے سامنے سر تسلیمِ خم کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
جاوید احمد غامدی کی کامیابیاں صرف جماعتِ اسلامی ، مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی ’’فتح‘‘ تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ تمام شعبۂ ہاے زندگی میں یہی انقلابی عمل کارفرما ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کو ابوالاعلیٰ مودودی تطہیرِ افکار کہا کرتے تھے اور یہ حکومتِ الہیہ کے قیام کے ابتدائی لوازم میں سے ہے۔
وہ لوگ جنھوں نے جمال الدین افغانی کی فکر کو ’’فتنۂ انکارِ امامت‘‘، اقبال کے نظریات کو ’’فتنۂ انکارِ طریقت‘‘، ابوالکلام کی سوچ کو ’’فتنہ انکارِ ولایت‘‘ابوالاعلیٰ کے نظریات کو ’’فتنۂ انکارِ خلافت‘‘ اور امین احسن کی فکر کو ’’فتنۂ انکارِ سنت‘‘ قرار دیا تھا۔ اُنھوں نے وہ ’’معرکہ کہن‘‘ آج پھر تازہ کر رکھا ہے اور غامدی صاحب کی فکر کو ’’فتنۂ انکارِ شریعت‘‘ قرار دے کر اس نئے ’’فتنہ‘‘ کی سرکوبی کے لیے ’’خدمات‘‘ انجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ہر مرتبہ اِن لوگوں کو شکست اور ’’فتنہ گروں‘‘ کو فتح حاصل ہوئی ہے اور اہلِ بصیرت دیکھ رہے ہیں کہ اس مرتبہ بھی انجام ماضی سے مختلف نہیں۔تاریخ اپنے آپ کو دہرانے لگی ہے۔ وہ لوگ جو کل تک ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر کو ’’فتنۂ مودودیت‘‘ قرار دے رہے تھے۔ آج اُنھی کے فکر و منہاج پر عمل پیرا ہیں۔ اسی طرح آج جو لوگ جاوید احمد غامدی کی فکر کو ’’فتنۂ غامدیت‘‘ قرار دے رہے ہیں ۔ وہ وقت دور نہیں ہے کہ یہی لوگ غامدی صاحب کے فکر و فلسفہ پر عمل پیرا ہوجائیں گے۔
بھارت میں امین احسن اصلاحی کی تحریک کی قیادت ادراہ علوم القرآن علی گڑھ کے روح و رواں ڈاکٹر عبید اﷲ فراہی کے ہاتھ میں ہے اور جاوید احمد غامدی کے متوقع جانشین بھی وہی ہیں۔ احمد جاوید اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کی طرح ڈاکٹر عبید اﷲ فراہی کو بھی کئی چیلنج درپیش ہیں، پہلا چیلنج یہ ہے کہ ا نھیں اپنے مکتب فکر کی عظیم تحقیقی روایت کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ جس رفعت پر دوسروں کی سانس ٹوٹنے لگتی ہے، غامدی صاحب وہاں سے اپنی پرواز کا آغاز کرتے ہیں ۔اب غامدی صاحب کی پرواز جہاں ختم ہوتی ہے، ڈاکٹر عبیداﷲ فراہی کو وہاں سے اپنی پرواز کا آغاز کرنا ہے اور یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ تیسرا بڑا چیلنج اُن کے سامنے یہ ہے کہ وہ بھارت کے باسی ہیں جہاں قدامت پسندی کی جڑیں پاکستان کی نسبت زیادہ گہری اور مضبوط ہیں۔ لہٰذا اُ نھیں زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حال ہی میں شائع ہونے والی اُن کی کتاب ’’تصّوف۔ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پر یارانِ طریقت نے جس قدر ہنگامہ آرائی کی، وہ کس سے پوشیدہ ہے لیکن یہ تو ابھی ابتداے عشق ہے۔ مستقبل میں جوں جوں اُن کی تخلیقات اور تصانیف و تالیفات کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اُن کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں میں بھی ذرا اور تیزی آجائے گی تو مخالفت میں بھی اُسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہے گا۔ ہم ڈاکٹر عبید اﷲ فراہی سے یہی عرض کریں گے کہ وہ اس معاملہ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقلید کریں۔جس طرح وہ زمانے کی مخالفت کی پروا کیے بغیر اپنے کام میں مگن رہتے ہیں، اسی طرح عبیداﷲ صاحب کو بھی ادھر اُدھر سے نظر بچا کر صرف اپنے کام پر توجہ دینی چاہئے۔

