کیا مغرب مسلمانوں کے لیے دارالحرب ہے؟ ڈاکٹر خالد ظہیر

کیا مغرب مسلمانوں کے لیے دارالحرب ہے؟

 

[یہ ڈاکٹر خالد ظہیر کے انگریزی مضمون ’’Is the west Dar-ul-Harb for Muslims?‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ مضمون ۱۳؍ اپریل
۲۰۱۱ء کو انگریزی روز نامہ ’’Dawn‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ جناب رانا معظم صفدر صاحب نے اسے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔]

 

بعض مسلمانوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ مسلم اقلیت والے ممالک، خاص طور پر جہاں کے حکمران غیر مسلم ہوں، ان ممالک کی حیثیت مسلمانوں کے لیے دارالحرب کی ہے دارالحرب سے مراد ایسا ملک ہوتا ہے جو مسلمانوں سے جنگ کر رہا ہو لہٰذا مسلمانوں کو ان کے ساتھ خود کو حالت جنگ میں سمجھنا چاہیے۔
مسلمانوں میں یہ تصور فقہ سے آیا ہے ۔فقہ سے مراد اسلام کی وہ قانونی شرح و وضاحت ہے جو دور اول کے فقہاے کرام نے اس زمانے میں کی تھی۔ اس کے مطابق جو تصور وجود پذیر ہوا، اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اسلام کو بالآخر روے زمین پر، یعنی تمام مذاہب اور تمام ممالک پر غالب آنا ہے۔ یہ تصور دو وجوہ سے قائم ہوا ہے : پہلی وجہ قرآن مجید کی بعض آیات ہیں جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسلام کو تمام مذاہب و ممالک پر غالب آنا ہے اور دوسری وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلے دور کے مسلمانوں کا طرز عمل ہے ۔ وہ اسلام کا پیغام تین شرائط کے ساتھ غیر مسلم علاقوں میں دیتے تھے:
۱۔ اسلام قبول کرو یا
۲۔ ہماری حکومت کے تحت آ کر جزیہ دو یا
۳۔ جنگ کرو۔
اب صورت حال یہ ہے کہ اس تصور کو صحیح سمجھنے والے لوگوں کا یہ یقین ہے کہ ان کے ایمان کا ان سے یہ تقاضا ہے کہ اگر وہ مطلوبہ طاقت پا لیتے ہیں تو وہ غیر مسلم علاقوں پر حملے کریں ۔ ان کے مطابق یہ دنیا جس میں ہم اس وقت رہ رہے ہیں، اسی صورت میں پر امن ہوسکتی ہے ، جب اس تصور کا زیادہ سے زیادہ پرچار کیا جائے اور اس کے ہم خیال لوگ اکٹھے کیے جائیں اورپھر ان کے ذریعے سے ایک ایسی عظیم مسلم خلافت قائم کی جائے کہ پوری دنیا اس کے زیرنگیں آ جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہو جاتا عالمی امن قائم نہیں ہو سکتا اور یہ دنیا مسلموں اور غیر مسلموں کی لڑائی کی وجہ سے حالت جنگ میں رہے گی۔ اس تصور کوثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کی درج ذیل آیت بیان کی جاتی ہے:

ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ.(الصف ۶۱: ۹)
’’ وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘

اس آیت کو اگر قرآن کے مکمل پیغام کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک حقیقت کو بیان کر رہی ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ویسا ہی پیغام دیا جو آپ سے پہلے رسولوں کو دیا ۔ آیت کا مدعا یہ ہے کہ جزیرہ نماے عرب میں پائے جانے والے تمام ادیان پر اللہ کا پیغام غالب ہو گا۔
درحقیقت، یہ آیت عام مسلمانوں سے متعلق نہیں ہے کہ وہ زبردستی اللہ کے پیغام کو پوری دنیا کے ادیان پر نافذ کریں۔ اس کے بجاے یہ آیت پڑھنے والوں کو محض یہ خبر دے رہی ہے کہ اللہ کی منشا پوری ہونے جا رہی ہے ۔ یعنی یہ آیت کوئی ایسا حکم نہیں دے رہی کہ ہر زمانے کے مسلمان اس کی پیروی کے پابند ہوں ۔ اس کے بجاے یہ ایک حقیقت واقعہ کی پیشین گوئی ہے ، جو آیت کے نزول کے کچھ ہی عرصہ بعد پوری ہو گئی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندگی کے آخری حصے میں یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور جزیرہ نماے عرب پر اسلام کا پیغام غالب آ گیا ۔ آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آپ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم نے آگے بڑھ کر اللہ کی منشا کو گردوپیش کے علاقوں میں بالکل اسی طرح نافذ کیا جیسا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کی طرف سے آپ کے اپنے علاقے میں کیا گیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ وہ اقوام جو جزیرہ نماے عرب اور اس کے گردونواح میں آباد تھیں، وہ اس حقیقت سے باخبر تھیں کہ ایک ایسے پیغمبر کی بعثت ہو چکی ہے جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ مزید یہ کہ جس انقلاب کا قدیم صحائف میں وعدہ کیا گیا تھا، وہ حقیقت ہے ۔ مسلم فوجوں نے ان تمام علاقوں میں پیش قدمی کی جن کے حکمرانوں کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا تھا۔
دوسرے الفاظ میں، صحابہ کرام نے گردوپیش کے علاقوں میں سیاسی برتری کے ذریعے سے جو حکمرانی قائم کی، وہ رسول اللہ کے اس مشن کی توسیع تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں مامور فرمایا تھا۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ بعد کے زمانوں کے مسلمان بھی اس طرز عمل کو اختیار کریں۔ اگر اسی طرز عمل کو جاری رکھا گیا کہ پوری دنیا مسلمانوں کے زیرنگیں ہو تو اسلام جو کہ امن کا پیغام ہے عملاً جنگ اور خون ریزی کا پیغام ثابت ہو گا، اور یہ اپنے اس دعویٰ کی تردید ہو گا جو وہ اپنے بارے میں کرتا ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے ۔
ایسی آیات کی منطقی اور قابل فہم وضاحت یہی ہے کہ یہ غلبۂ اسلام کے پیغام کو بیان کرتی ہیں ۔ ان آیات میں اللہ کے اس قانون کا ذکر ہے جو رسولوں کے بارے میں ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول اپنے دشمنوں پرہمیشہ غالب رہتے ہیں ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۱)
’’اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی۔ بے شک، اللہ قوی ہے، بڑا زبردست ہے۔‘‘

ان آیات کا اطلاق اپنے اسلوب بیان اور سیاق کلام کی وجہ سے رسول اللہ کے زمانے کے ساتھ خاص ہے۔ لہٰذا بعد کے زمانوں کے غیر مسلم ممالک مسلمانوں کے لیے دارالحرب نہیں ہیں، بلکہ دارالدعوۃ ہیں، یعنی ان ممالک کے شہریوں کو اسلام کے پیغام کی دعوت دینے کی ضرورت ہے۔
مغربی ممالک میں قیام پذیر مسلمان اقلیتی شہری ہیں اور ان سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون پر عمل کرنے والے اور اپنی ذمہ داریوں کوتندہی سے سرانجام دینے والے بنیں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ ان ممالک کے رہنے والوں کو اپنے دشمن کی حیثیت سے دیکھنے کے بجاے انھیں اپنے دوست کے طور پر دیکھیں اور ان پر اپنے اچھے رویے سے مثبت اثرات مرتب کریں تاکہ انھیں اسلام کے پیغام کے قریب لانے کی راہ ہموار ہو سکے۔

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت دسمبر 2015

 

مصنف : ڈاکٹر خالد ظہیر
Uploaded on : Aug 19, 2016
1572 View