دیو بند کانفرنس اور مذہبی سیاست - خورشید احمد ندیم

دیو بند کانفرنس اور مذہبی سیاست

 

دیو بند کانفرنس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ یہ ایک مخصوص مذہبی عصبیت رکھنے والوں کا اجتماع تھا جن کے پیشِ نظر اپنی سیاسی قوت کا اظہار تھا ۔ تاہم، ہمارے نزدیک، چند اور پہلو ؤں سے بھی اس اجتماع کا مطالعہ کیا جانا چاہیے ۔ ان میں سب سے اہم مذہبی عصبیت اور عملی سیاسی حقائق کا تعلق ہے۔ ہمارے ہاں یہ وہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں مذہبی جماعتیں ایک عرصہ سے ابہام کا شکار ہیں۔ وہ ان دونو ں کے باہمی تعلق کو درست تناظر میں نہیں دیکھ سکیں جس کے باعث ملکی سیاست میں ان کا عملی کردار دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔
دیو بند ہماری تاریخ میں ایک مذہبی فکر کا عنوان ہے او رایک سیاسی موقف کا بھی۔ مذہبی اعتبار سے یہ تصوف و حنفیت کے اس امتزاج کا نام ہے جو اپنا تعلق اس روایت سے جوڑتا ہے جس کے اہم سنگِ میل شیخ احمد سرہندی،شاہ ولی اللہ، سید احمد بریلوی اور امداد اللہ مہاجر مکی ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اس کا سب سے نمایا ں حوالہ جمعیت علماے ہند ہے، اگرچہ ریشمی رومال کی تحریک، تحریکِ خلافت اور اس سے قبل ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کو بھی یہ اپنی سیاسی تاریخ کا تسلسل قرار دیتے ہیں ۔ تقسیمِ ہند سے قبل یہ دونوں روایات ایک ساتھ آگے بڑھتی رہیں اور انھیں اس حوالے سے کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ جو لوگ ان کے مخاطب تھے، ان کے سیاسی مفادات ایک تھے۔ اس دور میں تقسیمِ کا ر کا ایک نقشہ سامنے آتا ہے جس کے تحت علمی و فکری پہلو سے دارالعلوم دیو بند اور اس سے متعلق دینی مدارس کا ایک نظام متحرک تھا، سیاسی امور کو جمعیت علماے ہند کے فورم سے اٹھایا جاتا تھا اور تبلیغی و دعوتی کام مولانا محمد الیاس کے قافلے نے سنبھال لیا، جسے ہم تبلیغی جماعت کے نام سے جانتے ہیں۔ تقسیمِ کار کے اس نظام سے بھی مذہبی و سیاسی مطالبات کا تفاوت اتنا نمایاں ہو کر سامنے نہیں آیا جو ہمیں بعض دیگر معاصر مذہبی جماعتوں میں دکھائی دیتا ہے۔
تقسیمِ ہند نے سیاسی اعتبار سے معاملات کی نوعیت کو یکسر بدل دیا۔ اس حوالے سے دیو بندی عصبیت کے حامل تقسیم سے پہلے ہی دو حصوں میں بٹ چکے تھے۔ ایک کانگریس کا ہم نوا تھا اور دوسرا مسلم لیگ کا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ایک فطری تقاضے کے تحت وابستگانِ دیو بند مستقل طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ پاکستان میں بسنے والوں نے اپنے لیے جمعیت علماے اسلام کا نام منتخب کیا جبکہ بھارت کے دیو بندی پرانے نام ہی سے منظم رہے۔ مذہبی جماعتوں میں تقسیم کی یہ واحد مثال نہیں ہے۔ جماعتِ اسلامی سمیت بعض دیگر جماعتیں بھی اس عمل سے گزری ہیں۔ تقسیمِ ہند اتنا بڑا واقعہ تھاکہ اس کے بعد یہ جماعتی تقسیم ناگزیر تھی۔ اس تقسیم سے ان جماعتوں کے مذہبی موقف میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن سیاسی اعتبار سے انہیں مجبوراً مقامی حالات کے تابع ہونا پڑا۔ بھارت میں بسنے والوں کو بہر حال، بھارت ہی کا وفادار ہونا تھا اور پاکستان میں رہنے والوں کو پاکستان کا۔