شاہیں تری پرواز سے جلتا ہے زمانہ
تو اور اسی آگ کو بازو سے ہوا دے

ان سلسلوں کی درجہ بندی ہم یوں کر سکتے ہیں۔
مذہبی و خانقاہی قدامت پسند سائنسی و لادین جدت پسن
اعتدال پسند
سید جمال الدین افغانی
سوڈان ترکی عراق ایران افغانستان حجاز مصر لیبیا ہندوستان
شبلی نعمانی
سید سلیمان ندوی
عبدالماجد دریا آبادی
ابوالکلام آزاد
حمید الدین فراہی
ابوالحسن علی ندوی
شیخ احمد حسین دیدات
ابو الاعلیٰ مودودی
امین احسن اصلاحی
ڈاکٹر حمید اﷲ
وحید الدین خان
ڈاکٹر اسرار احمد
جاوید احمد غامدی
ڈاکٹر محمود احمد غازی
ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک
احمد جاوید
ڈاکٹر عبید اﷲ فراہی
مستقبل میں بھی دبستانِ شبلی کے یہی چار سلسلے اسی شان کے ساتھ جاری رہیں گے۔ اگر کسی شخص کے اپنے حلقہ میں اُس کا جانشین پیدا نہ ہوا تو دور کے کسی حلقہ یا یونیورسٹی سے اس کا جانشین سامنے آئے گا۔بلکہ یونیورسٹیوں میں مذہبی علوم کے اعلیٰ انتظامات اور تحقیق کی جدید سہولتوں کے باعث اب کسی شخص کے جانشینوں کی تعداد ایک سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ یاد ر کھیے کہ آیندہ ’’ڈگمگاتے قدم‘‘ لینے والوں کے لیے اس فہرست میں کوئی جگہ نہ ہوگی۔ بلاوجہ قرآن اور اسلام کے نام پرتحریکیں شروع کرنے والے جاہل پمفلٹ فروش اور جگہ جگہ جاکر تقریر کرنے والے حضرات بھی اس میں جگہ نہیں پاسکیں گے۔ اسی طرح کتابوں کی الماری کے سامنے تصویر کھینچوا کر اخبارات میں اپنے مضمون کے ساتھ شائع کروانے والے اور اپنے چہروں پر سنجیدگی کی مصنوعی کلغی سجا کر ٹی وی سکرین پر آنے کے شوقین حضرات بھی اس فہرست میں جگہ نہیں پا سکیں گے۔اب صرف اعلیٰ درجہ کے تنہا پسند محققین ہی اس فہرست میں جگہ پا سکیں گے۔

شہپرِ زاغ و زغن در بندِ قید و صید نیست
ایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند

دبستانِ شبلی کے متوازی ایک اور دبستان بھی ہے اور وہ بھی اُتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کہ دبستانِ شبلی ہے۔ اور یہ اُن فلسفی مفکرین کا گروہ ہے جنھوں نے فلسفہ پڑھا، فلسفہ میں ایم۔فل کیا، فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر اپنے قلم کو اسلام کے حق میں استعمال کیا۔ برصغیر میں ڈاکٹر شیخ محمد اقبال اس گروہ کے بانی ہیں۔ اُن کے علاوہ ڈاکٹر سید ظفر الحسن،ڈاکٹر افضال حسین قادری، ڈاکٹرمحمد محمود احمد، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، ڈاکٹر میرولی الدین، ڈاکٹر میاں محمد شریف، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، ڈاکٹر عشرت حسن انور، ڈاکٹر عبدالحمید کمالی، ڈاکٹر سعید علی شیخ، ڈاکٹر قاضی عبدالقادر، ڈاکٹر فضل الرحمن، ڈاکٹر جاوید اقبال ، ڈاکٹر اسرار عالم، ڈاکٹر عبدالخالق ،ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر وحید عشرت،ڈاکٹر مصلح الدین، ڈاکٹر سید اظہر علی رضوی، ڈاکٹر شجاع الحق، ڈاکٹر ابصار احمد، ڈاکٹر احمد رفیق اختر اور ڈاکٹر خضر یاسین، یہ سب اسی جماعت کے اکابرہیں۔