سیرت النبی: چند درخشاں پہلو

سیرت النبی: چند درخشاں پہلو

 

عالم کا پروردگار یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان اس بستی کا مکین بنے جو اس نے ایک دن جنت کے نام سے آباد کرنی ہے ، مگر اس کے لیے اس نے لازم قرار دیا ہے کہ انسان دنیا کی پر آزمایش زندگی میں سرخ رو ہو۔ قیامت کی میزانِ عدل میں اس کے ایمان اور عمل صالح کا پلڑا بھاری ہو۔
انسان کو راہِ حق پر قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انفس و آفاق میں ایسی بے شمار نشانیاں رکھ دی ہیں جن پر وہ اگر غور کرے تو اسے اللہ کی ذات ، صفات ، حقوق، قیامت اور آخرت کے دلائل میسر آ سکتے ہیں ۔ انبیاے کرام نے بھی ان نشانیوں کے اندر موجود ایسے دلائل کو بیان کیا اور انھیں مزید واضح کرنے کے لیے پیغام الہٰی عام کیا ۔ اسی طرح رسولوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے قیامت کی ایک حسی دلیل بھی پیش کی ہے ۔ اس کے لیے اس نے کسی بستی میں اپنا ایک رسول بھیجا ۔ رسول نے اس قوم کو پوری سرگرمی اور دل سوزی کے ساتھ دعوت دین دی ۔ حق کو ہر پہلو سے واضح کیا ۔ قوم کے ہر سوال کا جواب دیا ۔ ہر اعتراض کو رفع کیا۔ حتیٰ کہ اس کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی صبر کیا۔ اور قوم کو باپ دادا سے ملنے والے باطل دین کو چھوڑنے کے لیے مسلسل دعوت دی۔ اس طرح قوم ایک آزمایش میں پڑ گئی۔ جو لوگ اس آزمایش میں سرخ رو ہوئے ، انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں جزا دی ۔ انھیں اس بستی میں غلبہ حاصل ہوا ۔ اور رسول کا انکار کرنے والوں کو بالفاظ دیگر آزمایش میں ناکام رہ جانے والوں کو موت اور مغلوبیت کی سزادی ۔ یہ ایک نوع کی قیامت صغریٰ ہوتی تھی ، جو دراصل قیامت کبریٰ کی ایک حسی دلیل اور ایک جھنجوڑنے والی تذکیر ہے ۔ اس کے اندر بھی دراصل انسان ہی کی فلاح پوشیدہ ہے ۔
رسول کے منکرین کو یہ سزا دو طریقوں سے ملتی تھی ۔ اگر رسول کو سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو تو قدرتی آفات کے ذریعے سے جیسے قوم عاد، قوم ثمود اور قوم نوح کو یہ سزا ملی اور اگر رسول کو کہیں سیاسی اقتدار حاصل ہو جائے تو پھر رسول کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تھا ۔ اس لیے آپ کے منکرین کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تلواروں کے ذریعے سے موت اور مغلوبیت کی سزا ملنی تھی ۔ چنانچہ مدینہ میں اقتدار ملنے کے بعد یہ سزا دینے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منکرین کے خلاف جنگیں بھی کیں ۔ دین حق کے بڑے بڑے دشمنوں کو موت کی سزا بھی دی۔ عام اہل کتاب کو توحید پر قائم رہنے کی وجہ سے موت کی سزا تو نہیں ملی ، البتہ سیاسی طور پر مسلمانوں کے ماتحت مغلوب ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اب ختم نبوت کے بعد قیامت صغریٰ برپا کرنے کا خدائی سلسلہ ختم ہو گیاہے ۔ اسی طرح اس ضمن میں کیا جانے والا جہاد و قتال بھی اب نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ ،ظلم و عدوان کے خلاف خواہ اس کا شکار مسلمان ہوں یا غیر مسلم جہادو قتال کیا جا سکتا ہے ، مگر اس کے لیے ہم مسلمان اس وقت اس ایمانی اور حربی قوت کے حامل نہیں ہیں جو اس کے لیے درکار ہے ۔ اب ہمارا کام صرف دعوت دین ہے ۔ البتہ اگر کوئی قوم اس کام میں رکاوٹ بنے گی اور ہمارے پاس قوت ہو گی تو اس کے خلاف جہادو قتال کیا جائے گا ۔
منکرین حق کو موت کی سزا دینا ، ایک خدائی معاملہ تھاجو حضور کے ساتھ خاص تھا، اس کا تعلق شریعت کے ساتھ نہیں تھا۔ اس میں عمل کے پہلو سے ہمارے لیے کوئی اسوہ نہیں ہے ۔ یہ ہمارے لیے دراصل قیامت کی ایک حسی دلیل اور ایک جھنجوڑنے والی تذکیر ہے ۔
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا ایک پہلو ہے ۔ اس پہلو سے بھی آپ اس وقت تک بڑی کریم النفسی کا مظاہرہ کرتے جب تک مخالفین اپنی دشمنی کے آخری حدود کو نہ چھو لیتے تھے ۔ آپ کی شخصیت کا دوسرا پہلو معاملات سے متعلق ہے یعنی آپ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے کیا رویہ اختیار کرتے تھے ۔ اس پہلو کو ہم تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملے میں ہم مسلمان بہت کمزور واقع ہوئے ہیں ۔ اس میں سب سے پہلے قرآن مجید کو لیتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اس پہلو سے آپ کی شخصیت کے کس وصف کو نمایاں قرار دیتا ہے:

’’ تمھارے لیے رسول کی زندگی (کے اخلاق و اطوار) میں بہترین نمونہ ہے ۔‘‘ (الاحزاب ۳۳: ۲۱)