یہ معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا اگر پاکستان اور بھارت کے باہمی مفادات متصادم نہ ہوتے۔ مفادات کے اس تصادم نے دونوں اقوام کوایک دوسرے کے بالمقابل لا کھڑا کیا۔ اب بھارت کے حق میں کلمہء خیر کہنا پاکستان میں حبِ وطن کے برخلاف تھا اور یہی معاملہ بھارت کے شہریوں کے لیے تھا‘ قطعِ نظر اس بات سے کہ ان کا تعلق کس مذہب سے ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال مسئلہء کشمیر ہے۔ زیرِ نظر دیو بندی کانفرنس میں یہ مسئلہ پوری شان سے اٹھا۔ اس کانفرنس میں چونکہ بھارت سے آنے والے علما بھی شریک تھے، جن میں دارالعلوم دیو بند کے مہتمم بھی شامل تھے، اس لیے یہاں اس رائے کا اعادہ نہ کیا جا سکا جو اس باب میں پاکستان کے دیو بندی حلقے رکھتے ہیں۔ اس وقت جو لوگ یہ موقف رکھتے ہیں کہ مسئلہء کشمیر کا حل عسکری جدوجہد یا جہاد میں ہے ، ان میں سب سے نمایا ں گروہ خود کو دیو بند مدرسہ سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر حرکت الانصار اور جیشِ محمد۔ یہ لوگ اپنے اس کارنامے کو نمایاں طو رپر بیان کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی آزادی کی عسکری جدوجہد میں سب سے زیادہ شریک ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ موقف ان دیو بندی حضرات کا نہیں جو ہندوستان میں ہیں۔ وہ یا تو اسے جہاد نہیں سمجھتے یا اس باب میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اگر ان کے حالات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اس طرزِ عمل پر تنقید کا کوئی جوا ز نہیں۔ ان کے پیشِ نظر ان کروڑوں مسلمانوں کا مفاد ہے جو اس وقت بھارت کے شہری ہیں۔ وہ کوئی ایساموقف علانیہ اختیار نہیں کر سکتے جو بھارت کے قومی مفادات سے ٹکراتا ہو یا اس کے سرکاری موقف سے مختلف ہو۔ یہ لوگ بھارت کے شہری ہونے کے ناطے اپنی ریاست سے محبت رکھتے اور اس کے خیر خواہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ اس توجیہہ کے باوجود یہ عملی حقیقت تو اپنی جگہ باقی رہتی ہے کہ مسئلہء کشمیر پر پاکستان کے دیو بندی ایک رائے رکھتے ہیں اور بھارت کے دیو بندی دوسری ۔۔۔ جہاں تک مذہبی عقائد اور آرا کا تعلق ہے تو انھیں اس معاملے میں کسی طرح کا تفاوت محسو س نہیں ہوتا۔ یہ ممکن ہے کہ دارالعلوم دیو بند کوئی فتویٰ دے اور یہاں کے دیو بندی اسے قبول کر لیں یا پاکستان کے کسی مدرسے، مثال کے طور پر بنوری ٹاؤن کراچی یا اکوڑہ خٹک کے دارالافتا کا فتویٰ بھارت کے دیو بندیوں کے لیے بھی قابلِ اتباع ہو۔ گویا مذہبی معاملات میں ایک رائے رکھنے کے باوجود وہ سیاسی معاملات میں مختلف الرائے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی تقاضے دوسرے ہیں اور علمی تقاضے دوسرے ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ علمی اور سیاسی کام ایک پلیٹ فارم سے نہیں کیے جا سکتے۔ کیونکہ ان کے مطالبات ایک دوسرے سے مختلف، بلکہ بعض اوقات متصادم بھی ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ مسئلہ ان لوگوں کو بھی در پیش ہے جنھوں نے علمی اورسیاسی کام ایک ہی نظم کے تحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر علمی کام ایک فکری عصبیت پر منتج ہوتا ہے۔ اب اگر کسی علمی کام کے ساتھ کسی اجتماعیت کو منظم کرنے کی کوشش کی جائے گی تو وہ لازماًایسے لوگوں ہی کا اجتماع ہوگاجو اس خاص علمی نقطہء نظر کے حامل ہوں گے۔ا س کے بر خلاف سیاسی کام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پوری قوم کو ساتھ لے کر چلے اور اس میں تمام نقطہ ہاے نظر کے لوگ خود کو اجنبی محسوس نہ کریں۔ یہ صلاحیت ایسی جماعت میں ہو سکتی ہے جو کوئی خاص علمی عصبیت نہ رکھتی ہو اور قومی دلچسپی کے امورپر لوگوں کو مجتمع کرنے کی علم بردار ہو۔ آج پاکستان میں کوئی مذہبی سیاسی جماعت ایسی نہیں جواپنا مخصوص علمی و دینی پس منظر نہ رکھتی ہو۔ چنانچہ جب وہ اپنے دامن کو وسعت دینا چاہتی ہے تو یہ پس منظر اس کے پاؤ ں کی زنجیر بن جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن بھی اس بات کے علم بردار ہیں کہ جمعیت علماے اسلام کسی خاص مذہبی فکر کی حامل جماعت نہیں، بلکہ ایک سیاسی پلیٹ فارم ہے جو پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ چنانچہ وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ قومی و سیاسی امور ہی پر اظہارِ خیال کریں اور علمی و مذہبی موضوعات پر کوئی رائے نہ دیں۔ ممکن ہے کہ ان کا یہ دعویٰ درست ہو، لیکن کیا اس قوم کے دیگر طبقات یہ باور کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے۔ خود اس کانفرنس کا عنوان اس بات کا اعلان ہے کہ وہ اصلاً ایک خاص مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں کا گروہ ہے۔چنانچہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنی جانب متوجہ نہیں کر سکتے جو بریلوی، شیعہ یا اہلِ حدیث فکر کا حامل ہے۔
اس بات کوا یک دوسرے پہلو سے دیکھیے۔ آج اہلِ تشیع اور بریلوی حضرات کے بارے میں جن جماعتوں نے انتہا پسندانہ موقف اختیار کیا ہے، انھوں نے دیو بندی مدارس ہی سے جنم لیا ہے۔ سپاہِ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی نہ صرف دیو بندی تھے، بلکہ جمعیت علماے اسلام کے بھی عہدے دار تھے۔ چند ماہ پہلے کراچی میں دہشت گردی کاشکار بننے والے مولانا محمد یوسف لدھیانوی اس عہد کے دیو بندی علما میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ اہلِ تشیع کے بارے میں ان کا موقف وہی تھا جو سپاہِ صحابہ کا ہے۔ اس کے بر خلاف جمعیت علماے اسلام جب ایک سیاسی فورم کی جگہ پر کھڑی ہوتی ہے تو وہ یہ موقف اختیار نہیں کرتی۔ دیو بند کانفرنس میں ایران سے ایک وفدشریک ہوا اور اس میں شیعہ سنی تقسیم کو مسلمان دشمنوں کی سازش قرار دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس تضاد کی کوئی توجیہہ کیا ممکن ہے؟
اس طرح کے تضادات کا شکار صرف جمعیت علماے اسلام نہیں ہے، بلکہ ہر وہ جماعت ہے جو کسی خاص مذہبی عصبیت یا فکر کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ کیا جناب طاہر القادری اپنے بریلوی پس منظر کو خود سے جدا کر سکتے ہیں؟ جماعتِ اسلامی نے خود کو شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی کی تقسیم سے تو بلند کر لیا، لیکن کیا وہ مولانا مودودی کی فکر سے بھی دامن چھڑا سکتی ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمن اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت قومی جماعت بنے تو انھیں اس دیو بندی عصبیت سے باہر آنا ہو گا۔ طاہر القادری صاحب اگر قومی رہنما بننا چاہتے ہیں تو انھیں اس شخصیت سے جان چھڑانا ہو گی جس سے لو گ ایک بریلوی عالم کی حیثیت سے متعارف ہیں۔ قاضی حسین احمد صاحب اگر کسی قومی فورم کووجود میں لانا چاہتے ہیں تو اس کا نام یقیناًجماعتِ اسلامی نہیں ہو سکتا۔ کسی سیاسی کامیابی کے لیے ان لوگوں کو اپنے مخصوص مذہبی پس منظر سے باہر آنا ہو گا اور اصولاً اسی طرح سیاست کرنا ہو گی جس طرح مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ان حضرات کے لیے ممکن ہے؟
علمی کام اور سیاسی کام کے یہ تضادات ہیں، جن کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں یہ مذہبی جماعتیں ہر طرح کے حربے استعمال کرنے کے باوجود، وہ سیاسی عصبیت حاصل نہیں کر سکتیں جو پیپلز پارٹی یا جناب نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کو حاصل ہوئی تھی۔ اس مسئلے کا حل حکمتِ عملی میں تلاش کرنے کے بجائے اگر یہ مذہبی جماعتیں اپنی ہیئتِ ترکیبی پر غور کرتیں تو انھیں اصل خرابی کے بارے میں معلوم ہو جاتا اور وہ اپنی توانائیاں کسی سعیِ لا حاصل پر صرف نہ کرتیں۔ یہ بات بھی اب تجربات سے ثابت ہو چکی ہے کہ سیاسی اور مذہبی عصبیتیں الگ الگ وجود رکھتی ہیں۔ ایک آدمی اگرمذہبی اعتبار سے دیو بندی ہے تو یہ کچھ لازم نہیں کہ وہ سیاسی طو رپر جمعیت علماے اسلام سے وابستہ ہو یا اگر کوئی شخص شیعہ ہے تو وہ ہر صورت میں تحریکِ جعفریہ کا رکن ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا تومسلم لیگ اورپیپلز پارٹی ہر طرح کی عصبیت سے محروم ہوتیں کیونکہ وہ کسی مذہبی عصبیت کی نمائندہ نہیں ہیں۔ دیو بند کانفرنس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی تھی، لیکن اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ یہ لوگ سیاسی اعتبار سے بھی وہی موقف رکھتے ہیں جو مولانا فضل الرحمن کا ہے۔
گزشتہ پچاس برسوں میں ہمارے ہاں بہت سے لوگوں نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ کسی موجودہ مذہبی عصبیت کو سیاسی عصبیت میں بدل دیں یا پہلے ایک نئی مذہبی و علمی عصبیت پیدا کریں اور پھر اسے سیاسی عصبیت میں تبدیل کر دیں ۔ ان سارے تجربات پر اگر نظر ڈالیں تو معاملہ وہی نظر آتا ہے کہ:

سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا

دیو بندی کانفرنس میں مسئلہء کشمیر پر سامنے آنے والے اختلاف سے سیاسی اور عملی کام کے مختلف تقاضے ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں، اس لیے جب تک سیاسی اور علمی کام کے اس تفاوت کو نہیں سمجھا جائے گا او رجب تک لوگ یہ نہیں مانیں گے کہ سیاست اہلِ سیاست ہی کاکام ہے، ہمارے مذہبی لوگ سیاست کے صحرا میں بھٹکتے رہیں گے ۔ اس صحرا نوردی کا انجام کسی چشمِ بینا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔وصالِ یار کا تو خیر کیا امکان، اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی کب کی نیلام ہو چکی ہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جون 2001
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Nov 26, 2018
1052 View