یہ لوگ مولانا جلال الدین رومی سے متاثر تھے اس لیے میں اس دبستان کو ’’دبستانِ رومی‘‘کہتا ہوں۔ اس گروہ کے اکابرین مغربی فلسفہ اور عجمی تصّوف کے دلدادہ تو تھے ہی لیکن اُن میں سے بعض جزوی طورپر فتنۂ اشتراک کی زد میں بھی آئے اور بعض کسی حد تک لادینیت سے متاثر ہوگئے۔ بعض نے بلا تکلف قدامت پسندی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ بعض عمر بھر تحریکِ علی گڑھ کے زیرِ اثر رہے۔ بعض نے اقبال کے متن کی تشریح کو ہی مشغلۂ حیات بنالیا۔بعض سفر شروع کرنے سے پہلے ہی حوصلہ ہار گئے۔کچھ تھوڑے آگے جا کر رُک گئے۔ کچھ جتنے آگے گئے اُس سے کہیں زیادہ پیچھے چلے گئے۔ صرف چند ہی لوگ ہیں جو عمر بھر رومی کے اس مسلک پر عمل پیرا رہے کہ چند خوانی حکمتِ یونانیاں۔۔۔ حکمت قرآنیہ راہم بخواں، اور اُن میں سے سرفہرست خود علامہ اقبال کی ذات ہے۔
پھر اقبال کی ذات سے ماہرین اقبالیات کا ایک علیحدہ سلسلہ وابستہ ہے۔ جن لوگوں نے فکر اقبال کو اپنے فرقہ وارانہ نظریات کی تائید و حمایت ، اشتراکی سوچ اورلادین جدّت پسندی کے حق میں استعمال کیا اور کلامِ اقبال کی من مانی تاویلیں پیش کیں، اُنھیں ماہرین اقبالیات نہیں کہا جاسکتا۔ وہ فکرِ اقبال میں تحریف کے مرتکب ہونے کے باعث ’’محرفین اقبالیات‘‘ ہیں۔ اگرچہ فلسفی مفکرین نے اقبال پر قابلِ قدر کام کیا ہے، لیکن اُن کو بھی ہم معروف معنوں میں ماہر اقبالیات نہیں کہہ سکتے، کیونکہ وہ ماہر اقبالیات ہونے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ تھے۔ حقیقی ماہرین اقبالیات کے تین سلسلے ہیں۔ ماہرین اقبالیات کی پہلی نسل ابوالکلام آزاد کی فکر کے زیرِ اثر پروان چڑھی تھی۔ اس لیے اس سلسلے کو’’ دبستانِ آزاد‘‘کہہ سکتے ہیں۔ سید نذیر نیازی، مولانا غلام رسول مہر، ڈاکٹر سید عبداﷲ، ڈاکٹر غلام مصطفی خان، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، فقیر وحید الدین، صوفی غلام مصطفی تبسم، مولانا عبدالمجید سالک، میاں محمد شفیع، ڈاکٹر عبدالمغنی ،محمد احمد خاں،محمد منور مرزا، اعجاز الحق قدوسی، شورش کاشمیری ،ان سب کی جوانی الہلال اور البلاغ کی ورق گردانی میں گزری تھی اور ان میں سے غلام رسول مہراور صوفی غلام مصطفی تبسم تو ابوالکلام کی حزب اﷲ میں بھی شامل تھے۔اِس سلسلہ کے لوگ ابوالکلام کی طرح ادب و تاریخ میں دلچسپی رکھتے تھے اور اُ نھوں نے اقبال پر ادبی و تاریخی نوعیت کا کام کیا ہے۔
ماہرینِ اقبالیات کی دوسری نسل وہ تھی جس کی تربیت ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریک کے زیرِ اثر ہوئی تھی۔ 1960ء سے قبل ابوالاعلیٰ مودودی سے جو نوجوان متاثر ہوئے ،اُن میں سے بعض 1970ء کی دہائی میں ماہرین اقبالیات کے روپ میں سامنے آئے۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر ابوسعیدابو الخیر، ڈاکٹر عبدالحق، ڈاکٹر ابوالخیر کشفی،ڈاکٹر شکیل الرحمان، ڈاکٹر وحید اختر، ڈاکٹر سید عابد حسین، ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر یوسف حسین خاں، ڈاکٹر عبدالجبار شاکر، غرض کس کس کا نام لوں،1990ء تک اقبالیات کے میدان میں جو نام نمایاں ہوئے ہیں، اُن میں اکثریت کا تعلق اسی ’’دبستانِ مودودی‘‘ سے تھا۔ ان لوگوں کی تحریروں میں وہی رنگ نمایاں ہے جو ابوالاعلیٰ مودودی کے ہاں پایا جاتا ہے۔ وہی مسئلہ قومیت، وہی مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ، وہی اسلامی تہذیب اور اس کے اُصول ومبادی، وہی تجدید و احیاے دین کا تذکرہ، وہی اسلامی ریاست کے خدوخال اور وہی تفہیم القران کا ترجمہ، ہر کتاب میں پایا جاتا ہے۔