’’اور تم اعلیٰ کردار (بڑے پسندیدہ اخلاق) کے مالک ہو ۔ ‘‘ (القلم ۶۸: ۴)

اب سیرت النبی کے واقعات کی طرف آئیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبل از نبوت کی زندگی دیکھیں ۔ آپ جس قسم کے ماحول اور جس قسم کے لوگوں میں پیدا ہوئے ، وہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلواریں بے نیام کر لینا اور برسوں انھیں بے نیام ہی رکھنا ایک معمول کی بات تھی ۔ جنگ و جدال ایک معاشی ذریعہ بھی تھا، اس لیے کہ اس سے بہت سا مال غنیمت ہاتھ آتا تھا اور اس کو بڑے اعزاز کی بات سمجھا جاتا تھا۔ مگر آپ ایسی چیزوں سے سخت بے زار تھے ۔ دس برس کی عمر سے جو پہلا کام شروع کیا وہ گلہ بانی تھا۔ جنگ فجار قریش اور قبیلۂ قیس کے درمیان ہوئی۔ اس میں قریش برسرحق تھے ، اس لیے آپ اس میں شریک ہوئے ، مگر اس میں بھی آپ نے کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا۔ آپ بس اپنے چچا کو تیر اٹھا اٹھا کر دیتے رہے ۔ اس میں قریش غالب آئے۔ بالآخر صلح ہو گئی ۔ لڑائیوں کے متواتر سلسلے نے کئی گھر برباد کر دیے تھے ۔ اس پر بعض لوگوں نے اصلاح کی تحریک چلائی۔ فریقین میں معاہدہ ہوا کہ ہم میں سے ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں نہ رہنے پائے گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس معاہدے میں شریک تھے ۔ آپ عہد نبوت میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ اس معاہدے کے بدلے میں اگر مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیے جاتے تومیں نہ لیتا۔ آج بھی کوئی مجھے ایسے معاہدے کے لیے بلائے تو میں حاضر ہوں۔۔۔۔ بیت اللہ کی تعمیر نو کے وقت حجر اسود کو نصب کرنے کا مرحلہ آیاتو مختلف قبائل میں جھگڑا پیدا ہو گیا ۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ حجر اسود کو اس کے مقام پر نصب کرنے کا شرف اسے حاصل ہو ۔ یہ صورت حال اس قدر سنگین ہو گئی کہ تلواریں بے نیام ہو گئیں ۔ جنگ و جدال کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امن پسندی اور حکمت و دانائی کی بدولت حجر اسود کو ایک چادر میں رکھ کر سبھی قبائل کے سرداروں کو کہا کہ اس چادر کے کناروں کو پکڑیں اور خود اٹھا کر حجر اسود اس کے مقام پر نصب کر دیا۔ اس طرح سبھی قبائل کو راضی کر لیا تھا اور تلواریں نیام میں واپس داخل کرا دیں ۔ ۔۔۔تجارت کا پیشہ اختیار کیا ۔ تاجر کے محاسن اخلاق کو مجسم کر دکھایا۔ دیانت داری اور ایفاے عہد کی مثالیں قائم کیں ۔ حسن معاملہ کی ایسی شہرت ملی کہ لوگ خوشی سے آپ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے تھے ۔ آپ کا ہر شریک تجارت آپ کے حسن معاملہ کی شہادت دیتا تھا۔ حضرت خدیجہ کا غیرمعمولی کاروبار تھا۔ آپ نہایت پاکیزہ اخلاق کی حامل تھیں ۔ لوگ طاہرہ کے نام سے پکارتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راست بازی اور صدق و دیانت کی شہرت اس قدر عام ہو چکی تھی کہ زبان خلق نے آپ کو امین کا لقب دے دیا تھا۔ حضرت خدیجہ دو خاوندوں سے بیوہ تھیں ۔ کئی سردار نکاح کی درخواست کر چکے تھے ، مگر آپ انکار کر چکی تھیں ۔ حضور کے ساتھ کاروباری معاملہ کیا اور اس کے تین ماہ بعد ہی آپ کو نکاح کا پیغام دے دیا۔ ۔۔۔ آپ کے خاص احباب کی وجہ شہرت بھی جنگی مہارت نہیں ، اعلیٰ اخلاق تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق کو تو اس معاملے میں خاص شہرت حاصل ہے ۔
حالی آپ کی قبل از نبوت زندگی کا مطالعہ کر کے جس نتیجے پر پہنچے ،اس میں بھی آپ کی محبت ، شفقت اور امن پسندی نمایاں ہیں :

  

خطا کار سے درگزر کرنے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیروزبر کرنے والا
قبائل کو شیروشکر کرنے والا

 

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ جو قسم کے لوگوں میں نہیں اٹھا بیٹھا کرتے تھے ۔ ہر وقت تلوار زنی ، تیر اندازی اور گھڑ سواری کی مشق نہیں فرمایا کرتے تھے ۔ مکہ سے تین میل دور اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر غار حرا تھی جہاں آپ قیام کیا کرتے تھے ۔وہاں آپ کی مصروفیت کیا تھی ؟ غوروفکر اور عبرت پزیری ۔اسی مقام سے وحی الہٰی کا سلسلہ شروع ہوا۔ دل نور نبوت سے منور ہوا ۔ مکہ سے دعوت حق کا آغاز کیا ۔ چند لوگوں نے لبیک کہا۔ اکثر و بیشتر نے انکار کیا۔ اور نہ صرف انکار کیا ، بلکہ آپ اور آپ کے اصحاب پر سخت تشدد کیا۔ مخالفین ٹھیک دوپہر کے وقت غریب مسلمانوں کو تپتی ریت پر لٹا دیتے ۔ چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے کہ کروٹ نہ بدلنے پائیں ۔ گلے میں رسی ڈال کر گلیوں میں گھسیٹتے ۔ انگاروں کے بستر پر لٹا دیتے۔ بعض کو تو جان سے ماڑ ڈالتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے بچھادیتے ۔ اوپر سے غلاظت پھینک دیتے۔ نماز پڑھتے وقت ہنسی اڑاتے ۔ سجدے میں گردن پر جانور کی اوجھڑی ڈال دیتے ۔ شریر لڑکوں کے غول پیچھے چلتے۔ جادوگر اور مجنون کہا جاتا ۔ قاتلانہ حملے کیے جاتے ۔ دعوت حق کا یہ کام اور مخالفین حق کے مظالم کا یہ سلسلہ تیرہ سال تک جاری رہا۔اور پھر بیت اللہ کو بت کدہ بنا دیا گیا تھا ۔ آپ کے اصحاب آپ کے اشارۂ ابرو پر جان لینے اور جان دینے کے لیے تیار تھے ، مگر آپ نے کیا کیا؟ آپ نے صبر کیا اور اپنے مظلوم اصحاب کو بھی صبر کرنے کی ہدایت فرمائی ۔مکہ میں آپ اور آپ کے اصحاب کے لیے آزادی سے دین پر عمل کرنا ممکن نہ تھا۔ مخالفین کے مظالم کا بادل پیہم برس رہا تھا۔ اس کے کھلنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ و جدال کے بجائے ایک حکیمانہ تدبیر کی۔ کچھ مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی ۔ ہجرت حبشہ ہوئی ۔ یوں حبشہ میں بھی اسلام کی شعاعیں پھیلنے لگیں ۔ ادھر مکہ میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ شدید تر ہو گیا۔ مسلمانوں کو شعب ابو طالب میں محصور کر دیا گیا ۔ معاشرتی بائیکاٹ کر دیا گیا۔ آب و دانہ بند ہو گیا۔ صحابہ کو پتیاں اور چمڑا کھا کر گزارا کرنا پڑا۔ بعض فاقہ کشی سے وفات پا گئے ۔ مظالم کی شدت اس قدر بڑھ گئی کہ اسلام کا مستقبل مشکوک دکھائی دینے لگا۔ حضرت خباب بولے : یا رسول اللہ ، اب تو پانی سر سے گزر رہا ہے ، ہمارے لیے دعا کیجیے ۔آپ نے ایسے نازک موقع پر تصادم کے بجائے دوسری بات کی۔ فرمایا : پہلی امتوں میں تو یہ ہوا کہ مومن کو گڑھا کھود کر گاڑ دیاگیا۔ سر پر آرا چلا دیا گیا کہ بدن کے دو ٹکڑے ہو کر گر گئے ۔ لوہے کی کنگھیوں سے گوشت ہڈیوں سے جدا کر دیا گیا ، مگر ا س کے پاے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔ اس طرح آپ نے یہ سبق دیا کہ جب تک سیاسی اقتدار نہ ہو اور جب تک سیاسی اقتدار ہونے کے باوجود مناسب حربی قوت نہ ہو ، اس وقت تک مسلمان کا مظلومانہ مرجانا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ورنہ تصادم کی صورت میں زیادہ نقصان ہو گا۔ ۔۔۔ بہرحال آپ پھر بھی مایوس نہیں ہوئے ۔ دعوت دین کا دائرہ وسیع کر لیا۔طائف گئے ۔مگر اہل طائف بھی دشمن حق ثابت ہوئے ۔ وہ آپ پر ٹوٹ پڑے ۔ آپ پر اتنے پتھر برسائے کہ آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں ۔ اس پر بھی آپ کا رد عمل کیا تھا؟ صبر۔ ۔۔۔ مکہ میں آفتابِ حق اسی طرح چمکتا رہا ،مگر باطل کے گہرے سیاہ بادل اس کی روشنی کے پھیلاؤ میں حائل رہے ۔ بالآخر اس کی کرنیں مدینہ کے صاف افق پر پڑیں ۔ مدینہ روشن ہو گیا۔ اہل مدینہ اسلام سے متاثر ہوئے ۔ ہجرت مدینہ کا مرحلہ آیا۔۔۔۔ سیاسی اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد بھی آپ نے اپنے منکرین کو موت اور اہل کتاب کو سیاسی طور پر مغلوبیت کی سزا دینی تھی، مگر اس سے پہلے اہل کتاب کو حکمت و دانائی کے ذریعے سے قلبی طور پر مغلوب کرنے کی کوشش کی ۔ ہجرت کے پہلے سال آپ نے مدینہ کے اطراف میں آباد یہود کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا جس کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ خون بہا اور فدیہ کا جو طریقہ پہلے سے چلا آتا تھا اب بھی قائم رہے گا ۔
۲۔ یہود کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی اور ان کے مذہبی امور سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔
۳۔ یہود اور مسلمان باہم دوستانہ برتاؤ رکھیں گے ۔
۴۔ یہود یا مسلمان کو کسی سے لڑائی پیش آئے گی تو ایک فریق دوسرے کی مدد کرے گا ۔
۵۔ کوئی فریق قریش کو امان نہ دے گا ۔
۶۔ مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو دونوں فریق مل کر دفاع کریں گے ۔
۷۔ کسی دشمن سے اگر ایک فریق صلح کرے گا تو دوسرا بھی شریک صلح ہو گا ، لیکن مذہبی لڑائی اس سے مستثنیٰ ہو گی ۔
اور پھر دیکھیے منکرین کے گڑھ مکہ کو ایسی حکمت و دانائی کے ساتھ فتح کیا کہ جنگ و جدال کی نوبت ہی نہ آئی ۔
