اللہ کے ذکر کے بغیر کہی ہوئی بات کا ناپسندیدہ ہونا - امین احسن اصلاحی

اللہ کے ذکر کے بغیر کہی ہوئی بات کا ناپسندیدہ ہونا

 

ترتیب و تدوین: خالد مسعود ۔ سعید احمد

(مَا یُکْرَہُ مِنَ الْکَلَامِ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ)

 

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ ابْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَیَانِھِمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا أَوْ قَالَ: إِنَّ بَعْضَ الْبَیَانِ لَسِحْرٌ.
’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ دو آدمی مشرق سے آئے تو انھوں نے اپنی بات اس خوبی سے کہی کہ سب لوگ اَش اَش کر اٹھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلام میں جادو ہوتا ہے یا یوں فرمایا کہ بعض کلام جادو ہوتا ہے۔‘‘

وضاحت

عرب کے مشرق میں عراق اور ایران ہیں۔ یہ دونوں شخص انھی علاقوں کے رہے ہوں گے، لیکن تھے یہ دونوں بڑے خطیب اور انھوں نے سامعین کو بے حد متاثر کیا۔ بلاشبہ، خطابت بڑا فن ہے اور اس میں سحر ہوتا ہے جو سامعین کو مسحور کر لیتا ہے۔

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَانَ یَقُوْلُ: لَا تُکْثِرُوا الْکَلَامَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ فَتَقْسُوَ قُلُوْبُکُمْ فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِیَ بَعِیْدٌ مِّنَ اللّٰہِ وَلٰکِنْ لَا تَعْلَمُوْنَ وَلَا تَنْظُرُوْا فِیْ ذُنُوْبِ النَّاسِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ وَانْظُرُوْا فِیْ ذُنُوْبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِیْدٌ فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًی وَ مُعَافًی فَارْحَمُوْا أَھْلَ الْبَلَاءِ وَاحْمَدُوا اللّٰہَ عَلَی الْعَافِیَۃَ.
’’امام مالک کو یہ بات پہنچی کہ عیسیٰ ابن مریم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں نہ کیا کرو، ورنہ تمھارے دل سخت ہو جائیں گے، اور سخت دل اللہ سے بہت دور ہوتا ہے، لیکن تم جانتے نہیں۔ اور لوگوں کے گناہوں پر آقاؤں کے طریقے پر نگاہ نہ ڈالو، بلکہ اپنے گناہوں پر غلاموں کے طریقے سے نگاہ رکھو۔ ہر شخص ابتلا میں ڈالا جاتا ہے اور معافی بھی ملتی ہے۔ تو جو لوگ ابتلا میں ڈالے جائیں، ان پر رحم کرو۔ اورا للہ کا شکر کیا کرو جب عافیت نصیب ہوئی ہو۔‘‘

وضاحت

اگرچہ حضرت عیسیٰ کا یہ قول انجیلوں میں موجود نہیں، لیکن بات بالکل ٹھیک ہے کہ زیادہ کلام سے دل سخت ہو جاتا ہے۔ میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی بھی کہا کرتے تھے کہ زیادہ تقریریں کرنے سے آدمی کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ جو لوگ زیادہ تقریر کرتے ہیں، یہ واقعہ ہے کہ میں نے ان کو بے حد سنگ دل پایا۔

حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عَاءِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تُرْسِلُ اِلٰی بَعْضِ أَھْلِھَا بَعْدَ العَتَمَۃِ فَتَقُوْلُ: أَلَا تُرِیْحُوْنَ الْکُتَّابَ.
’’مالک کو یہ بات پہنچی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کچھ عزیزوں کے پاس عشاء کے بعد اپنا آدمی بھیجتیں اور کہتیں: ابھی کراماً کاتبین کو آرام نہیں کرنے دو گے!‘‘

وضاحت

معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کے یہ عزیز عشاء کے بعد باتوں میں مصروف رہتے تھے۔ بالآخر ام المومنین کو یہ پیغام بھیجنا پڑتا کہ یہ بکواس کب تک جاری رہے گی۔ خدا کے بندو، اب تو کراماً کاتبین کو آرام کرنے کا موقع دو۔
ہمارے معاشرہ میں بھی یہ حال ہے کہ ۹ بجے شب کے بعد اصلی زندگی شروع ہوتی ہے۔ رات کو بیگمات، صاحبزادیاں اور شہزادگان اپنے تمام کھلونوں کے ساتھ کھیل میں لگ جاتے یا بازار کا رخ کرتے ہیں کہ ان کے لیے باہر نکلنے کا وقت یہی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو بستر پر لیٹنے کا وقت بارہ ایک بجے شب ملتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فجر کے وقت ان کے بیدار ہونے کا تصور ہی نہیں ہوتا۔ اس حیوانی زندگی میں اللہ کی یاد کے لیے کوئی وقت نہیں ہوتا۔

(تدبر حدیث ۵۰۵۔۵۰۷)

 

____________

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت اپریل 2015ء
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Jan 01, 2016
1569 View