ماہرین اقبالیات کا تیسرا سلسلہ بالواسطہ یا بلاواسطہ امین احسن اصلاحی سے وابستہ ہے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر مستنصر میر،ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر ظفر حسن ملک، پروفیسر محمد عثمان، ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، ڈاکٹر وحید الرحمان، اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود، اقبال اکیڈمی کے موجودہ ڈائریکٹر محمد سہیل عمراور بزم اقبال کے صدمضطر مرزا اسی دبستان اصلاحی کے نمایاں نام ہیں۔اس دبستان کے لوگ روشن خیالی اور جدیدیت کے پرزور حامی ہیں اور ساتھ ہی اقبال کے افکار کا محاکمہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
ماہرین اقبالیات میں دبستان آزاد، دبستان مودودی اور دبستانِ اصلاحی، تین نسلوں کے نام نہیں، بلکہ تین سلسلوں کے نام بھی ہیں۔ مستقبل میں یونیورسٹیوں میں اقبالیات کے میدان میں جو بھی کام ہوگا ،وہ لامحالہ اُ نھی خطوط پر ہوگا جو مندرجہ بالا تین سلسلوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔اُن کی درجہ بندی ہم یوں کر سکتے ہیں۔
ماہرینِ اقبالیات (دبستانِ اقبال)
دبستانِ آزاد
دبستانِ مودودی
دبستانِ اصلاحی
ادبی و تاریخی نوعیت کی تحقیقات
سیاسی و عمرانی نوعیت کی تحقیقات
تنقیدی اور تجدیدی نوعیت کی تحقیقات
اقبال نے اپنے آپ کو صرف قیل و قال تک محدود نہیں رکھا تھا ،بلکہ اُن کی پوری زندگی عملی میدان میں گزری تھی۔سیاسی میدان میں مسلم لیگ کے ایک ادنی کارکن کی حیثیت سے کام کیا۔ اُنھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں (جو اُس زمانے میں وڈیروں اور نوابوں کے قبضہ میں تھی اور انگریز آقاؤں کی خوشامد کا فریضہ انجام دے رہی تھی) اسلام کا انجکشن لگایا۔ خطبہ الہٰ آباد میں ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمایندگی کی۔ نیز حکومت الہیہ کے قیام کے لیے ’’جمعیت شبان المسلمین‘‘ کے نام سے ایک جماعت قائم کرنے کی سر توڑ کوشش کی۔ 1930ء کی دہائی کے اوائل سے ہی وہ اس جماعت کے قیام کی جدوجہد کر رہے تھے۔ ڈاکٹر سیّد ظفر الحسن، خواجہ عبدالوحید، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، صوفی غلام مصطفی تبسم اور مولانا غلام رسول مہر، اس پروگرام میں اقبال کے رفیقِ کار تھے۔ (واضح رہے کہ صوفی غلام مصطفی تبسم اور مولانا غلام رسول مہر ابوالکلام کی تحریک میں بھی رہ چکے تھے)۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے اپنی کتاب ’’اقبال اور مسلمانوں کا سیاسی نصب العین‘‘ میں تحریک شبانِ المسلمین کی روداد مفصل بیان کی ہے۔