صلح حدیبیہ میں مسلمانوں اور قریش کے مابین یہ بھی طے ہوا تھا کہ جو کوئی بھی فریقین کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے ، کر سکتا ہے ۔ لہٰذا بنو خزاعہ مسلمانوں کے معاہدے میں شامل ہو گئے اور بنو بکر قریش کے معاہدے میں۔ یوں ایک دوسرے کے دشمن یہ قبائل ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہو گئے ۔ مگر بنو بکر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکانا چاہا۔ انھوں نے رات کی تاریکی میں بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ قریش نے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو بکر کی مدد کی اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آدمی بھی اس حملے میں شامل کر دیے ۔ بنو خزاعہ کے متعدد افراد مارے گئے۔ بچنے والوں میں عمرو بن سالم خزاعی اپنی جان بچا کر حضور کے پاس مدینہ پہنچے اور صورت حال سے آگاہ کیا اور مدد کی درخواست کی ۔ اوربتایا کہ قریش نے کس طرح بنو بکر کا ساتھ دیا ۔ بلاشبہ قریش نے بے جواز کھلی ہوئی بدعہدی کی ۔ قریش کو جلد ہی اپنی عہد شکنی کا احساس ہو گیا۔
قریش کے سردار ابو سفیان مدینہ میں تجدید صلح کے لیے آئے ۔ مگر حضور نے یہ تجدید نہ کی ۔ ابوسفیان کے مکہ واپس جانے کے بعد حضور نے ایک خاص تدبیر اختیار کی ۔ دس ہزار کے لشکر کے ساتھ رازداری سے مکہ کا رخ کیا۔ رات کے ابتدائی اوقات میں مہر الظہران (وادی فاطمہ) پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ لوگوں کو حکم دیا کہ بکھر کر بیٹھیں اور الگ الگ آگ جلائیں ۔ یوں دس ہزار چولہوں میں آگ جلائی گئی ۔ حضرت عمر کو پہرے دار مقرر کیا گیا۔ ابو سفیان نے یہ صورت حال دیکھی تو کہا : خدا کی قسم ، میں نے ایسی آگ اور ایسا لشکر کبھی دیکھا ہی نہیں ۔
ابو سفیان پر جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ رسول اللہ ہیں اور یہ کہ اب قریش کی تباہی ہے تو حضرت عباس کے ساتھ امان طلب کرنے کے لیے حضور کے پا س گئے۔ جب وہ حضرت عمر کے الاؤ کے قریب سے گزرے تو وہ کہنے لگے : ابو سفیان ؟ خدا کا دشمن؟ حضرت عمر نے ابو سفیان کو قتل کرنا چاہا۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہ دی ۔ آپ نے فرمایا : ابو سفیان تم پر افسوس ! کیا اب بھی تمھارے لیے وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں؟ ابوسفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ، آپٖ کتنے بردبار اور کتنے رحم کرنے والے ہیں ۔ میں اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ اگر اللہ کے سوا کوئی اور الہٰ ہوتا تو اب تک میرے کچھ کام آیا ہوتا۔ آپ نے فرمایا : ابو سفیان تم پر افسوس! کیا تمھارے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ابو سفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا۔ آپ کس قدر حلیم ، کس قدر کریم اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، مگر اس بات کے متعلق تو اب بھی دل میں کچھ کھٹک ہے ۔ اس پر حضرت عباس نے کہا : گردن مارے جانے کی نوبت آنے سے پہلے پہلے اسلام قبول کر لو اور یہ اقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ متزلزل ایمان کا اظہار تھا ،مگر حضور نے ابو سفیان کو پھر بھی معاف کر دیا حتیٰ کہ حضرت عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول، ابو سفیان اعزاز پسند ہیں، اسے کوئی اعزاز دے دیجیے ۔ آپ نے فرمایا: جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے، جو اپنا دروازہ اندر سے بند کر لے اور جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے ، اسے امان ہے۔
اسی صبح حضور مہرالظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو ہدایت کی کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑ کے ناکے کے پاس روک رکھیں تاکہ وہاں سے گزرنے والی خدائی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے ۔ مقصد یہ تھا کہ قریش کا یہ سردار نفسیاتی طور پر مسلمانوں سے اتنا مرعوب ہو جائے کہ اپنی قوم کو لڑنے سے باز رکھنے پر مجبور ہو جائے اور مسئلہ خون بہائے بغیر حل ہو جائے۔ لہٰذا جب حضور اپنے سبز دستے کے جلو میں وہاں سے گزرے تو آپ مہاجرین و انصار کے درمیان فروکش تھے ۔ ابو سفیان نے کہا : سبحان اللہ ! اے عباس ، یہ کون لوگ ہیں ؟ انھوں نے کہا : یہ انصار و مہاجرین کے جلو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ۔ ابو سفیان نے کہا : بھلا ان سے محاذ آرائی کی کون طاقت رکھتا ہے ؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا : تمھارے بھتیجے کی بادشاہی تو واللہ بڑی زبردست ہو گئی ۔ حضرت عباس نے کہا : ابو سفیان یہ نبوت ہے ۔ ابو سفیان نے کہا :ہاں اب تو یہی کہا جائے گا ۔
اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے : آج خوں ریزی اور مار دھاڑ کا دن ہے ۔ آج حرمت حلال کر لی جائے گی ۔ آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کر دی ہے ۔ اس کے بعد جب وہاں سے حضور گزرے تو ابو سفیان نے آپ کو حضرت سعد کی بات بتائی۔ اس پر حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے عرض کیا : یا رسول اللہ، ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ کریں ۔ رسول اللہ نے فرمایا : نہیں، آج کا دن تووہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی ۔ آج کا دن تو وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیجاکہ جھنڈا ان سے لے لیا جائے اور ان کے صاحب زادے قیس کے حوالے کر دیا ۔ گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا ،کہا جاتا ہے کہ پھر آپ نے جھنڈا حضرت زبیر کے حوالے کر دیا تھا۔
جب رسول اللہ ابو سفیان کے پاس سے گزر چکے تو حضرت عباس نے اس سے کہا : اب دوڑ کر اپنی قوم کے پاس جاؤ ۔ ابوسفیان تیزی سے مکہ پہنچے اور پکارا : قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں ۔ تمھارے پاس اتنا لشکرلے کر آئے ہیں کہ مقابلے کی تاب نہیں؟ لہٰذا جو ابو سفیان کے گھر گھس جائے اسے امان ہے ۔ اور جو اپنا دروازہ بند کر لے، اور جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے، اسے بھی امان ہے ۔ یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام کی طرف بھاگے ۔ اس دوران میں اللہ کے بخشے ہوئے اعزازِ فتح پر انکساری سے آپ نے اپنا سر جھکا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی سے جا لگ رہے تھے ۔
یوں مکہ فتح ہو گیا۔ قریش کے کچھ اوباش مسلمانوں سے لڑے ،مگر مارے گئے ۔ آپ نے مسجد حرام میں داخل ہو کر حجر اسود کو چوما ۔ بیت اللہ میں نماز پڑھی ۔ قریش منتظر تھے کہ آپ اب کیا کرتے ہیں ۔ آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا : ’’قریش کے لوگو، تمھارا کیا خیال ہے ،میں تمھارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں ؟ انھوں نے کہا : آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے صاحب زادے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں ۔ جاؤ تم سب آزاد ہو ۔
فتح کے روز ہی حضور ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے ۔ وہاں غسل فرمایا اور ان کے گھر میں آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ ام ہانی نے اپنے دو دیوروں کو پناہ دے رکھی تھی ۔ آپ نے فرمایا : اے ام ہانی ، جسے تم نے پناہ دی ، اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔ اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ ام ہانی کے بھائی حضرت علی بن ابی طالب ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے تھے ۔ اس لیے ام ہانی نے ان دونوں کو چھپا کر گھر کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔
البتہ اسلام کے بڑے بڑے دشمنوں کو (اس مضمون کے آغاز میں بیان کیے گئے )خاص قانون الہٰی کی رو سے موت کی سزا دی گئی اور بعض کو معاف کر دیا گیا۔
جب فتح مکہ کی تکمیل ہو گئی اور قریش پر حق واضح ہو گیا تو لوگوں نے حضور کی بیعت کرنی شروع کی ۔ اس موقع پر بھی حضور کی نرم دلی دیکھیے ۔ بیعت کے لیے ابو سفیان کی بیوی ہند بھیس بدل کر آئی۔ دراصل حضرت حمزہ کی لاش کے ساتھ اس نے جو حرکت کی تھی اس کی وجہ سے وہ خوف زدہ تھی کہ کہیں رسول اللہ اسے پہچان نہ لیں ۔ادھر حضور نے بیعت لیتے ہوئے فرمایا :میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ چوری نہ کرو گی ۔ اس پر ہند بول اٹھی : ابو سفیان بخیل آدمی ہے ۔ اگر میں اس کے مال سے کچھ لے لوں تو ؟ وہیں موجود ابوسفیان نے کہا : تم جو کچھ لے لو وہ تمھارے لیے حلال ہے ۔ رسول اللہ مسکرانے لگے ۔ آپ نے ہند کو پہچان لیا۔ فرمایا : اچھا ۔۔۔ تو تم ہو ہند ۔ وہ بولی : ہاں ، اے اللہ کے نبی، جو کچھ ہوچکا ہو، اسے معاف فرما دیجیے ۔ اللہ آپ کو معاف فرمائے ۔ اس کے بعد آپ نے فرما یا: اور زنا نہ کرو گی ۔ اس پر ہند نے کہا : بھلا کہیں حرہ (آزاد عورت) بھی زنا کرتی ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا : اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گی ۔ ہند نے کہا : ہم نے تو بچپن میں انھیں پالا پوسا ،لیکن بڑے ہونے پر آپ لوگوں نے بدر میں انھیں قتل کر دیا۔ اس لیے آپ اور وہ ہی بہتر جانیں ۔ اس پر بھی حضور تبسم فرماتے رہے ۔ یہاں یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ فتح کے موقع پر بھی آپ نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہنے والوں کو جو مغلوب اور مفتوح ہو چکے تھے ، معاف کر دیا۔ ہند نے حضور کے عزیز چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ اس وقت حضور کی بیعت کرتے ہوئے بھی گستاخانہ لب و لہجہ اختیار کیا ۔ اس کے باوجود ’’فاتح‘‘ نے انھیں معاف کر دیا۔ کوئی انتقامی کارروائی نہ کی۔اسی طرح آپ کو اس وقت بے بس کھڑے بہت سے ایسے مفتوح بھی دکھائی دے رہے ہوں گے جن کی جلادانہ سفاکیوں نے مسلمانوں کی رگ حیات کے لیے نوک خنجر کا کام کیا۔ جن کی تیز آندھیاں مدنی ریاست کے پودے کو جڑ سے اکھیڑنے کے لیے چلیں ،مگر ان کے محض اظہار اسلام ہی سے ’’فاتح‘‘ نے انھیں ہر طرح کی امان دے دی ۔ اور پھر جنگ حنین کے مال غنیمت میں سے اپنے ساتھیوں کی نسبت زیادہ حصہ مکہ کے نومسلموں کو دیا کہ ان کی تالیف قلب ہو ۔
مدینہ میں جب مسجد نبوی کی تعمیر کا مرحلہ آیا تھا تو عام لوگوں کے ساتھ مل کر تعمیر میں حصہ لیا۔ حکمران اور رعایا نے اکٹھے پتھر اٹھائے ۔ یوں دنیا میں مساوات کی یہ عجیب مثال قائم فرمائی ۔۔۔۔ اپنی ازواج کے لیے کچی اینٹوں کے اتنے چھوٹے مکان بنائے کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت چھو لیتا ۔ مکان کی لمبائی دس ہاتھ اور چوڑائی چھ سات ہاتھ تھی ۔ حد یہ تھی کہ فتح مکہ کے بعد بھی آپ کھری چارپائی پر لیٹتے اور جسم مبارک پر بانوں کے نشان پڑ جاتے ۔ ایسا رہن سہن دیکھ کر حضرت عمر جیسے صحابی رو دیے۔ گھر میں حالات کی ایسی تنگی تھی کہ آئے دن فاقے ہوتے ،جس پر ازواج مطہرات اپنی بشریت کے باعث شکوہ بھی کرتیں۔ یوں پوری دنیا میں ’’درویش حکمران‘‘ کی مثال قائم فرمائی ۔۔۔ جن امور میں وحی نہ آتی ، اصحاب کو بلا کر مشورہ کرتے ۔ صحابہ کو مشاورت کی ہدایت کرتے اور فرماتے کہ کسی ایک شخص کی رائے پر فیصلہ نہ کرو۔ سیدہ عائشہ کا قول ہے کہ انھوں نے رسول اللہ سے زیادہ کسی کو مشورہ کرنے والا نہیں پایا ۔ اس طرح دنیا کے حکمرانوں کو مشاورت اور جمہوریت کا راستہ دکھایا۔ ۔۔۔ تعلیم و تعلم کا معاملہ دیکھیے ۔ اپنے گھر کے سامنے اور مسجد نبوی کے کنارے پر ایک چبوترہ بنا دیا جس پر سائبان بھی تھا۔ یہ چبوترہ صفہ کہلاتا تھا جو دن کو مدرسہ ہوتا اور رات کو دارالاقامہ (Boarding-house)۔ یہاں ابتدائی تعلیم کے لیے معلم بھی تھے ۔ دینی تعلیم حضور دیتے ۔ اہل صفہ کے بیوی بچے نہ تھے ، وہ یہیں رہتے تھے ۔ ان میں سے ایک ٹولی جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی اور بیچ کر اپنے بھائیوں کے لیے کھانا مہیا کرتی ۔ اہل صفہ بارگاہ نبوت میں حاضر رہتے ۔ دین کی تعلیم پاتے اور عبادت کرتے رہتے ۔ حضرت ابوہریرہ انھی لوگوں میں سے تھے ۔ ان میں سے جس کا نکاح ہو جاتا ، وہ اس حلقے سے نکل جاتا تھا۔ حضور کے پاس جو دعوت کا کھانا آتا ، آپ اہل صفہ کو پاس بلالیتے اور ساتھ بیٹھ کر کھاتے ۔ دعوت اسلام کے لیے یہ لوگ بھیجے جاتے ۔ غزوۂ معونہ میں انھی میں سے ستر آدمی اسلام سکھانے کے لیے بھیجے گئے تھے جنھیں دھوکے سے شہید کر دیا گیا تھا۔جنگ بدر کے وہ قیدی جو فدیہ ادا نہ کر سکے ، انھیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ مدینہ میں رہ کر وہ لوگوں کو لکھنا سکھا دیں ۔ حضرت زید بن ثابت کو حکم دیا کہ عبرانی زبان لکھنا پڑھنا سیکھ لیں کہ یہود کبھی دھوکا نہ دے سکیں ۔ ۔۔۔ مدینہ میں یہود اور منافقین مختلف بہانوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ستاتے تھے۔ بعض اوقات مسلمان جذباتی ہو جاتے ، تصادم کی راہ اختیار کرنے لگتے ، مگر آپ حکمران ہونے کے باوجود صبر و ضبط سے کام لیتے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت فرماتے ۔ ایک دفعہ منافق عبد اللہ بن ابی نے آپ کی تحقیر بھی کی ۔ صحابہ اس تحقیر پر برہم ہوئے ۔ قریب تھا کہ کشت و خون ہو ، حضور نے معاملے کو ٹھنڈا کر دیا۔ ۔۔۔ آپ نے اپنے اصحاب کو جو دوسرے پہلوسے آپ کی رعایا بھی تھے ، اظہار رائے کی غیر معمولی آزادی دے رکھی تھی ۔ جنگ بدر کے ضمن میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ حضرت حباب بن منذر نے عرض کیا کہ جو مقام منتخب کیا گیا ہے ، یہ وحی الہٰی ہے یا آپ کی فوجی تدبیر ؟ ارشاد ہوا کہ وحی نہیں ہے ۔ حضرت حباب نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ آگے پڑاؤ ڈالا جائے ۔ آگے پانی کے چشمے پر قبضہ کر لیا جائے ۔ اس کے پاس کے چشمے بے کار کر دیے جائیں تاکہ ہمیں پانی میسر رہے اور قریش اس سے محروم رہیں ۔ حضور ایک پیغمبراور حکمران بھی تھے ، مگر حضرت حباب کی تجویز کو دلیل کے اعتبار سے بہتر پایا اور اس پر عمل کیا کیا آج ہماری مذہبی دنیا حیات نبوی کے اس پہلو کو جانتی ہے ؟ اگر جانتی ہے تو ا س پر عمل کرنا پسند کرتی ہے ؟ صلح حدیبیہ کی رو سے یہ طے پایا تھاکہ کافروں اور مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر مدینہ جائے تو اسے واپس کر دیا جائے گا ۔ صلح کے بعد نو مسلم حضرت ابوجندل اور حضرت ابوبصیر مکہ سے بھاگ آئے ۔ کفار ان پر بہت ظلم کرتے تھے ،مگر حضور نے صبر و ضبط اور عہد کی پاس داری کا مظاہرہ کیا اور ان افراد کو مکہ واپس جانے کی ہدایت کی ۔
آپ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملتے ۔بچوں سے بھی ملاقات ہوتی توسلام میں پہل کرتے ۔مجلس میں کوئی آتا تو جگہ ہونے کے باوجود ایک طرف کو سرک جاتے ۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والاہر شخص یہ خیال کرتا کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم میں ہی ہوں ۔ عورتوں کے نازک طبع اور ضعیف القلب ہونے کی وجہ سے ان کا خاص خیال رکھتے ۔ ایک دفعہ ایک سفر میں ازواج مطہرات ساتھ تھیں ۔ الحبشہ نامی ایک حبشی غلام حدی خواں تھے ۔ ایک مقام پر اونٹ زیادہ تیز چلنے لگے۔ آپ نے عورتوں کے حوالے سے فرمایا : الحبشہ دیکھنا ، یہ آبگینے ٹوٹنے نہ پائیں ۔۔۔ ایک دفعہ آپ سیدہ عائشہ کے گھر میں منہ ڈھانک کر لیٹے ہوئے تھے ۔ عید کا دن تھا۔ سیدہ عائشہ کے پاس بیٹھی بچیاں کچھ گا بجا رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق آئے تو سخت برہم ہوئے ۔ آپ نے فرمایا: ان کو گانے دو۔ ان کی عید کا دن ہے ۔۔۔۔ سیدہ عائشہ اپنی کم عمری کے باعث لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں ۔ آپ تشریف لاتے تو یہ لڑکیاں بھاگ جاتیں ۔ آپ ان کو بلا کر سیدہ عائشہ کے پاس بھیج دیتے ۔ ۔۔۔ حضرت ابوبکر کی ایک صاحب زادی اسما رضی اللہ عنھا گھوڑے کے لیے دور سے گھاس وغیرہ سر پر لاد کر لا رہی تھیں ۔ آپ نے انھیں دیکھا۔ آپ اونٹ پر سوار تھے ۔ ان کے قریب اونٹ کو بٹھا دیا کہ وہ سوار ہو لیں۔ سیدہ اسما شرمائیں ۔ آپ نے دیکھا کہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے نہیں بیٹھ رہیں تو کچھ نہیں فرمایا اور آگے بڑھ گئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت ابوبکر کو اس مسئلے کی جانب متوجہ کیا ، کیونکہ اس کے بعد حضرت ابوبکر نے حضرت اسما کے پاس گھوڑے کی خدمت کے لیے ایک خادم بھیج دیا۔۔۔۔ شادی کے بعد سیدہ فاطمہ کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے پر کھڑے ہو کر اذن مانگتے ،پھر اندر تشریف لاتے ۔ ۔۔۔ سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد جب کبھی گھر میں جانور ذبح ہوتا تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سیدہ خدیجہ کی ہم نشیں عورتوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے ۔ سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے خدیجہ (رضی اللہ عنھا) کو نہیں دیکھا تھا ، لیکن مجھ کو جس قدر ان پر رشک آتا تھا کسی کے اوپر نہیں آتا تھا۔ ۔۔۔ ایک بار سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ نے سیدہ صفیہ سے کہا :تم یہودی کی بیٹی ۱؂ ہو۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ معزز ہیں ۔ ہم آپ کی بیوی بھی ہیں اور چچا زاد بہن بھی ۔ سیدہ صفیہ رنجیدہ خاطر ہو گئیں۔حضور سے شکایت کی ۔ آپ نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ تم مجھ سے زیادہ کس طرح معزز ہو سکتی ہو ۔ میرے شوہر محمد، میرے باپ ہارون اور میرے چچا موسیٰ ہیں ۔ ۔۔۔ایک سفر میں ازواج مطہرات ساتھ تھیں ۔ سیدہ صفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا ۔ سیدہ زینب کے پاس ضرورت سے زیادہ اونٹ تھے ۔ آپ نے کہا کہ ایک اونٹ صفیہ کو دے دو۔ انھوں نے کہا : میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں ؟ اس پر آپ اس قدر ناراض ہو ئے کہ دو مہینے ان کے پاس نہ گئے۔۔۔۔ ایک دفعہ سیدہ عائشہ ناراضی میں آپ کے ساتھ بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں ۔ حضرت ابوبکر آ گئے ۔ بیٹی کو تھپڑ مارنا چاہا۔ آپ بیچ میں آ گئے ۔ حضرت ابوبکر غصے میں باہر چلے گئے ۔ آپ نے سیدہ عائشہ سے کہا : کیوں ، تم کو کیسا بچا لیا۔ ۔۔۔ایک دفعہ آپ نے سیدہ عائشہ سے کہا :آؤ تیز قدمی میں مقابلہ کریں ۔ سیدہ عائشہ اس وقت دبلی پتلی تھیں ، آگے نکل گئیں ۔ پھر جب سیدہ عائشہ کی عمر بڑھی تو وزن بھی بڑھ گیا۔ آپ نے فرمایا :ایک مرتبہ پھر ویسا ہی مقابلہ ہو جائے۔ اس دفعہ سیدہ عائشہ پیچھے رہ گئیں ۔ آپ نے فرمایا : یہ اس دن کا جواب ہے۔۔۔۔ ایک صحابی نے اپنے دور جاہلیت کا واقعہ سنایا کہ جب عرب میں لڑکیوں کو مار ڈالنے کا دستور تھا،میں نے اپنی لڑکی کو زندہ زمین میں گاڑا تو وہ ابا ابا کہہ کر پکار رہی تھی ۔ اور میں اس پر مٹی کے ڈھیلے ڈال رہا تھا۔ آپ نے یہ واقعہ سنا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