پانچ چھ برسوں کی جدوجہد کے بعد جب وہ شبانِ المسلمین کے قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو اُنھوں نے ہندوستان کے دوسرے سرکردہ علما کو پنجاب منتقل ہونے کی دعوت دی تا کہ وہ یہ کام کر سکیں۔ اسی سلسلہ میں اُنھوں نے ابوالاعلیٰ مودودی کو دکن سے پنجاب منتقل ہونے کی دعوت دی جو اُنھوں نے کچھ پس و پیش کے بعد قبول کر لی۔ وہ پنجاب منتقل ہوئے اور جماعتِ اسلامی کے نام سے حکومتِ الہیہ کے قیام کی جدو جہد کرنے والی وہ صالح جماعت قائم کر لی جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔اقبال اسلامی علوم کی تشکیلِ جدید کے زبردست حامی تھے۔ اس سلسلہ میں اُنھوں نے غلام احمد پرویز کو ایک ادارہ قائم کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ پرویز صاحب نے اقبال ہی کی ایک نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ کے نام سے ’’ادارہ طلوعِ اسلام‘‘ قائم کر کے اقبال کے خواب کو عملی جامہ پہنایا ۔
المختصر یہ کہ دبستانِ رومی میں علامہ اقبال (اور اُن سے وابستہ ماہرینِ اقبالیات) نے سب سے زیادہ ہمارے اس عہد کو متاثر کیا حتیٰ کہ دبستانِ شبلی کے جملہ اکابر پیر رومی کے اسی مریدِ ہندی سے متاثر ہوئے۔ اقبال کے علاوہ دبستانِ رومی کے دوسرے اکابرین نے بھی مجموعی طور پر قابلِ قدر کام کیا ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹر سید ظفر الحسن،ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، ڈاکٹر میر ولی الدین، ڈاکٹر میاں محمد شریف، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، ڈاکٹر اسرار عالم، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر احمد رفیق اختر اور ڈاکٹر وحید عشرت نے مسلم معاشرہ پر انتہائی دورس اثرات مرتب کے کیے۔ ان میں سے اکثریت تو درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے گوشۂ عافیت میں پناہ گزیں ر ہی، لیکن اُن میں سے بعض اقبال کی طرح عملی میدان کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔
چنانچہ ڈاکٹر سید ظفر الحسن جو ذہنی طور پر فکرِ سرسید کے خوشہ چین تھے، انھوں نے آزادی ہند اور غلبہ اسلام کے لیے جماعت المجاہدین کے نام سے ایک جماعت قائم کی جس کا مقصد جہاد و قتال کے ذریعہ سے اولاً ہندوستان اور ثانیاً پورے عالمِ اسلام میں مسلمانوں کے گم شدہ ماضی کو بازیافت کرنا تھا۔ ڈاکٹر افضال حسین قادری، ڈاکٹر محمد محمود احمد اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اس تحریک میں اُن کے اعوان و انصار تھے۔ علاوہ ازیں اُنھیں علامہ اقبال کی تائید و حمایت بھی حاصل تھی۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے اس جماعت کے اغراض و مقاصد، اس کی مختصر تاریخ اور اس سے اقبال کی غیر معمولی دلچسپی کی روداد اپنی کتاب ’’اقبال اور مسلمانوں کا سیاسی نصب العین‘‘ میں رقم کی ہے۔
ڈاکٹر سید ظفر الحسن نے اصلاح نفس، تنظیم، اتحاد اور جہاد و قتال کے ذریعے غلبہ اسلام کے لیے جس منفرد تحریک کا نقشہ 1920ء کے عشرے میں پیش کیا تھا۔ اس کی ایک تعبیر جماعت المجاہدین کی صورت میں سامنے آئی جو ان گنت وجوہات کی بنا پر زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی۔ لیکن اس خواب کی دوسری تعبیر عنایت اﷲ خان المشرقی کی خاکسار تحریک کی صورت میں سامنے آئی جس نے اسلامیان ہند کے اذہان و قلوب میں زبردست ارتعاش پیدا کیا اور برصغیر کی سیاسی کشمکش میں ایک مؤثر کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر سید ظفر الحسن کو تحریک پاکستان سے خصوصی دلچسپی تھی۔ قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد مسلم لیگ کی راہنمائی کے لیے جو تھنک ٹینک تشکیل دیا گیا تھا، اُس کی سر براہی کا اعزاز بھی اُنھی کے حصہ میں آیا۔ دیگر مفکرین میں داکٹر افضال حسین قادری، ڈاکٹر محمد محمود احمد اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے نام نمایاں ہیں۔ یہ تینوں حضرات ’’جماعت المجاہدین‘‘ کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہ چکے تھے۔
اقبال اور سید ظفر الحسن کے بعد عملی میدان کی طرف متوجہ ہونے والے تیسرے فلسفی ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم تھے۔ اُنھوں نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد لاہور میں ’’ادارہ ثقافتِ اسلامیہ‘‘ قائم کیا تاکہ نو آموز اسلامی ریاست کو تہذیبی و ثقافتی سطح پر جو چیلنج درپیش ہیں اُن کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ جدید زمانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ایک طرف مغرب کے گمراہ کن تہذیبی تصورات کا ردّ کیا جائے اور دوسری طرف اسلام کے علمی سرمایہ پر تنقیدی نظر ڈالی جائے اور زمانۂ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی علوم کی تشکیل جدید کی جائے۔ پرویز صاحب کے جدت پسندوں کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے اُن کا ادارہ اسلامی علوم کی تشکیل جدید کے حوالے سے کوئی مفید خدمت انجام دینے میں ناکام رہا، لیکن ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کے قائم کردہ ادارے نے اس ضمن میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ جوہری طور پر ادارہ ثقافتِ اسلامیہ اور جاوید احمد غامدی کے قائم کردہ ادارے’’ المورد ‘‘ کے مقاصد میں کوئی فرق نہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ مقدم الذکر ادارہ کے بانی کا تعلق دبستانِ رومی سے ہے اور مؤخرالذکر ادارہ کے بانی کا تعلق دبستانِ شبلی سے ہے۔ یا پھر سن کا فرق ہے کہ پہلا ادارہ 1948ء میں قائم ہوا تھا اور دوسرا اس کے تقریباً چالیس سال بعد قائم ہوا۔
عملی میدان میں اُترنے والے چوتھے فلسفی ڈاکٹر محمد رفیع الدین تھے۔اُنھوں نے اولاً پاکستان اسلامک ایجوکیشن کانگریس کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد سائنسی و عمرانی علوم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا تھا۔ ثانیاً اُنھوں نے 1960ء کی دہائی میں ایک جدید اسلامی یونیورسٹی کا تصور پیش کیا۔ اُن کا خیال تھا کہ روایتی دینی مدارس اس قابل نہیں رہے کہ دین کے میدان میں کوئی قابلِ قدر خدمات انجام دے سکیں۔ اِن مدارس سے فارغ التحصیل عام طور پر خانقاہی ذہنیت رکھنے والے مُلّا قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو جدید ذہنوں کو مطمئن نہیں کر سکتے ۔ لہذا ایک ایسی عظیم الشان اسلامی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جو جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق روشن خیال علما مہیا کر سکے۔ بعد ازاں ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے بھی ایسی ہی ایک یونیورسٹی کا تصور پیش کیا تھا۔ اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر محمد رفیع الدین اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے اِسی خواب کی تعبیر ہے۔ ثالثاً ڈاکٹر محمد رفیع الدین کا خیال تھا کہ قران کی حکیمانہ تعبیر کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے اُنھوں نے 1960ء کی دہائی میں ’’حکمتِ قرآن‘‘ کے نام سے ایک جریدے کا اجرا کیا۔
ڈاکٹر اسرار احمد آپ سے بے حد متاثر تھے۔ اُنھوں نے اپنے فکری ماخذ کے طور پر جن آٹھ اشخاص کے نام بتائے ہیں، اُن میں ڈاکٹرمحمد اقبال اور ڈاکٹر محمد رفیع الدین کے نام نمایاں ہیں۔ 1967ء میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے جب اپنی ’’تحریک رجوع الی القرآن‘‘ کا آغاز فرمایا تو ڈاکٹر محمد رفیع الدین کے اسی جریدے ’’حکمتِ قرآن‘‘ کو اس کا ترجمان بنالیا۔ اُس وقت سے آج تک یہ جریدہ تحریکِ رجوع الی القرآن کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔
پانچویں فلسفی جو عملی میدان میں اُترے ،وہ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی تھے۔ چنانچہ جیسا کہ عرض کیا گیا وہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں اقبال کی تحریک شبانِ المسلمین کے ایک سر گرم کارکن رہے۔ جماعت المجاہدین کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر رہے۔ تحریکِ پاکستان سے عملی دلچسپی رہی ۔ 1944ء میں قائد اعظم کے حکم پر تعلیمی کمیٹی کے لیے ایک سال کام کیا۔ اسی دوران اُنھوں نے ادب کی ترقی پسند تحریک کے مقابلہ میں اسلام پسند تحریک کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی۔ اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بعد میں کچھ لوگوں نے (جن میں سرِ فہرست نعیم صدیقی تھے) سرتوڑ کوشش کی اور بڑی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ مزید برآں، ڈاکٹر محمد رفیع الدین کی طرح ڈاکٹر برہان احمد فاروقی بھی روایتی دینی مدارس سے مایوس تھے اور ایک جدید اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے زبردست حامی تھے۔ اس خواب کی عملی تعبیر، جیسا کہ اس سے پہلے بھی عرض کیا گیا ، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کی صورت میں سامنے آئی ۔ نیز جماعتِ اسلامی کا منصورہ کالج، ڈاکٹر اِسرار احمد کا قائم کردہ قرآن کالج اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی قائم کردہ’’ منہاج القران ‘‘یونیورسٹی بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔
ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے اپنی مشہور کتابوں ’’منہاج القرآن‘‘،’’ قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل‘‘ اور ’’اقبال اور مسلمانوں کا سیاسی نصب العین‘‘ میں ایک اسلامی‘ روحانی و عملی اور اصلاحی تحریک کا جو نقشہ پیش کیا تھا، اُس کو اُن کے شاگرد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کچھ کمی بیشی کے بعد عملی جامہ پہنایا۔