حضرت عباس بدر میں گرفتا رہو گئے ، ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ دیے گئے تھے ۔ وہ درد سے کراہ رہے تھے ۔ لیکن آپ نے یہ سوچ کر ان کے ہاتھ کھولنے کا حکم نہ دیا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اپنے رشتے دار کے ساتھ غیر مساویانہ ہمددری ہے ۔ مگر ان کے کراہنے کی آواز سے آپ کو نیند نہیں آ رہی تھی ۔بے چین ہو کر کروٹیں بدل رہے تھے ۔ لوگوں نے وجہ سمجھ کر خود ہی گرھیں ڈھیلی کر دیں ۔ حضرت عبا س کا کرب ختم ہوا تو آپ کی بے چینی بھی رفع ہو گئی ۔۔۔۔ حضرت مصعب بن عمیر اسلام لانے سے قبل بہت قیمتی لباس پہنتے تھے ۔ مسلمان ہونے کے بعد والدین کی محبت عداوت میں بدل گئی۔ ایک دفعہ آپ نے حضرت مصعب بن عمیر کا لباس دیکھا کہ پیوند سے ایک کپڑا بھی سالم نہ تھا تو آب دیدہ ہو گئے ۔
خوش طبعی اور لطیف مزاجی بھی حسن خلق کا ایک پہلو ہے ۔ ایک بڑھیا سے کہا : بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی ۔ بڑھیا رونے لگی ۔ آپ نے متبسم ہو کرفرمایا: بوڑھی عورتیں جنت میں جوان ہو کر داخل ہوں گی ۔ وہ بوڑھی نہیں رہیں گی ۔ ایک شخص نے عرض کیا : کوئی سواری عنایت ہو ۔ ارشاد ہوا : میں تم کو اونٹنی کا بچہ دوں گا ۔ وہ شخص بولا : میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ فرمایا : کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو ۔
حیوانات کے معاملے میں بھی رحم کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کے گلے میں کلادہ لٹکانے سے روک دیا ۔ جانوروں کو باہم لڑانا ناجائز قرار دیا۔ ایک دستور یہ تھا کہ جانور کو باندھ کر تیر اندازی کی مشق کی جاتی ۔ آپ نے سختی سے اس کی ممانعت فرمائی۔ ایک گدھے کے چہرے کو داغ دار دیکھا تو فرمایا :جس نے اس کا چہرہ داغ دار کیا اس پر خدا کی لعنت ہے ۔ ایک سفر میں ایک مقام پر ٹھہرے ۔ وہاں ایک پرندے نے انڈا دیا ہوا تھا۔ ایک شخص نے اس کا انڈا اٹھا لیا۔ چڑیا بے قرار ہو کرپر مارنے لگی ۔ آپ نے دریافت فرمایا :اس کا انڈا چھین کر کس نے اس کو اذیت دی۔ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ مجھ سے یہ حرکت سرزد ہوئی ۔ فرمایا : اسے وہیں رکھ دو ۔ آپ کسی جانور کے ساتھ زیادتی ہوتی دیکھتے تو لوگوں سے کہتے کہ ان بے زبانوں کے متعلق خدا سے ڈرو۔
یہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درخشاں سیرت کے چند ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپٖ انسانوں کے ساتھ کیسے معاملہ کرتے تھے ۔ کاش ! ہمارے اندر بھی صبر و ضبط ، محبت وشفقت ،حکمت و دانائی، عدل و انصاف ، جودوسخا ، ایثارووفا ، سادگی و بے تکلفی ،تواضع و خاک ساری،اعتدال و میانہ روی،حلم و بردباری، عہد کی پاس داری، مہمان نوازی، وسیع القلبی، رقیق القلبی اورغیر مسلموں، عورتوں، بچوں، ہم سائیوں، یتیموں، بیماروں، حاجت مندوں،قرابت مندوں حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنے جیسے اوصاف پیدا ہو جائیں تو ہم بڑے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ غیر مسلم ہم سے ڈرنے کی بجائے ہم سے محبت کرنے لگیں ، ہم سے دور بھاگنے والے ہماری طرف لپکنے لگیں ، اور ہمارے بہت سے دشمن ہمارے دوست بن جائیں ، بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ مسلمان بن جائیں ۔


_____________

  

۱؂ سیدہ صفیہ بنو نضیر کے رئیس حئ بن اخطب کی بیٹی تھیں۔آپ کا اصل نام زینب تھا۔عرب میں مال غنیمت کا جو بہترین حصہ بادشاہ کے لیے خاص ہوتا تھا ، اسے صفی کہا جاتا تھا۔ اس لیے آپ صفیہ ہی کے نام سے مشہور ہوئیں۔آپ جنگ خیبر میں مسلمانوں کی فتح کے بعد گرفتار ہوئیں۔ ایک صحابی نے حضور سے عرض کیا کہ یہ رئیس کی بیٹی ہیں ، ان کے لیے آپ ہی موزوں ہیں۔ چنانچہ حضور نے آپ کے ساتھ نکاح کرکے انھیں اپنی ازواج میں شامل کر لیا۔

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت فروری 2002
Uploaded on : Aug 24, 2016
2471 View