ڈاکٹر وحید عشرت چھٹے فلسفی ہیں جنھوں نے عملی میدان کی آتش نمرود میں قدم رکھا ۔ اُن کا خیا ل ہے کہ مغرب کے فلسفیانہ نظریات اسلام کو جو چیلنج دیتے ہیں اُن کا مسکت جواب دیے بغیر نہ اسلام کی عالمگیر اشاعت کے لیے راستہ ہموار ہوگا اور نہ اُمتِ مسلمہ قیادتِ اقوام کے منصب پر فائز ہو سکے گی۔لہذا موجودہ زمانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مغرب کے غلط فلسفیانہ نظریات نے علمی میدان میں جو گمراہیاں پیدا کر رکھی ہیں، اُن کا ردّ کیا جائے اور ا ن کے مقابلہ میں اسلام کے روحانی و اخلاقی، سیاسی و عمرانی، معاشی و معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی تصورات کی حقانیت واضح کی جائے۔ نیز عوام و خواص کو موجودہ زمانے کے گمراہ کن نظریات اور اُن کے مضمرات سے باخبر رکھنے کے لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ چند نوجوان (بالخصوص وہ نوجوان جنھوں نے فلسفہ پڑھا ہو) کی اس نہج پر تربیت کی جائے کہ وہ ’’لیُحِقَّ الْحَقّ و یُبطِلَ الباطِلَ‘‘ کا فریضہ انجام دے سکیں۔
اس مقصد کے لیے اُنھوں نے ’’پاکستان اسلامک فلسفہ فورم‘‘ تشکیل دیا۔ اس فورم میں فلسفہ کے طالب علموں کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بھی ایک کثیر تعداد شامل ہے۔ ڈاکٹر وحید عشرت صاحب اور اُن کے سینےئر رفقاء ان نوجوانوں کی تربیت کرتے ہیں۔ اُن کی اس محنت کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں اور نوجوان فلسفیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد ایسی تیار ہوگئی ہے جو مستقبل میں اپنی زبان و قلم اور تحریر ا و ر تقریر سے اسلام کا دفاع کریں گے اور اُس شاندار روایت کو آگے بڑھا ئیں گے جو ’’دبستانِ رومی‘‘ کا طرۂ امتیاز ہے۔
فلسفی مفکرین میں سے بعض نے نئے تصورات بھی پیش کیے ۔ اس ضمن میں اقبال کاتصور خودی، خلیفہ عبدالحکیم کا نظریہ اتصال ، محمد رفیع الدین کا فلسفہ نصب العین ، برہان احمد فاروقی کا فلسفہ منہاجات اور ڈاکٹراحمد رفیق اختر کا فلسفۂ ترجیحات علمی حلقوں سے دادتحسین وصول کر چکے ہیں۔
مذہبی قدامت پسند اور لا دین جدت پسند اب کشاں کشاں اپنے انجام کی طرف گامزن ہیں۔ اُن کی فکر اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ مقدم الذکر طبقہ مذہبی آمریت اور مسلمانوں پر خود کش حملوں کے ذریعہ، جبکہ موخرا لذکر گروہ سیا سی آمریت اور عوام الناس پر بمباری کرنے کے ذریعے سے اپنی بقا کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اُن کی فکر میں اتنی بے اعتدالی ہے کہ وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اسلامی تاریخ کی یہ دونوں غلطیاں اب تاریخ کے کوڑادان کی نذر ہونے والی ہیں۔ مستقبل صرف اور صرف اعتدال پسندوں کے لیے مقدر ہے۔ اس حوالے سے جب میں مذکورہ اکابر ین کی عظمت کا تصور قائم کرتا ہوں تو میری پروازِ تخیّل جواب دے جاتی ہے۔ دوسروں کو بھی میں یہ داستان سنانا چاہتا ہوں ،لیکن اس کے سننے والے کم ہی ملتے ہیں۔ اکثر میں اپنے آپ سے ہمکلام ہو کر جی کا بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں۔

دریں مے خانہ اے ساقی ندارم محرمے دیگر
کہ من شاید نخستیں آدمم از عالمے دیگر

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت فروری 2009
مصنف : گل رحمان ہمدرد
Uploaded on : Sep 05, 2016
2435 View